سعید اجمل کا ایکشن بالکل صاف ہے، کرک انفو کی حقائق پر مبنی رپورٹ

پاکستان و انگلستان کے درمیان سیریز میں اسپنرز نے میدان مار لیا خصوصاً پاکستانی اسپنر سعید اجمل کی وکٹوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور پاکستان نے تمام تر توقعات کے برعکس انگلستان کو 3-0 سے زیر کر کے تاریخی فتح سمیٹی۔ لیکن کچھ برطانوی ذرائع ابلاغ کے ہتھکنڈوں اور کچھ پاکستانی گیند باز کے بے وقوفانہ بیان نے سعید اجمل کے ایکشن کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر دیے۔

سعید اجمل کو 24 وکٹیں حاصل کرنے پر سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: Getty Images)

سعید اجمل کو 24 وکٹیں حاصل کرنے پر سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: Getty Images)

سب سے پہلے یہ معاملہ انگلستان کے سابق باؤلر باب ولس نے اٹھایا جن کا کہنا تھا کہ سعید اجمل، خصوصاً جب وہ دوسرا نامی گیند پھینکتے ہیں تو، بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی باؤلرز کو دی گئی اجازت سے تجاوز کر جاتے ہیں اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے کارروائی کرنی چاہیے۔ گزشتہ سال جب پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کی تھی اور سعید اجمل سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے تو ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ بلے باز ویوین رچرڈز نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن اس مرتبہ مسئلہ اس لیے بڑھ گیا کہ پاک-انگلستان سیریز کے آخری ٹیسٹ کے اختتام پر سعید اجمل نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں یہ کہہ ڈالا کہ ایک حادثے کے باعث ان کے بازو میں خم موجود ہے اس لیے آئی سی سی نے انہیں 15 درجے تک کہنی موڑنے کی اجازت سے کہیں زیادہ چھوٹ دے رکھی ہے اور وہ 23.5 درجے تک کے زاویے پر کہنی گھما سکتے ہیں۔ یوں انگریزی زبان اور سائنسی معلومات سے لاعلمی نے دنیائے کرکٹ میں ہنگامہ برپا کر دیا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے فوری طور پر بیان جاری کیا کہ انہوں نے کسی کو چھوٹ نہیں دی ہے اور تمام باؤلرز کو 15 درجے کے زاویے تک بازو موڑنے کی اجازت کے اندر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس معاملے میں کودا اور اس نے سعید اجمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انگریزی کمزور ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بات درست انداز میں بیان نہیں کر پائے۔

بالآخر معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو ڈاٹ کام نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے حکام اور متعلقہ شعبے کے ماہرین کے ساتھ طویل غور و خوض کے بعد چند حقائق پیش کیے ہیں جن کے مطابق سعید اجمل کا ایکشن بالکل واضح ہے اور تمام تر قوانین کی حد کے اندر ہے۔

کرک انفو کے ایڈیٹر برائے برطانیہ جارج ڈوبیل کا کہنا ہے کہ 23.5 درجے کا زاویہ، جس کا حوالہ سعید نے اپنے انٹرویو میں دیا، وہ گیند پھینکے جانے سے قبل ان کے بازو کا اوسط زاویہ ہے جبکہ ماہرین کے مطابق گیند پھینکتے وقت ان کا ایکشن بالکل قانونی ہے اور گو کہ وہ بازو میں خم کے ساتھ گیند پھینکتے ہیں لیکن وہ خم محض 8 درجے زاویے کا ہے جو مکمل طور پر آئی سی سی کی اجازت کے مطابق ہے۔

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں اسی وقت منظرعام پر آتی ہیں جب کھلاڑی بہت ہی عمدہ کارکردگی دکھائے۔ جب سعید نے 2010ء کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ سیمی فائنل میں مائیکل ہسی کے ہاتھوں دھنائی کے بعد پاکستان کے آسان فتح سے محروم کروایا تھا اس وقت کسی نے ان کے ایکشن پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی اس وقت جب وہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے برطانیہ میں موجود تھے۔ حتیٰ کہ یہ برطانوی ذرائع ابلاغ بھی اس وقت خاموش تھے جب سعید اجمل 2010ء میں دورۂ انگلستان میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ صرف اس لیے کہ اس سیریز میں سعید اجمل نے کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی تھی۔ لیکن جیسے ہی سعید کی گیندیں انگلش بلے بازوں کی وکٹیں گرانے لگیں، سب کو ایکشن پر اعتراض یاد آ گیا۔

سعید کے ایکشن کو 2009ء میں رپورٹ کیا گیا تھا اور تمام تر تجربات کے بعد ان کے ایکشن کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے کلیئر قرار دے دیا تھا۔

ویسے اس کے خبر کے منظرعام پر آتے ہی وارسسٹرشائر نے اگلے سیزن کے لیے سعید اجمل سے دوبارہ معاہدہ کر لیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک روزہ کرکٹ میں دنیا کے بہترین باؤلر سعید اجمل انگلستان کے خلاف ایک روزہ و ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کیا کارنامے انجام دیتے ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments