محمد عامر پر تاحیات پابندی لگائی جانی چاہیے: سرفراز نواز

ماضی کے معروف پاکستانی تیز باؤلر اور موجودہ ’نقاد‘ سرفراز نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کو اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث تینوں کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں آنے والے کھلاڑیوں کے لیے نشانِ عبرت بنا دینا چاہیے۔

محمد عامر آئی سی سی اور برطانوی عدالت کی جانب سے سب سے کم سزا پانے والے کھلاڑی تھے۔ انہیں 5 سال تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی اور 6 ماہ قید کی سزائیں بھگتنا پڑیں (تصویر: AFP)

محمد عامر آئی سی سی اور برطانوی عدالت کی جانب سے سب سے کم سزا پانے والے کھلاڑی تھے۔ انہیں 5 سال تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی اور 6 ماہ قید کی سزائیں بھگتنا پڑیں (تصویر: AFP)

اسپاٹ فکسنگ معاملےکے مرکزی کردار سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر اِس وقت نہ صرف بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی کم از کم 5 سال کی پابندی کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ دو کھلاڑی تو برطانیہ کی جیل میں بدعنوانی و دھوکہ دہی کے مقدمے میں جیل کی ہوا بھی کھا رہے ہیں۔ تیسرے کھلاڑی محمد عامر اپنی قید کی سزا مکمل کرنے کے بعد گزشتہ سنیچر کو پاکستان واپس پہنچے ہیں اور ان کی رہائی کے ساتھ ہی سابق کرکٹرز اور ماہرین کے درمیان اک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ کیا پاکستان کو پابندی مکمل کرنے کے بعد محمد عامر کو دوبارہ قومی ٹیم میں واپس لینا چاہیے۔ اس حوالے سے سرفراز نواز کے ساتھی اور پاکستان کے مایہ ناز کپتان عمران خان کا تو کہنا تھا کہ محمد عامر کو پانچ سالہ پابندی بھگتنے کے بعد اپنے کرکٹ کیریئر کے دوبارہ آغاز کا موقع ملنا چاہیے لیکن سرفراز اس سے متفق نہیں دکھائی دیتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کم عمری کے باوجود محمد عامر پر تاحیات پابندی لگنی چاہیے۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ پاک پیشن ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں سرفراز نواز نے کہا کہ ”مجھے عمران خان کے بیان پر سخت حیرت ہوئی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ عامر کو دوبارہ کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، اس پر تو تمام عمر کے لیے پابندی لگا دینی چاہیے۔ عامر اور اُس کے ساتھیوں نے پوری پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں کرکٹ سے حقیقی محبت رکھنے والے شائقین کے ساتھ دھوکہ کیا اور وہ رتّی برابر ہمدردی کے بھی مستحق نہیں۔“

’ریورس سوئنگ‘ گیند بازی کے خالق قرار دیے جانے والے سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ یہ تینوں باصلاحیت کھلاڑی تھے، عامر تو بہترین باؤلر تھا، دنیا اس کے قدموں میں تھی، اُدھر سلمان بٹ کو ٹیسٹ سطح پر پاکستان کی قیادت کرنے کا شرف ملا اور آصف نے اُس دورے میں اپنی متاثر کن گیند بازی سے شائقین کے دل موہ لیے تھے لیکن انہوں نے ملک کی ساکھ کو داؤپر لگایا اور کرکٹ سے محبت کرنے والوں اور پاکستانی قوم کے دل توڑے۔

انہوں نے کہا کہ ”بالکل سیدھی سے بات ہے، آپ ملازمت میں دھوکے بازی سے کام لیں اور آپ کے مالک کو معلوم ہو جائے تو وہ آپ کو نکال باہر کرے گا، اور نہ آپ کو دوبارہ ملازمت پر رکھے گا اور نہ ہی کسی معاملے میں آپ کی کوئی مدد کرے گا۔ تو اِن کھلاڑیوں کے ساتھ کوئی مختلف رویہ کیوں اختیار کیا جائے؟“

دراصل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے حال ہی میں اشارہ دیا تھا کہ وہ رہائی کے بعد بحالی کے عمل کے دوران محمد عامر کی مدد کریں گے، جبکہ سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ بورڈ کو عامر سے مکمل قطعِ تعلق کرنا چاہیے اور کسی بھی صورت میں اُس کی کوئی مدد نہیں کرنی چاہیے۔ ”اپنی کم عمر ی کے باوجود اگر عامر کو مقامی یا بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنے کی اجازت دی جاتی ہے تو پی سی بی ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔ عامر اور اِس کے ساتھیوں کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے تاکہ آنے والے کھلاڑی یہ دیکھیں کہ اتنے اچھے کھلاڑیوں سے بھی کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔“

محمد عامر برطانیہ کی جیل میں 6 ماہ قید کی سزا کاٹنے کے بعد سنیچر کو پاکستان واپس پہنچے ہیں اور اس وقت ان کی نظریں سوئٹزرلینڈ میں واقع کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت پر مرکوز ہیں، جہاں عامر نے خود پر لگائی گئی 5 سال کی پابندی کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے لیکن ابھی تک اس کی سماعت کا آغاز نہیں ہو پایا۔ اگر ثالثی عدالت بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے عائد کردہ 5 سال کی پابندی کو غلط قرار دیتی ہے تو عامر فوری طور پر یا مختصر عرصے میں دنیائے کرکٹ میں واپس آ سکیں۔

یہ انٹرویو پاک پیشن انتظامیہ کی جانب سے کرک نامہ کو ارسال کیا گیا تھا اور ان کی اجازت سے ترجمے و ترمیم کے بعد یہاں پیش کیا گیا ہے۔ ہم خصوصی انٹرویو کی فراہمی پر پاک پیشن انتظامیہ کے شکر گزار ہیں۔

Facebook Comments