[آج کا دن] عقابی نگاہوں کے اوپنر گورڈن گرینج کا یوم پیدائش

دنیائے کرکٹ کے بیشتر ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ 1970ء کی دہائی کے اوائل سے لے کر 1990ء کے ابتدائی ایام تک ویسٹ انڈیز کرکٹ تاریخ کی مضبوط ترین ٹیم تھا۔ دنیا کے بہترین گیند بازوں میلکم مارشل، جوئیل گارنر، مائیکل ہولڈنگ اور کولن کرافٹ کے علاوہ اس ٹیم کو شعلہ فشاں بلے بازوں کی بھی خدمات حاصل تھیں، جو دنیا کے کسی بھی باؤلنگ اٹیک کے پرخچے اڑا دیتے تھے۔ انہی میں سے ایک نام عظیم اوپنر گورڈن گرینج کا تھا، جن کا آج یوم پیدائش ہے۔

اسکوائر کٹ، پل، ہک، کور ڈرائیو اور اسٹریٹ ڈرائیو کھیلنے میں اپنے زمانے میں گرینج کا کوئی ثانی نہ تھا (تصویر: The Cricketer International)

اسکوائر کٹ، پل، ہک، کور ڈرائیو اور اسٹریٹ ڈرائیو کھیلنے میں اپنے زمانے میں گرینج کا کوئی ثانی نہ تھا (تصویر: The Cricketer International)

ایک مغالطہ جو بہت زیادہ عام ہے، خصوصا نوجوان نسل میں، جنہوں نے 1985ء سے قبل کی کرکٹ نہیں دیکھی، کہ برق رفتار کرکٹ دور جدید کی پیداوار ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں جب ’عظیم ترین بلے باز‘ کہلوانے والے کھلاڑی 60 اوورز کے ایک روزہ مقابلوں میں 36 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر بیٹ کیری کرنے کو ترجیح دیں، ویسٹ انڈیز نے ایسے بلے بازوں کو جنم دیا جو آج بھی تیز رفتاری کے کئی ریکارڈز کے حامل ہیں۔ سست اننگز سے میرا اشارہ سنیل گاوسکر کی جانب ہے جنہوں نے عالمی کپ 1975ء جیسے اہم ٹورنامنٹ میں انگلستان کے خلاف میچ میں 174 گیندوں پر صرف 36 رنز بنائے اور میدان سے ناٹ آؤٹ لوٹے۔ یوں 202 رنز کے مارجن سے ایک ذلت آمیز شکست بھارت کے نصیب میں لکھی گئی۔ بہرحال، عین اسی زمانے میں تیز بلے بازی کو جس ٹیم نے متعارف کروایا وہ ویسٹ انڈیز تھی۔ جس میں گورڈن گرینج کے علاوہ ویوین رچرڈز جیسا کھلاڑی بھی تھا، جنہیں ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا ’عظیم ترین بلے باز‘ گردانا جاتا ہے۔

بلّے کی طاقت اور اس پر گرینج کی عقابی نگاہیں اور حملہ کرنے کی فطری صلاحیت نے انہیں گیند بازوں کے لیے ایک بھیانک خواب بنا دیا۔انگلستان میں پلنے بڑھنے والے گرینج نے بین الاقوامی کرکٹ کے لیے اپنے آبائی وطن کا انتخاب کیا۔

اگر کسی لمحے کو ان کے کیریئر کی معراج قرار دیا جائے تو وہ 1984ء کا لارڈز ٹیسٹ ہوگا۔ جس میں انگلستان کے خلاف ان کی 242 گیندوں پر کھیلی گئی 214 رنز کی اننگز کر ’ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی بہترین اننگز‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔ انگلستان سمجھ رہا تھا کہ ایک دن سے بھی کم وقت میں 342 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنا ویسٹ انڈیز کے لیے ممکن نہ ہوگا، لیکن جب وہ ہدف حاصل کرنے کے لیے میدان میں اترا تو گرینج کے بلے سے نکلنے والے رنز کا سیلاب نے سب کچھ تہہ و بالا کر ڈالا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ انگلش کپتان ڈیوڈ گاور نے دوسری اننگز ڈکلیئر کر کے کتنی بڑی غلطی کی۔

گرینج نے دوسری وکٹ پر لیری گومیس کے ساتھ مل کر 287 رنز کی ناقابل شکست رفاقت قائم کی اور ویسٹ انڈیز کو یادگار فتح سے ہمکنار کیا۔ 29 چوکوں اور دو چھکوں سے مزین اس ڈبل سنچری اننگز کی بدولت پانچ ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کے دوسرے معرکے میں ویسٹ انڈیز کی برتری دوگنی ہوئی۔ بعد ازاں ویسٹ انڈیز نے انگلستان کو چاروں شانے چت کیا اور سیریز 5-0 سے جیتی۔ جی ہاں، یہ وہی سیریز ہے جسے ’بلیک واش‘ کا نام دیا گیا تھا۔ انگلستان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب اور ویسٹ انڈیز کی ’سطوتِ ماضی کا ایک نشان پائیدار‘۔

گورڈن گرینج اور ڈیسمنڈ ہینز کی جوڑی کرکٹ تاریخ کی بہترین اوپننگ جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے دنیا بھر کے میدانوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ دونوں کے درمیان کل 16 سنچری شراکت داریاں قائم ہوئیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔ ان میں سے 4 رفاقتیں ایسی تھیں جنہوں نے 200 کے ہندسے کو بھی عبور کر لیا۔ دونوں نے باہم کھیلی گئی 148 اننگز میں 47.31 کے زبردست اوسط سے 6482 رنز بنائے ۔

1974ء کے دورۂ بھارت میں بنگلور ٹیسٹ سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرنے والے گرینج نے 1991ء تک ویسٹ انڈین کرکٹ کی خدمت کی اور ان جیسے عظیم کھلاڑیوں کے جاتے ہی ویسٹ انڈین کرکٹ کا بھی خاتمہ ہو گیا اور وہ دوبارہ ویسا غلبہ حاصل نہ کر سکی۔

گورڈن گرینج کے کیریئر پر ایک نظر

مقابلے رنز بہترین اسکور اوسط سنچریاں نصف سنچریاں
ٹیسٹ 108 7558 226 44.72 19 34
ایک روزہ 128 5134 133* 45.03 11 31

Facebook Comments