[اقتباسات] ”میں اور عمران خان“ جاوید میانداد کی آپ بیتی کا اہم باب (پہلی قسط)

1992ء کے ورلڈکپ میں کامیابی پاکستان ٹیم کا ایک شاندار کارنامہ تھا۔ یہ عمران خان سے میری طویل وابستگی کے دوران کچھ پانے کا نقطۂ عروج بھی تھا۔اس اعتبار سے میں اپنے آپ کو خوش نصیب بھی قراردوں گا کہ میں نے اپنے کھیل کے کیریئر کے دوران پاکستان ٹیم کو دنیا ئےکرکٹ کو مسخر کرنے والی ٹیم بنتے دیکھا۔ مگریہ سب کچھ عمران خان کے بغیر ممکن نہیں تھا۔شاید یہ عجیب سالگتا ہے کہ کوئی کرکٹر اپنی سوانح عمری لکھتے ہوئے کتاب کا پورا ایک باب کسی اور کرکٹر کے وقف کردے لیکن ظاہر ہے عمران خان کوئی عام سے کرکٹر نہیں ہیں وہ کرکٹ کی تاریخ کی عظیم ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ یہ بات بھی میری طرف سے ان کے لیے ایک قسم کا خراج عقیدت ہے۔

یہ عجیب سالگتا ہے کہ کوئی کرکٹر اپنی سوانح عمری لکھتے ہوئے کتاب کا پورا ایک باب کسی اور کرکٹر کو وقف کردے لیکن ظاہر ہے عمران خان کوئی عام سے کرکٹر نہیں ہیں وہ کرکٹ کی تاریخ کی عظیم ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں (تصویر: AFP)

یہ عجیب سالگتا ہے کہ کوئی کرکٹر اپنی سوانح عمری لکھتے ہوئے کتاب کا پورا ایک باب کسی اور کرکٹر کو وقف کردے لیکن ظاہر ہے عمران خان کوئی عام سے کرکٹر نہیں ہیں وہ کرکٹ کی تاریخ کی عظیم ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں (تصویر: AFP)

جب عمران اپنے کیریئر کی بلندیوں پر پہنچے تو انہوں نے پاکستان کی کرکٹ پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کی۔ وہ ایک ایسے جرنیل تھے جن کے احکامات کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا تھا۔ ان کو ایسا ہی ہوناتھا۔ بڑی حد تک اپنی اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے اور خاندان کے نام کی وجہ سے(ان کے دو کزن ماجدخان اور جاوید برکی پاکستان کے سابق کپتان رہ چکے تھے)، مگر درحقیقت پاکستان کی کرکٹ پر اُن کی گرفت مضبوط ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ ایک ایسے تیز باؤلر تھے جن کا کوئی ثانی نہیں تھا۔

پاکستان اعلیٰ بلےباز بغیر کسی دشواری کے پیدا کرتا آیا تھا۔ مگر عمدہ گیندبازخاص طور پر تیز باؤلر پیدا کرنا صرف انگلستان، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کا حق سمجھا جاتا تھا۔اس طرح عمران خان پاکستان کے حقیقی تیز گیندباز تھے۔ جن پر گیندبازوں کے بین الاقوامی طبقہ امراء کے دروازے کھولے گئے۔ وہ اس لیے اور متاثرکن تھے کہ وہ نہ صرف اپنی نسل بلکہ کرکٹ تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ٹیم کا دنیا بھر پر چھاجانے والی ٹیسٹ ٹیم بننا کسی ورلڈ کلاس حقیقی تیز باؤلر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ آپ کے پاس جتنے زیادہ صف اول کے تیز گیندباز ہوں، دنیا پر حکمرانی کے امکانات اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں۔ 1980ء کی ویسٹ انڈیز ٹیم جو ’کالی آندھی‘ کے نام سے مشہور ہوئی جسے کرکٹ تاریخ کی عظیم ٹیسٹ ٹیموں میں صف اول کا درجہ حاصل ہے، اس میں بھی ایسے ہی تیز گیندبازوں کا جتھا ہوا کرتا تھا اور یہ ٹیم اپنی اسی طاقت کے بل بوتے پر دنیائے کرکٹ پر اس طرح حکمرانی کرتی رہی جس کی پہلے نظیر نہیں تھی۔

