[اعدادوشمار] سنگاکارا کی ڈبل سنچریوں کی کتھا

گال کے خوبصورت بین الاقوامی اسٹیڈیم میں جب کمار سنگاکارا بوجھل قدموں کے ساتھ 199 پر پویلین واپس لوٹے تو وہ ایک تاریخی سنگ میل سے محض ایک قدم کے فاصلے پر تھے۔ کمار سنگاکارا اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں اور اگر وہ اپنی نویں ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو وہ دوسرے نمبر پر موجود برائن لارا کے برابر آ جاتے اور پھر ان کی نظریں عظیم آسٹریلین بلے باز سر ڈان بریڈمین کے 12 ڈبل سنچریوں کے ریکارڈ پر ہوتیں۔ لیکن اب انہیں دوبارہ نئے سرے ایک اننگز تراشنا ہوگی جو ان کے ’ڈبل سنچری تمغوں‘ کی قطار میں تازہ اضافہ ہو۔

کمار سنگاکارا نے آخری ڈبل سنچری اکتوبر 2011ء میں پاکستان کے خلاف ابوظہبی میں بنائی تھی (تصویر: AFP)

کمار سنگاکارا نے آخری ڈبل سنچری اکتوبر 2011ء میں پاکستان کے خلاف ابوظہبی میں بنائی تھی (تصویر: AFP)

جب جولائی 2000ء میں قانون کے طالب علم 22 سالہ اس نوجوان بلے باز نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے کے لیے گال کے اسی تاریخی میدان میں قدم رکھا تھا تو وہ سنتھ جے سوریا اور ارجنا راناتنگا جیسے عظیم بلے بازوں کے سائے تلے تھا اور اسی مقابلے میں جے سوریا نے 148 اور اس کے موجودہ قریبی ساتھی مہیلا جے وردھنے نے 167 رنز کی اننگز کھیل کر جنوبی افریقہ کو ایسا سبق سکھایا کہ وہ آج تک نہیں بھولا ہوگا۔ ایک طرف سری لنکا کے 522 رنز کا ہمالیہ جیسا پہاڑ اور دوسری طرف مرلی دھرن کی جادوگری۔ جن کی 13 وکٹوں کی بدولت سری لنکا نے مقابلہ ایک اننگز اور 15 رنز سے با آسانی جیتا۔ اس میچ میں سری لنکاکی واحد اننگز میں کمار سنگاکارانے 23 رنز بنائے اور اگلے میچ میں بھی اس کا بلّا رنز نہ اگل سکا اور سری لنکا میچ ہار کر سیریز بھی برابر کر بیٹھا لیکن اتنے بڑے بلے بازوں کی موجودگی میں یہ نوجوان کچھ گہنا گیا اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہ کر پایا۔

لیکن اسی سال کے اواخر میں سری لنکا نے جنوبی افریقہ کا دورہ کرنا تھا، جسے دنیا بھر کی ٹیمیں ایک مشکل دورہ سمجھتی ہیں ۔ سری لنکا کے مقابلے میں وہاں کی وکٹیں اور ماحول یکدم مختلف ہے لیکن وہاں پہنچتے ہی سنگا نے ڈربن میں 74 رنز کی اننگز جڑی اور سنچورین میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں اپنی پہلی سنچری مکمل کرنے سے محض دو رنز کے فاصلے پر ہمت ہار بیٹھے۔ گو کہ سری لنکا بری طرح سیریز ہارا، دو میچز وہ اننگز کے مارجن سے ہار کر محض ایک مقابلہ ڈرا کر پایا لیکن جو اعتماد اس نوجوان نے حاصل کرنا تھا وہ اسے مل چکا تھا۔ 2001ء میں انگلستان کے خلاف کانڈی میں ایک مرتبہ پھر نروس نائنٹیز کا شکار ہونے کے بعد یہ گال کا میدان ہی تھا جہاں اگست 2001ء میں بھارت کے خلاف کمار سنگاکارا نے کیریئر کی پہلی سنچری بنائی اور پھر دوبارہ کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔محض تین ماہ بعد اسی میدان پر ویسٹ انڈیز کے 140 رنز کی اننگز کھیل کر سنگاکارا نے ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کر لی اور پھر ان کی نظر قوی ہیکل اننگز پر مرکوز ہو گئی۔

سری لنکا جیسی بیٹنگ پر بھروسہ کرنے والی ٹیم میں ایک مقام پانے کے لیے سنگاکارا کو ایک بڑی اننگز کھیلنے کی ضرورت تھی اور مارچ 2002ء میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں انہوں نے 230 رنز جڑ کر نہ صرف ایک سری لنکا کو ایشین چیمپئن بنوایا بلکہ پاکستان کے ایک مشہور عالم باؤلنگ اٹیک کے خلاف اپنی اہلیت ثابت کر دی۔ وقار یونس اور شعیب اختر جیسے تیز گیند بازوں کا ڈٹ کر سامنا کرنا کمار کی بہادری کی علامت تھا بلکہ اتنا بڑا اعزاز جتوانے میں کلیدی کردار ادا کرنے نے ان کے اندر زبردست حوصلہ پیدا کیا۔ آج بھی سنگاکارا اس ڈبل سنچری کو اپنے کیریئر کی یادگار ترین اننگز سمجھتے ہیں۔

