سہ فریقی ٹورنامنٹ: پہلا مقابلہ آسٹریلیا کے نام، عالمی چیمپئن بھارت کو شکست

سہ فریقی ٹورنامنٹ ’کامن ویلتھ بینک سیریز‘ کے بارش سے متاثرہ پہلے مقابلے میں آسٹریلیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی چیمپئن بھارت کو شکست دے دی۔

ٹاس جیت کر بھارت کا باؤلنگ کرنے کا فیصلہ اس وقت تک تو بہترین ثابت ہو رہا تھا جب تک بارش نہیں آئی۔ کیونکہ اس سے قبل ونے کمار نے محض 19 کے مجموعے پر ڈیوڈ وارنر اور رکی پونٹنگ کو آؤٹ کر کے آسٹریلیا کو زبردست دھچکے پہنچائے تھے لیکن 35 کے مجموعے پر بارش نے ملبورن کے تاریخی میدان کو آ لیااور 18 اوورز کا کھیل ضایع ہو گیااور دونوں ٹیموں کی اننگز کو 32، 32 اوورز تک محدود کر دیا گیا۔

اپنا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے میتھیو ویڈ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: Getty Images)

اپنا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے میتھیو ویڈ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: Getty Images)

بارش کے خاتمے کے بعد جب مقابلہ دوبارہ شروع ہوا تو آسٹریلیا کو سنبھلنے کا موقع مل چکا تھا گو کہ وہ جلد ہی اپنے کپتان مائیکل کلارک سے محروم ہو گیا لیکن اپنے کیریئر کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ کھیلنے والے میتھیو ویڈ نے تجربہ کار مائیکل ہسی کے ساتھ مل کر اننگز کو درست طریق پر ڈالنے کا کام کیا اور دونوں نے انتہائی برق رفتاری سے رنز بنائے۔ دونوں کی شراکت میں آسٹریلیا نے محض 8 اوورز میں 73 رنز بنائے۔ ویڈ 69 گیندوں پر 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 67 رنز بنا کر پویلین لوٹے اور ذمہ داری ہسی برادران پر ڈال گئے، جنہیں دونوں نے خوب نبھایا۔ مائیکل ہسی 32 گیندوں پر 45 رنز بنانے کے بعد ونے کمار کا تیسرا و آخری نشانہ بنے۔ جبکہ ڈیوڈ ہسی نے یادگار ترین اننگز کھیلتے ہوئے میچ کو بھارت کی پہنچ سے کہیں دور کر دیا۔ انہوں نے صرف 30 گیندوں پر 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے اور یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا آخری 6 اوورز میں 62 رنز بنانے میں کامیاب ہوا۔

خصوصاً گزشتہ روز انڈین پریمیئر لیگ میں 2 ملین ڈالرز کی خطیر رقم میں ’بکنے‘ والے رویندر جدیجا کے ڈھائی اوورز میں 41 رنز سمیٹ کر آسٹریلیا نے انہیں اپنی حیثیت یاد دلا دی۔ اننگز کا 31 واں یعنی آخری اوور راہول شرما نے کیا، دو گیندیں پھینک چکے تو امپائرز کو احساس ہوا کہ قانون کے تحت صرف دو باؤلرز کو سات اوورز پھینکنے کی اجازت تھی جبکہ پروین اور ونے کمار 7، 7 اوورز پھینک چکے ہیں اس لیے راہول یہ اوور نہیں کر سکتے اس لیے انہیں دو گیندوں پر باؤلنگ سے ہٹا دیا گیا اور آخری چار گیندیں پھینکنے کے لیے دھونی نے رویندر جدیجا کو لانے کا فیصلہ کیا جن کا ڈیوڈ ہسی نے دو چھکوں کے ذریعے ’سواگت‘ کیا اور یوں اپنے چند اوورز میں ان کی خوب ’درگت‘ بنی۔

بھارت کی جانب نے ونے کمار نے 3 اور روہیت شرما اور راہول شرما نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

جواب میں مچل اسٹارک کے ابتدائی حملوں اور بعد ازاں کلنٹ میک کے کی گیند بازی بھارت کے بلے بازوں کو لاجواب کر گئی۔ اسٹارک نے اپنے پہلے ہی اوور میں سچن ٹنڈولکر اور دوسرے اوور میں گوتم گمبھیر کو پویلین کا راستہ دکھا کر بھارت کو محض 13 رنز پر ہی اوپنرز سے محروم کر دیا۔

