عالمی کپ 2011ء کون جیتے گا؟ (پہلا حصہ)

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اس بار عالمی کپ کون جیتے گا؟ تو آپ کیا جواب دیں گے؟ بھارت ۔ ۔ ۔ انگلستان ۔ ۔ ۔ جنوبی افریقہ ۔ ۔ ۔ آسٹریلیا ۔ ۔ ۔ یا پھر کوئی اور؟ سوال کا جواب واقعی بہت مشکل ہے۔ لیکن تاریخ کے صفحات پلٹ کر اور ٹیموں کی حالیہ کارکردگی دیکھ کر جانا جا سکتا ہے کہ کس ٹیم کے امکانات زیادہ ہیں اور کس کے کم۔ تو پھر آئیے! ایک، ایک کر کے ٹیموں کا جائزہ لیتے ہیں:

دفاعی چمپیئن: آسٹریلیا

2011ء کے عالمی کپ میں اپنے اعزاز کا دفاع آسٹریلیا کرے گا جو مسلسل تین مرتبہ یعنی 1999ء، 2003ء اور 2007ء میں عالمی کپ اٹھا چکا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں حالیہ خراب ترین کارکردگی کے باوجود آسٹریلیا ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں درجہ اول پر فائز ہے۔ ساتھ ہی اس کا حالیہ ایک روزہ ریکارڈ بھی بہت شاندار ہے۔

اکثر ماہرین و شائقین یہ سمجھتے ہیں کہ آسٹریلیا محض اپنے عظیم کھلاڑیوں کے باعث عالمی کپ جیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2003ء کے عالمی کپ میں ان کے پاس اسٹیو واہ جیسا قائد نہ تھا، 2007ء میں شین وارن بھی چھوڑ گئے تھے اور یہی نہیں 2009ء کی چیمپینز ٹرافی میں انہیں ایڈم گلکرسٹ کی خدمات بھی حاصل نہیں تھیں۔ ان عظیم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی بھی آسٹریلیا کی شاندار کارکردگی میں کوئی فرق نہ لا سکی اور اس نے یہ تمام بڑے ٹورنامنٹ اپنے نام کیے۔

حال ہی میں آسٹریلیا نے اپنے ہوم گراؤنڈز پر عالمی کپ کے لیے ہاٹ فیورٹ انگلستان کا جو حشر کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ 7 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی سیریز میں سے 6 آسٹریلیا نے جیتے جبکہ انگلستان کے حصے میں محض ایک میچ آیا۔ اس شاندار کارکردگی کے ساتھ وہ عالمی کپ کے لیے میدان میں اترے گا تو قوی امکانات ہیں کہ وہ اپنے اعزاز کے دفاع میں کامیاب رہے گا۔

دوسری جانب برصغیر میں ہونے والے دو عالمی کپ کی تاریخ کو بھی دیکھا جائے تو آسٹریلیا کا ریکارڈ بہت شاندار دکھائی دیتا ہے۔ اس نے 1987ء میں ہونے والے عالمی کپ میں پہلی بار فتح حاصل کی اور پھر 1996ء میں فائنل تک پہنچا جہاں اسے بلند حوصلہ سری لنکا کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

آسٹریلیا کے ماضی و حال کے کئی کھلاڑی گزشتہ چند ماہ میں ٹیم کی ناقص فارم کے باوجود کافی پرامید ہیں اور آسٹریلیا کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔ خصوصاً عالمی کپ سے قبل انگلستان کے خلاف سیریز میں شاندار فتح نے ان کی امیدوں کو بہت تقویت پہنچائی ہے۔

ہاٹ فیورٹ میزبان: بھارت

اب بات کرتے ہیں بھارت کی، جو اس وقت دنیائے کرکٹ کے تمام پنڈتوں کی نظر میں عالمی کپ کے لیے سب سے زیادہ فیورٹ ہے۔ کرکٹ کے ماہرین بھارت کو عالمی کپ کا فیورٹ قرار دے رہے ہیں ان میں ماضی کے عظیم آل راؤنڈر عمران خان، ڈنکن فلیچر، جیفری بائیکاٹ اور سنیل گواسکر کے علاوہ ماضی قریب کے لیجنڈ کھلاڑی برائن لارا، لانس کلوزنر، مائیکل وان، روڈنی مارش، کپل دیو اور مائیکل بیون شامل ہیں۔ کئی موجودہ کھلاڑی بھی اسے فیورٹ قرار دے رہے ہیں جن میں بھارتی کھلاڑیوں کے علاوہ جنوبی افریقہ کے کپتان گریم اسمتھ بھی شامل ہیں۔ دو مرتبہ عالمی کپ کی فاتح ٹیم کا حصہ رہنے والے آسٹریلیا کے سابق کپتان اسٹیو واہ کی نظر میں بھی بھارت سمیت برصغیر کی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ حالیہ تاریخ کچھ اور بتاتی ہے۔

