سہواگ کی ریکارڈ شکن ڈبل سنچری، میچ و سیریز بھارت کے نام

بھارت کے قائم مقام کپتان اور اوپننگ بلے باز وریندر سہواگ کی دھواں دار بلے بازی نے ایک روزہ کرکٹ کے کئی عالمی ریکارڈز توڑ ڈالے اور ریکارڈ ساز و ریکارڈ شکن اننگز میں ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی دوسری ڈبل سنچری بناتے ہوئے اپنے ہم وطن سچن ٹنڈولکر کا کچھ عرصے قبل قائم کردہ 200 رنز کا ریکارڈ پیروں تلے روند ڈالا۔ اور اپنی زیر قیادت ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے اور سیریز میں بھارت کو کامیابی دلا دی۔ سہواگ نے محض 140 گیندوں پر 219 رنز بنا کر مستقبل میں ریکارڈ قائم کرنے کی خواہش رکھنے والے بلے بازوں کے لیے ایک نیا اور بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

تاریخی اننگ کے دوران وریندر سہواگ کا ایک جارحانہ اسٹروک (تصویر: AFP)

بھارت - ویسٹ انڈیز سیریز کے ابتدائی تینوں ایک روزہ مقابلوں میں انتہائی ناقص کارکردگی کامظاہرہ کرنے کے بعد بھارت میں کئی حلقوں کی جانب سے سہواگ کی موثریت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے تاہم چوتھے میچ میں 33 سالہ سہواگ نے اپنی 15 ویں اور بطور کپتان پہلی سنچری داغ کر حریف ٹیم پر ایسی فیصلہ کن ضرب لگائی کہ جس کے بعد ویسٹ انڈین کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی اور وہ پھر پورے میچ میں جانبر نہ ہو سکے اور ہو سکتا ہے کہ سیریز کے تیسرے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے میں شاندار کامیابی سمیٹنے والی ویسٹ انڈین ٹیم سیریز کے بقیہ مقابلوں میں بھی حریف کپتان کی اننگز کے سحر سے نہ نکل سکے۔

احمد آباد میں کھیلے گئے گزشتہ ایک روزہ میں صفر پر آؤٹ ہونے والے سہواگ نے خود پر اور اپر آرڈر پر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کے لیے اس مقابلے میں حکمت عملی کو تبدیل کیا اور پارتھیو پٹیل کے بجائے گوتم گمبھیر کے ہمراہ اننگ کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں تجربہ کار بلے بازوں نے، جو اب تک سیریز میں بجھے بجھے نظر آ رہے تھے، 176 رنز کی زبردست ابتدائی شراکت قائم کی جس نے میچ اور سیريز میں بھارت کی فتح کی بنیاد رکھی۔

8 دسمبر کا دن سہواگ اور اندور دونوں کے لیے یادگار ترین رہے گا کیونکہ اس روز قسمت کی دیوی بھی ان پر کچھ زیادہ ہی مہربان نظر آئی۔ اس ڈبل سنچری اننگز میں جہاں بڑا ہاتھ سہواگ کے آگے اگلتے بلے کا تھا وہیں ویسٹ انڈین فیلڈرز کو کریڈٹ نہ دینا بھی زیادتی ہوگی جنہوں نے اس ریکارڈ ساز اننگز کے لیے انہیں نئی زندگیاں بخشنے میں بڑی فراخ دلی دکھائی۔ اور دو کیچ اور دو رن آؤٹ چھوڑ کر ان کے ریکارڈ میں برابر کے حصہ دار ٹھیرے۔ علاوہ ازیں سہواگ کی اننگز کے دوران قربان ہونے والے دو کھلاڑیوں گوتم گمبھیر (67 رنز) اور سریش رائنا (55 رنز) کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو سہواگ کی ناقص رننگ کے باعث رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹے۔

سہواگ نے اپنی ڈبل سنچری اننگز کے دوران 25 چوکے رسید کیے جو بذات خود ایک عالمی ریکارڈ ہیں۔ ان کے ہم وطن سچن ٹنڈولکر نے اپنی تاریخی ڈبل سنچری اننگز کے دوران اتنے ہی چوکے رسید کیے تھے۔ علاوہ ازیں سہواگ باؤنڈریز کی صورت میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا نیا ریکارڈ قائم کرنے میں بھی ناکام رہے۔ انہوں نے 25 چوکوں اور 7 چھکوں کی مدد سے باؤنڈریز کی صورت میں مجموعی طور پر 142 رنز بنائے جبکہ اس ریکارڈ کے حامل شین واٹسن نے رواں سال بنگلہ دیش کے خلاف 185 رنز کی اننگز کے دوران 150 رنز باؤنڈریز کی صورت میں حاصل کیے تھے۔ یوں محض 9 رنز سے سہواگ یہ ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہے۔