عمران خان کو 1976-77ء میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف تاریخ ساز فتح کے بعد پہلی بار حقیقی تیز باؤلر تسلیم کیاگیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد وہ کیری پیکر ورلڈسیریز میں دنیا کی بہترین ٹیموں کے ساتھ کھیلے اور انہوں نے تمام بہترین بلے بازوں کو پریشان کیا۔ انہی دنوں میں عمران نے دنیا کے دوسرے تیزگیندبازوں کے ساتھ باؤلنگ رفتار کےمقابلوں میں حصہ لیا۔ عمران دنیائے کرکٹ کےصف اول حقیقی تیزگیندبازوں ڈینس للی، جیف تھامسن، مائیکل ہولڈنگ، اینڈی رابرٹس، مائیک پروکٹر، کولن کرافٹ اور جوئیل گارنر کے مقابلے پر اترے اور جیف تھامسن کے بعد دوسرے نمبر کے تیزترین باؤلر ہونے کا اعزازحاصل کیا۔اس منفرد و دلچسپ مقابلے نے دنیائے کرکٹ کی توجہ عمران پر مرکوز کی اور انہیں ایک غیرمعمولی باؤلر کےمقام پر سرفرازکردیا۔ اسی مقابلے نے خود عمران کو قائل کیا کہ بلاشک و شبہ وہ دنیا کے تیزترین اور بہترین گیندبازوں میں سے ایک ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کا اعتماد آسمان کو چھونے لگا۔

جب عمران خان صف اول کے تیز ترین گیندباز کی حیثیت سے دنیائے کرکٹ میں ابھرے، تو اُن کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ کا ستارہ بھی بلندیوں کی طرف سفر کرنےلگا۔ ٹیم کے لیے بلکہ ملک کے لیے عمران کی اہمیت دن بدن بے پناہ بڑھتی چلی گئی۔ پھر جب عمران پاکستان ٹیم کے کپتان بنے تو وہ سینہ تان کرآگے آئے اور بے جگری سے قیادت کی۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں دوسرے نمبر کے مال یعنی عام قسم کی صلاحیت و اہلیت کی کوئی گنجائش نہیں تھی وہ بڑی سختی سے کارکردگی کی بنیاد پر چناؤکرتے تھے۔ ہر ایک کو ٹیم میں اپنی جگہ کی فکر رہتی لہٰذاہرایک اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا کرتا۔ عمران کیونکہ اپنی طاقت اور صلاحیت کے قلعے میں محفوظ تھے، لہٰذا ان کوکسی کا ڈراور خوف نہیں تھا۔ اس سے کھلاڑیوں بلکہ خود پاکستان کرکٹ بورڈ انتظامیہ پر عمران کا رعب و دبدبہ اورایک طرح کاخوف بیٹھ گیاتھا۔

عمران اور میں نے پاکستان کے لیے اپنی بہترین کرکٹ ایک ساتھ کھیلی۔ عام طور پر وہ اپنی گیندبازی کی ذمہ داریاں سنبھالا کرتے اور میں بلے بازی میں نکیل ڈالنے کی کوشش کیا کرتا۔کئی سال تک ہم دونوں پاکستان کی کپتانی میں بھی شریک رہے۔ پاکستان میں یہ کہاجاتا ہے کہ عمران کے ساتھ میرے اشتراک نے پاکستان کرکٹ کو ایک نیا رخ دیا۔ قدرتی طور پرکسی ایسے تجزیے میں میرا بالکل ہی غیرجانبدار ہونا ممکن نہیں ہےمگر میں ایک بات جانتا ہوں کہ میرے لیے یہ ایک عظیم اعزاز رہا ہے کہ مجھے عمران کی شکل میں ایک ایسا ساتھی ملا، جس کے ساتھ مل کر میں نے پاکستان کے لیے اتنا کچھ کیا جو شاید میں کبھی تن تنہا نہیں کرسکتاتھا۔ آج میں جب پیچھے مڑ کر اپنی پیشہ ورانہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ بات مجھے خود کو انتہائی خوش نصیب سمجھنے پر مجبور کردیتی ہے کہ میں پاکستان کے لیے لگ بھگ اسی دور میں کھیل سکا جب عمران بھی پاکستان کے لیے کھیل رہے تھے۔ مجھ سےبسااوقات عمران سے میرے تعلقات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور میرا اپنا تاثر یہ ہے کہ پاکستان میں اور شاید پاکستان کے باہر بھی کرکٹ کو سمجھنے والوں میں اس بارے میں خاصا تجسس پایا جاتا ہے۔ میں نےکبھی بھی خود کو کسی اعتبار سےایسا کرکٹر نہیں سمجھا جو لاثانی ہو اور جس کی کوئی اور جگہ نہ لے سکے۔ میں نے اپنی زندگی کی بہترین اننگز عمران کی قیادت میں کھیلی اور میں سمجھتا ہوں وہ بھی بلے باز کی حیثیت سے میری کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔ میں بھی اکثر عمران کو مشورے دیا کرتا تھا جو عام طور پر باؤلنگ کی تبدیلیوں، فیلڈنگ پوزیشن اور بیٹنگ آرڈر کے بارے میں ہوا کرتے تھے۔ وہ میرے تجاویز کو اہمیت دیتے تھے اس لیے ان پر عمل بھی کرتے تھے۔

جاوید میانداد کی آپ بیتی ”Cutting Edge“ سے اقتباس

Facebook Comments