بھارت آئی سی سی کے حالیہ تین بڑے ٹورنامنٹس کے سیمی فائنلز تک بھی نہیں پہنچ پایا۔ ان میں 2008ء کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ، 2009ء کی آئی سی سی چیمپینز ٹرافی اور 2010ء کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ شامل ہیں۔

دوسری اور اہم بات یہ کہ گھر کا شہر کہلانے والا بھارت کی کارکردگی ایک روزہ ٹورنامنٹس میں اپنے ہوم گراؤنڈز پر کچھ مثالی نہیں ہے۔ 6 یا چھ سے زیادہ ٹیموں کے ایسے ٹورنامنٹس جو بھارت میں کھیلے گئے، میں میزبان ملک کا ریکارڈ بہت برا ہے۔ 1987ء کے عالمی کپ میں دفاعی چمپیئن اور ہاٹ فیورٹ ہونے کے باوجود بھارتی ٹیم سیمی فائنل میں لڑکھڑا گئی۔ 1996ء کے عالمی کپ میں سیمی فائنل میں سری لنکا کے ہاتھوں شرمناک شکست کسے یاد نہ ہوگی۔ 2006ء میں بھارت اپنے ہی ملک میں ہونے والی چیمپینز ٹرافی کے سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل نہ کر سکا۔

بھارت کو درپیش ایک اہم مسئلہ کھلاڑیوں کی مکمل فٹنس ہے۔ اس وقت بھارت کے کئی کھلاڑی ایسے ہیں جو زخمی ہونے کے باعث جنوبی افریقہ کے خلاف گزشہ ماہ ہونے والی سیریز میں نہیں کھیل سکے۔ ان میں ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر، اوپننگ بیٹسمین وریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر شامل ہیں۔ آخر الذکر کو چھوڑ کر تمام کھلاڑی بھارتی دستے کا جزو لاینفک ہیں۔ مذکورہ سیریز میں بھارت کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 2-3 سے شکست ہوئی اور دو میچ بھی وہ انفرادی کارکردگی اور جنوبی افریقہ کی ہمت چھوڑ بیٹھنے کی روایت کے باعث جیتا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پانچوں مقابلوں میں جنوبی افریقہ کا پلہ بھاری رہا۔

بھارت کو صرف اور صرف دو عنصر جتوا سکتے ہیں۔ ایک ہوم گراؤنڈ اور دوسرا اس کی اسپن باؤلنگ۔ ہربھجن سنگھ کا کردار عالمی کپ میں بہت زیادہ اہم ہوگا بلکہ بحیثیت مجموعی پورے عالمی کپ میں اسپنرز کا کردار اہم ہوگا کیونکہ برصغیر کی وکٹیں بلے بازوں اور اسپنرز کے لیے سازگار ہوتی ہیں اور فاسٹ باؤلرز کے لیے ڈراؤنا خواب۔ عالمی کپ میں بھی اسی ٹیم کے امکانات زیادہ ہیں جس کے اسپنر اچھی باؤلنگ کرائیں گے اور ہاں، قسمت جس کے ساتھ ہوگی۔

عالمی کپ 2011ء کی دو ہاٹ فیورٹ قرار دی جانے والی ٹیموں کے بارے میں آپ نے پڑھا۔ اس سلسلے کے اگلے حصوں میں ہم دوسری شریک میزبان اور عالمی کپ 1996ء کی فاتح ٹیم سری لنکا، عالمی کپ میں شاندار ریکارڈ رکھنے والے ملک اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے موجودہ چمپیئن انگلستان کے علاوہ دنیائے کرکٹ کی چوکر جنوبی افریقہ اور ناقابل اعتبار (ان پریڈکٹیبل) پاکستان کی فتح کے امکانات پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

Article Tags

Facebook Comments