پھر سلسلہ تھما نہیں، سنگاکارا نے اپنی دوسری ڈبل سنچری مئی 2004ء میں زمبابوے کے خلاف بلاوایو میں اسکور کی جبکہ محض چار ماہ بعد انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف کولمبو میں 232 رنز بنائے ۔ اسی میدان پر اور اسی حریف کے خلاف انہوں نے جولائی 2006ء میں 287 کی کیریئر بیسٹ اننگز کھیلی جس میں وہ بدقسمتی سے وہ ٹرپل سنچری تک نہ پہنچ پائے اور آج تک اس کے ذائقے سے محروم ہیں۔ البتہ انہوں نے کپتان مہیلا جے وردھنے کے ساتھ تیسری وکٹ پر 624 رنز کی جو ریکارڈ شراکت داری قائم کی، وہ مدعتوں یاد رکھی جائے گی۔

جولائی 2007ء میں کمار سنگاکارا ایک اور عالمی ریکارڈ کے قریب پہنچتے پہنچتے رہ گئے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں کولمبو اور کانڈی میں دو مسلسل ٹیسٹ مقابلوں میں ناقابل شکست ڈبل سنچریاں - کولمبو میں 200 اور کانڈی میں 222 رنز – بنائیں اور اس کے بعد اپنے اگلے ٹیسٹ یعنی ہوبارٹ میں آسٹریلیا کے خلاف 192 رنز پر امپائر کے ایک ناقص فیصلے کا نشانہ بن گئے اور یوں تاریخ کے پہلے بلے باز بننے سے محروم رہ گئے جس نے کیریئر کے مسلسل تین ٹیسٹ میچز میں ڈبل سنچریاں بنائی ہوں۔ اک ایسا ریکارڈ جس تک دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین بلے باز نہ پہنچ پائے، کو اتنا قریب سے گنوا بیٹھنا، اک ایسا غم ہے جسے شاید سنگاکارا محسوس بھی کرتے ہوں۔

بہرحال، انہوں نے جولائی 2010ء میں بھارت کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میں 219 رنز بنائے اورآخری ڈبل سنچری اکتوبر 2011ء میں پاکستان کے خلاف ابوظہبی میں بنائی جہاں ان کی ڈبل سنچری نے سری لنکا کو میچ بچانے میں مدد دی۔

وہ گال ہی میں پاکستان کے خلاف دوسری ڈبل سنچری داغ جاتے لیکن ’ٹوٹی کہاں کمند‘، البتہ سنگاکارا کے لیے 199 رنز کی یہ اننگز اس لیے بہت اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان کے خلاف گزشتہ سال کی مذکورہ سیریز کے بعد وہ صرف ایک مرتبہ تہرے ہندسے میں داخل ہو پائے ہیں جبکہ اس دوران وہ تین مرتبہ تو صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے جبکہ دو مرتبہ 2 اور ایک رن ہی بنا پائے۔ اس لیے اُن کے بلے سے رنز کااگلنا اور فارم میں واپس آنا ضروری تھا جو انہوں نے اپنے پسندیدہ میدان گال میں ایک مرتبہ پھر کر دکھایا اور سری لنکا کو بہت ہی مضبوط پوزیشن پر لے آئے۔

کیریئر میں 10 ہزار کا سنگ میل عبور کرنے کے قریب کمار سنگاکارا بلاشبہ سری لنکا کی سرزمین پر پیدا ہونے والے عظیم بلے بازوں میں ایک نیا اضافہ ہیں اور وہ ابھی کئی ریکارڈ اپنے نام کریں گے۔ اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو قوی ہیکل اننگز کے لیے کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب اور راناسنگھے پریماداسا دونوں اسٹیڈیم ان کے پسندیدہ میدان ہیں جہاں وہ آٹھ میں سے پانچ ڈبل سنچریاں جڑ چکے ہیں۔ ہم قارئین کی دلچسپی کے لیے کمار سنگاکارا کی تمام ڈبل سنچریوں کے اعداد و شمار یہاں پیش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ معلومات میں اضافے کا باعث بنیں گے:

کمار سنگاکارا کی ٹیسٹ ڈبل سنچریاں

رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
230 327 33 3 پاکستان لاہور مارچ 2002ء
270 365 36 2 زمبابوے بلاوایو مئی 2004ء
232 357 31 1 جنوبی افریقہ کولمبو اگست 2004ء
287 457 35 0 جنوبی افریقہ کولمبو جولائی 2006ء
200* 325 20 2 بنگلہ دیش کولمبو جولائی 2007ء
222* 277 28 0 بنگلہ دیش کولمبو جولائی 2007ء
219 335 29 0 بھارت کولمبو جولائی 2010ء
211 431 18 0 پاکستان ابوظہبی اکتوبر 2011ء

Facebook Comments