ویسٹ انڈیز کو شکست؛ سیریز 2-0 سے سری لنکا کے نام

3 ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے سری لنکا کے دورہ پر موجود ویسٹ انڈیز کو میزبان ٹیم نے آؤٹ کلاس کردیا۔ کھیل کے تینوں شعبوں بلے بازی، گیند بازی اور فیلڈنگ میں سری لنکا نے بہترین کارکردگی دکھا کر سیریز 2-0 سے جیت لی۔ آخری میچ میں کپتان کمار سنگاکارا کی ذمہ دارانہ بلے بازی اور پھر گیند بازوں خصوصاً اجنتھا مینڈس اور تھسارا پریرا کی شاندار گیند بازی نے کالی آندھی کہلانے والی ویسٹ انڈیز کی شکستوں کے سلسلہ کو مزید طویل کردیا اور اسے مسلسل ساتویں ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

کولمبو کے سنہا لیز اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے سیریز کے آخری میچ میں سری لنکا نے ویسٹ انڈیز کو 278 رنز کا ہدف دیا جس کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کا آغاز گولڈن ڈک سے ہوا۔ کرس گیل (0) کو فرنینڈو نے اننگ کی پہلی ہی گیند پر آؤٹ کردیا۔ اگلے اوور میں تھسارار پریرا نے ایڈرین باراتھ (0) کو بھی اس وقت چلتا کیا جب ویسٹ انڈیز کا اسکور صفر تھا۔ یکے بعد دیگر دو کھلاڑی پویلین لوٹ جانے کے بعد ڈیرن براوو اور رام نریش سروان نے بیٹنگ کو سہارا دیا۔ براوو نے پریرا اور فرنینڈو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اننگ کا جارحانہ آغاز کیا۔ دوسری جانب سروان بھی خراب گیندوں کو باؤنڈری کا رستہ دکھا تے رہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے ذمہ دارانہ بلے بازی کرتے ہوئے 125 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ اس دوران براوو نے 7 چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری جبکہ سروان نے 3 چوکوں اور 1 چھکے کی مدد سے اپنی نصف سینچری مکمل کی۔ ویسٹ انڈیز کے لیے خطرناک ثابت ہونے والی اس جوڑی کو اینجلو ہراتھ نے سروان (51) کو ایل بی ڈبلیو کر کے توڑا۔ اگلے ہی اوور میں اجنتھا مینڈس نے چندر پال (3) کو ٹھکانے لگا کر ویسٹ انڈیز کو ایک اور دھچکا پہنچایا۔128 پر 4 وکٹ کھونے کے بعد ڈیوائن براوو کریز پر پہنچنے تاہم پریرا نے ایک ہی اوور میں دوسرے اینڈ پر موجود سیٹ بیٹسمین ڈیرن براوو (79) اور پھر کپتان ڈیرن سیمی (3) کو پویلین بھیج دیا۔ اس موقع پر ڈیوائن براوو نے کارلٹن باؤغ کے ہمراہ ہدف کا تعاقب کرنے کی کوشش کی تاہم اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ فرنینڈو نے 195 کے مجموعی اسکور پر براوو(32) کو آؤٹ کر کے ویسٹ انڈیز کی آخری امید کا بھی خاتمہ کردیا۔ اس کے بعد آنے والے بلے باز بھی کوئی قابل ذکر اضافہ نہ کر سکے اور 49 ویں اوور میں پوری ٹیم 251 رنز کے مجموعہ پر پویلین لوٹ گئی۔ اجنتھا مینڈس نے 10 اوور میں 46 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کر کے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔

سری لنکن کھلاڑی فتح سے مسرور (© اے پی)

اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو بلے بازی کی دعوت دی۔ اوپل تھرنگا اور تلکرتنے دلشان نے سری لنکا کی اننگ کا اچھا آغاز کیا اور 54 رنز کا اوپننگ اسٹینڈ فراہم کیا۔ دلشان (30) کے آؤٹ ہونے پر کپتان کمار سنگاکارا کریز پر پہنچے اور اپنی ذمہ دارانہ اننگ سے اسکور کو آگے بڑھایا۔ 92 کے مجموعی اسکور پر ڈیوائن براوو نے دلشان (30) کو رخصت کردیا۔ جس کے بعد مہیلا جے وردھنے نے کپتان کے ہمراہ 95 کی اہم شراکت بنائی۔ اس دوران سنگاکارا نے 2 چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ 187 کے مجموعی اسکور پر جے وردھنے (44) کو روی رامپال نے کیچ آؤٹ کروا دیا۔ جلد ہی سنگاکارا (75) کی کپتان اننگ کا اختتام سلیمان بین کے ہاتھوں ہوگیا۔ دو مستند کھلاڑیوں کے بعد سری لنکن بلے باز جم کر نہ کھیل سکے اور وقفے وقفے سے پویلین لوٹتے چلے گئے۔ اننگ کے اختتام پر اجنتھا مینڈس (36) کی برقی رفتار اننگ کی بدولت سری لنکا 277 رنز کا مجموعہ اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے سلیمان بین سب سے کامیاب گیند باز رہے جنہوں نے 10 اوورز میں 38 رنز کے عوض تھرنگا، سنگاکارا، سماراویرا اور کاپوگدرا کی وکٹیں حاصل کیں۔

میچ میں بہترین کارکردگی پر سری لنکن قائد سنگاکارا کو مرد میدان قرار دیا گیا۔ سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز سری لنکا کے اوپننگ بلے باز اوپل تھرنگا کے حصہ میں آیا۔

سری لنکا نے آخری میچ میں لسیتھ ملنگا، متھایا مرلی تھرن اور نووان کالوسکرا کو آرام دیا اور ان کی جگہ دلہارا فرنینڈو، اجنتھا مینڈس اور تھسارا پریرا کو موقع دیا جنہوں نے بڑی حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا۔ ویسٹ انڈیز نے کیرون پولارڈ اور کیمار روش کی جگہ سلیمان بین اور شیونرائن چندرپال کو میچ کھلایا۔ مستند گیند بازوں کی غیر موجودگی کے باوجود میزبان ملک نے ناقص کارکردگی اور بلے بازی میں غیر تسلسل کا مظاہرہ کرنے والی ویسٹ انڈیز کو جلد قابو کرلیا۔

3 میچوں میں سری لنکا کے ہاتھوں ویسٹ انڈیز کی 2-0 سے شکست نے بڑی حد تک عالمی کپ 2011ء میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی کو واضح کردیا ہے۔ رواں ماہ سری لنکا، بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہونے والے عالمی کپ میں پہلے ہی سری لنکا کو فیورٹ قرار دیا جارہا ہے اور حالیہ کارکردگی نے اس خیال کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔

Facebook Comments