میچ کا فیصلہ کن اوور 12 واں تھا جس میں میک کے نے اپنے پہلے ہی اوور میں ویراٹ کوہلی اور روہیت شرما کے درمیان نہ صرف 51 رنز کی شراکت کا خاتمہ کیا بلکہ ایک گیند کے وقفے سے دونوں بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھا کر بھارت کو سخت مشکل میں ڈال دیا۔ کوہلی سب سے زيادہ 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ روہیت شرما نے 21 رنز بنائے۔ آنے والے بلے بازوں میں کپتان مہندر سنگھ دھونی کے علاوہ کوئی کھلاڑی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ بھارت کے زوال میں باؤلنگ کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کی برتر فیلڈنگ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ رکی پونٹنگ کے دو خوبصورت کیچز اور پہلا ایک روزہ کھیلنے والے ڈینیل کرسچن کی زبردست فیلڈنگ کے بعد روی چندر آشون کا رن آؤٹ اس مقابلے کی اہم ترین جھلکیاں تھیں۔ پونٹنگ نے پہلے سچن اور بعد ازاں کوہلی کے زبردست کیچ لے کر بھارت کی جوابی اننگز کو پٹڑی سے اتارا۔ کپتان دھونی 29 رنز بنا کر بھارت کی گرنے والی نویں وکٹ بنے اور بعد ازاں اننگز 30 ویں اوور میں 151 رنز پر تمام ہوئی کیونکہ تمام کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔

آسٹریلیا کی جانب سے کلنٹ میک کے کی چار وکٹوں کے علاوہ دو، دو وکٹیں مچل اسٹارک اور زاویئر ڈوہرٹی نے حاصل کیں جبکہ ایک وکٹ ڈینیل کرسچن کو ملی۔

میتھیو ویڈ کو کیریئر کے پہلے ہی ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے میں 67 رنز بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

سہ فریقی ٹورنامنٹ کا دوسرا میچ 8 فروری کو واکا، پرتھ میں سری لنکا اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں شریک ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف چار، چار میچز کھیلیں گی جو 8 مارچ تک جاری رہیں گے۔

آسٹریلیا بمقابلہ بھارت

کامن ویلتھ بینک سیریز، پہلا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

5 فروری 2012ء

بمقام: ملبورن کرکٹ گراؤنڈ، ملبورن، آسٹریلیا

نتیجہ: آسٹریلیا 65 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: میتھیو ویڈ (آسٹریلیا)

آسٹریلیا رنز گیندیں چوکے چھکے
میتھیو ویڈ ب راہول شرما 67 69 4 2
ڈیوڈ وارنر ب ونے کمار 6 14 0 0
رکی پونٹنگ ک رینا ب ونے کمار 2 12 0 0
مائیکل کلارک ک راہول شرما ب روہیت شرما 10 21 0 0
مائیکل ہسی ک کوہلی ب ونے کمار 45 32 4 0
ڈیوڈ ہسی ناٹ آؤٹ 61 30 4 3
ڈینیل کرسچن ناٹ آؤٹ 17 16 0 0
فاضل رنز ل ب 2، و 4، ن ب 2 8
مجموعہ 32 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 216

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
پروین کمار 7 0 35 0
ونے کمار 7 0 21 3
ویراٹ کوہلی 1 0 4 0
سریش رینا 1 0 4 0
روی چندر آشون 5 0 48 0
روہیت شرما 2 0 17 1
راہول شرما 6.2 0 44 1
رویندر جدیجا 2.4 0 41 0

 

بھارتہدف: 217 رنز (32 اوورز میں) رنز گیندیں چوکے چھکے
گوتم گمبھیر ک ویڈ ب اسٹارک 5 8 0 0
سچن ٹنڈولکر ک پونٹنگ ب اسٹارک 2 6 0 0
ویراٹ کوہلی ک پونٹنگ ب میک کے 31 34 3 0
روہیت شرما ک ویڈ ب میک کے 21 21 2 0
سریش رینا ک ڈیوڈ ہسی ب کرسچن 4 9 0 0
مہندر سنگھ دھونی ک وارنر ب ڈوہرٹی 29 38 1 0
رویندر جدیجا ک مائیکل ہسی ب میک کے 19 25 0 0
روی چندر آشون رن آؤٹ 5 3 0 0
راہول شرما ب ڈوہرٹی 1 2 0 0
پروین کمار ک ہیرس ب میک کے 15 17 2 0
ونے کمار ناٹ آؤٹ 12 15 1 0
فاضل رنز ل ب 2، و 5 7
مجموعہ 29.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 151

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ریان ہیرس 5 0 28 0
مچل اسٹارک 6 0 33 2
ڈینیل کرسچن 5 0 21 1
کلنٹ میک کے 4.4 0 20 4
زاویئر ڈوہرٹی 7 0 36 2
مائیکل کلارک 2 0 11 0

Facebook Comments