پونٹنگ ٹیم سے باہر، ’آخری لمحہ‘ آن پہنچا

آسٹریلیا نے بلے بازی میں مسلسل ناکامی کے باعث رکی پونٹنگ کو سہ فریقی ٹورنامنٹ کے درمیان میں ایک روزہ ٹیم سے باہر کر دیا ہے اور یوں رکی پونٹنگ کا شاندار کیریئر ’لب گور‘ پہن چکا ہے۔ 2011ء میں عالمی کپ کے دفاع میں ناکامی کے بعد سے رکی پونٹنگ کا مستقبل ڈانواں ڈول تھا لیکن تمام تر خدشات کے بر خلاف وہ آسٹریلین ٹیم کا حصہ بنے رہے لیکن یہ تازہ اخراج ان کے عظیم کیریئر کے اختتام کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے سہ فریقی کامن ویلتھ بینک سیریز میں 5 اننگز میں صرف 18 رنز بنائے ہیں اور اس کارکردگی کی بنیاد پر تو پونٹنگ کی ٹیم میں جگہ ویسے ہی نہیں بنتی تھی لیکن اک ایسے کھلاڑی کو، جس کی عمر 37 سال سے زائد ہو، باہر کرنےکا مطلب یہی ہے کہ اب اُس کا کیریئر اب ختم ہو چکا ہے۔ 375 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کا وسیع تجربہ رکھنے والے پونٹنگ کے کیریئر میں یہ پہلا موقع ہے کہ مسلسل پانچ اننگز میں وہ ایک مرتبہ بھی دہرے ہندسے میں داخل نہ ہو پائے ہوں۔

رکی پونٹنگ آخری 5 اننگز میں ایک مرتبہ بھی دہرے ہندسے میں داخل نہیں ہو سکے (تصویر: Getty Images)

رکی پونٹنگ آخری 5 اننگز میں ایک مرتبہ بھی دہرے ہندسے میں داخل نہیں ہو سکے (تصویر: Getty Images)

1995ء میں بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کرنے والے رکی پونٹنگ ٹیسٹ و ایک روزہ دونوں طرز میں آسٹریلیا کی تاریخ کے بہترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں اور اُنہی کی زیر قیادت آسٹریلیا نے دو مرتبہ یعنی 2003ء اور 2007ء میں عالمی کپ بھی جیتے لیکن تیسری مرتبہ یعنی 2011ء میں آسٹریلیا کا سفر کوارٹر فائنل میں بھارت کے ہاتھوں تمام ہوا اور یہیں سے رکی پونٹنگ کے کیریئر کے خاتمے کے اشارے ملنے لگے۔ پہلے مرحلے میں انہیں قیادت سے محروم کر دیا گیا لیکن ٹیسٹ اور ایک روزہ ٹیم میں انہیں کارکردگی کی بنیاد پر جگہ دی گئی ۔ ابھی سہ فریقی ٹورنامنٹ کے آخری دو مقابلوں میں انہوں نے مائیکل کلارک کی جگہ قیادت کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں اور ایک میچ میں شکست اور ایک میچ میں فتح حاصل کی لیکن اب کلارک کی واپسی کے ساتھ ہی وہ ٹورنامنٹ کے بقیہ میچز سے باہر کر دیے گئے ہیں۔

ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کی کرکٹ میں 13 ہزار سے زائد رنز بنانے والے رکی پونٹنگ آسٹریلیا کی جانب سے دونوں طرز کی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے دنیا بھر کے کھلاڑیوں میں وہ تیسرے جبکہ ایک روزہ میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس کارکردگی کی بنیادپر انہیں سر ڈان بریڈمین کے بعد آسٹریلیا کا سب سے عظیم کرکٹر تسلیم کیا جاتا ہے۔

سہ فریقی ٹورنامنٹ کے باقی مقابلوں کے لیے ٹیم کا اعلان کرنے والی آسٹریلیا کی سلیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ”ہماری نظریں 2015ء کے عالمی کپ پر مرکوز ہیں اور وہ اس کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ ایسے کھلاڑیوں کو باعزت طور پر رخصت کرنے کا منصوبہ ہے جن کے اگلا عالمی کپ کھیلنے کے امکانات نہیں۔“ عالمی کپ 2015ء آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا جائے گا اور آسٹریلیا کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کی سپورٹ کے ساتھ اپنا کھویا ہوا عالمی اعزاز دوبارہ حاصل کرے۔ رکی پونٹنگ سے قبل آسٹریلیا کے دو کپتان مارک ٹیلر اور اسٹیو واہ بھی اپنی مرضی سے ریٹائر نہیں ہوئے تھے، بلکہ انہیں بھی ناقص کارکردگی پر ٹیم سے باہر کیا گیا تھا اور بالآخر انہوں نے ریٹائرمنٹ پر اکتفا کیا اور اب بھی صورتحال کچھ ایسی ہی لگتی ہے۔

کامن ویلتھ بینک سیریز کے بقیہ میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والی ٹیم میں رکی پونٹنگ کی جگہ شین واٹسن کو واپس بلایا گیا ہے جو پنڈلی میں تکلیف کے باعث عرصے سے ٹیم سے باہر تھے۔

اگر پونٹنگ کے دور کا خاتمہ ہو چکا ہے تو ایک زبردست قائد، اسٹائلش بلے باز اور پھرتیلے فیلڈر کی حیثیت سے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Facebook Comments