دانش کنیریا کا معاملہ: پاکستان و انگلستان کے بورڈز اور آئی سی سی کا مشترکہ اعلامیہ

پاکستان کے زیر عتاب اسپنر دانش کنیریا کا معاملہ مزید گمبھیر صورت اختیار کر گیا ہے کیونکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں ان کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ انہیں کسی قسم کا کوئی کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے۔

کاؤنٹی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سزا پانے والے مروین ویسٹ فیلڈ نے کہا ہے کہ انہیں دانش کنیریا نے سٹے بازی میں گھسیٹا (تصویر: PA)

کاؤنٹی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سزا پانے والے مروین ویسٹ فیلڈ نے کہا ہے کہ انہیں دانش کنیریا نے سٹے بازی میں گھسیٹا (تصویر: PA)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آئی سی سی اور دونوں ممالک کے بورڈ کسی بھی قسم کے سرٹیفکیٹ کے اجراء کی تردید کرتے ہیں۔

برطانیہ میں کاؤنٹی کرکٹ میں اسپاٹ فکسنگ کے معاملے کا فیصلہ آنے کے بعد جاری ہونے والے اس اعلامیہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ وہ اب دانش کنیریا کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر انٹیگریٹی کمیٹی میں طلب کرے گا۔

پی سی بی نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ کنیریا کی کلیئرنس کا معاملہ بورڈ کی انٹیگریٹی کمیٹی کے روبرو زیر سماعت ہے اور آخری پیشی پر انہیں برطانیہ کی پولیس کی تفتیش کے دوران ریکارڈ کی گئی ٹیپس کی نقول پیش کرنے کا کہا گیا تھا۔

دانش کنیریا کی کاؤنٹی ایسکس میں کھیلنے والے ویسٹ فیلڈ کو گزشتہ روز برطانیہ کی عدالت نے اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں 4 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ 23 سالہ ویسٹ فیلڈ نے گزشتہ ماہ تسلیم کیا تھا انہوں نے ستمبر 2009ء میں ڈرہم کے خلاف پرو40 مقابلے میں ایک اوور میں رنز کی مخصوص تعداد دینے کے عوض سٹے بازوں سے 6 ہزار پاؤنڈز وصول کیے تھے اور اب اس کے ثبوت ملنے کے بعد عدالت نے قید کی سزا کا حقدار قرار دیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے ذریعے رقوم حاصل کرنے کے اس پورے معاملے کو دانش کنیریا نے طے کیا تھا۔کنیریا نے نہ صرف مجھے اور بلکہ دیگر کھلاڑیوں کو بھی ’کمانے کے آسان طریقے‘ اپنانے کی جانب راغب کیا۔فیصلے کے روز عدالت کو بتایا گیا کہ دانش کنیریا نے ویسٹ فیلڈ کے علاوہ کم از کم چار دیگر کھلاڑیوں کو بھی اس ’دھندے ‘ میں لانے کی کوشش کی لیکن زیادہ تر کھلاڑیوں نے اسے مذاق سمجھا۔ اب عین ممکن ہے کہ کنیریا کے خلاف معاملے کو ازسر نو کھولا جائے اور ہو سکتا ہے کہ انہیں عالمی سطح پر طویل پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑے۔

دوسری جانب دانش کنیریا ان تمام الزامات کو مسترد کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسپاٹ فکسنگ کے اس معاملے میں میرا کوئی کردار نہیں ہے۔ میں مکمل طور پر بے گناہ ہوں اور تمام الزامات غلط ہیں۔ مجھے برطانیہ کی پولیس نے کلیئر قرار دیا تھا اور میرے پاس ای سی بی اور آئی سی سی دونوں کے کلیئرنس سرٹیفکیٹس بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویسٹ فیلڈ ایک دھوکے باز اور جھوٹا شخص ہے جس نے قید کی سزا سے بچنے کے لیے مجھے گھسیٹنے کی کوشش کی ہے۔

Facebook Comments