اس کے علاوہ سہواگ نے اسی میچ کے دوران ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے 8 ہزار انفرادی رنز کا سنگ میل بھی عبور کیا۔ ان کے پاس اپنے کیریئر میں پہلی بار تمام 50 اوورز کھیلنے کا موقع تھا تاہم وہ 47 ویں اوور میں کیرون پولارڈ کی ایک گیند کو میدان بدر کرنے کی کوشش میں لانگ آف پر جکڑ لیے گئے۔ 47 اوورز تک بیٹنگ کرنے کے بعد33 سالہ سہواگ اس قابل نہیں رہے کہ وہ دوبارہ میدان میں آ سکیں اس لیے ویسٹ انڈیز کی بلے بازی کے دوران قیادت کی ذمہ داریاں ان کے نائب گوتم گمبھیر نے نبھائیں اور وہ ڈریسنگ روم سے ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن اپ کو تباہ ہوتے دیکھتے رہے۔

سہواگ کی اس جرات مندانہ اننگز کی بدولت بھارت نے تاریخ میں چوتھی بار کسی ایک روزہ مقابلے میں 400 رنز کا ہندسہ عبور کیا اور 5 وکٹوں کے نقصان پر 418 رنز بنائے۔ اس سے قبل بھارتی ٹیم نے 2007ء میں برمودا، 2009ء میں سری لنکا اور 2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف چار سو سے زائد رنز اسکور کیے اور تمام ہی مقابلوں میں فتح حاصل کی۔

جواب میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے وکٹ کیپر دنیش رامدین کے علاوہ کسی بلے باز نے کوئی قابل ذکر اننگز نہیں کھیلی۔ رامدین بدقسمتی سے اپنے ایک روزہ کیریئر کی پہلی سنچری بنانے میں ناکام رہے اور آخری اوور میں گیند کو میدان بدر کرنے کی کوشش میں ویسٹ انڈیز کی آخری وکٹ بن گئے۔ انہوں نے 96 گیندوں پر اتنے ہی رنز بنائے۔ ایک انتہائی مشکل ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 265 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور فتح 153 رنز کے بھاری فرق سے میزبان بھارت کے نام رہی۔

بھارت کی جانب سے رویندر جدیجا اور ڈیبیو کرنے والے روہیت شرما نے 3،3، سریش رائنا نے 2 اور روی چندر آشون نے ایک وکٹ حاصل کی۔

مرد میدان بلاشبہ وریندر سہواگ ہی کہلائے، جنہوں نے پچھلے تمام میچز کی کسریں ایک ہی مرتبہ میں نکال لیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا قائم کردہ 219 رنز کا ریکارڈ زیادہ عرصے قائم نہیں رہے گا کیونکہ اسے ایک بلے باز سے بہت زیادہ خطرہ ہے اور وہ ہے خود وریندر سہواگ 🙂

بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز

چوتھا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

بتاریخ: 8 دسمبر 2011ء

بمقام: ہلکر کرکٹ اسٹیڈیم، اندور، بھارت

نتیجہ: بھارت 153 رنز سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: وریندر سہواگ (بھارت)

بھارت رنز گیندیں چوکے چھکے
گوتم گمبھیر رن آؤٹ 67 67 11 0
وریندر سہواگ ک متبادل (انتھونی مارٹن) ب پولارڈ 219 149 25 7
سریش رائنا رن آؤٹ 55 44 6 0
رویندر جدیجا ک رامپال ب رسل 10 10 0 0
روہیت شرما ب روچ 27 16 3 0
ویرات کوہلی ناٹ آؤٹ 23 11 3 0
پارتھیو پٹیل ناٹ آؤٹ 3 3 0 0
فاضل رنز ل ب 1، و 13 14
مجموعہ 50 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 418

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کیمار روچ 10 0 88 1
روی رامپال 9 0 66 0
آندرے رسل 7 0 63 1
سنیل نارائن 6 0 46 0
ڈیرن سیمی 3 0 30 0
کیرون پولارڈ 7 0 65 1
مارلون سیموئلز 8 0 59 0

 

ویسٹ انڈیزہدف: 419 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
لینڈل سیمنز ک پٹیل ب جدیجا 36 35 6 1
کیرن پاول رن آؤٹ 7 5 1 0
مارلون سیموئلز ب راہول شرما 33 26 4 2
ڈینزا ہیاٹ ب راہول شرما 11 17 2 0
دنیش رامدین ک روہیت شرما ب رائنا 96 96 12 0
کیرون پولارڈ ب راہول شرما 3 4 0 0
آندرے رسل اسٹمپ پٹیل ب رائنا 29 24 1 3
ڈیرن سیمی ک متھن ب آشون 2 6 0 0
روی رامپال ک متبادل (منوج تیواری) ب جدیجا 10 31 1 0
کیمار روچ ک و ب جدیجا 7 19 1 0
سنیل نارائن ناٹ آؤٹ 27 33 3 1
فاضل رنز ل ب 2، و 2 4
مجموعہ 49.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 265

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ونے کمار 4 0 34 0
روی چندر آشون 10 0 59 1
رویندر جدیجا 10 2 34 3
ابھیمنیو متھن 4 0 37 0
راہول شرما 10 0 43 3
سریش رائنا 6.2 0 17 2
روہیت شرما 5 0 39 0

Facebook Comments