اوول میں جنوبی افریقہ کی تاریخی فتح، ہاشم آملہ کی ٹرپل سنچری

’مرد درویش‘ ہاشم آملہ کی ٹرپل سنچری، قائد گریم اسمتھ اور مرد بحران ژاک کیلس کی شاندار اننگز اور برق رفتار ڈیل اسٹین کی قہر ڈھاتی ہوئی گیند بازی نے جنوبی افریقہ کو اننگز اور 12 رنز کی ایک تاریخی فتح سے ہمکنار کر دیا۔

جنوبی افریقہ کی کرکٹ تاریخ میں پہلی ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز ہاشم آملہ کو ملا (تصویر: Getty Images)

جنوبی افریقہ کی کرکٹ تاریخ میں پہلی ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز ہاشم آملہ کو ملا (تصویر: Getty Images)

ویسے آج سے تقریباً بھی انگلستان کے میدانوں پر کچھ ایسا ہی میلہ سجنے والا تھا، یعنی ’نمبر ایک بننے کی دوڑ‘ جس میں بھارت اور انگلستان شامل تھے اور اس سیریز سے یہ توقعات تک وابستہ کر لی گئی تھیں کہ یہ کرکٹ کی تاریخ کی دلچسپ ترین سیریز ہوگی لیکن نتیجہ؟ حد سے زیادہ مایوس کن ۔ بھارت تمام 4 ٹیسٹ میچز میں بدترین شکست سے دوچار ہوا اور انگلستان عالمی نمبر ایک بن گیا۔ اب ایک مرتبہ پھر انہی میدانوں میں ویسی ہی صورتحال درپیش ہے۔ اس مرتبہ ایک نمبر کی دوڑ میں انگلستان کا حریف ہے جنوبی افریقہ۔ اک ایسی ٹیم جو منزل سامنے آ جانے کے بعد لڑکھڑا جانے کی وجہ سے مشہور ہے لیکن اوول کے میدان میں جنوبی افریقہ نے پہلے دن کے حوصلہ شکن کھیل کے باوجود جس طرح میچ میں واپسی کی، اس سے ثابت ہوا کہ انگلستان کی نمبر ایک پوزیشن کو للکارنے والا اصل حریف میدان میں آ چکا ہے۔

ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرنے والا انگلستان پہلے دن کے اختتام پر بہت مطمئن تھا، 267 کے مجموعے پر اس کی محض تین وکٹیں گری تھیں۔ ایلسٹر کک 114 پر ناقابل شکست کھڑے تھے اور این بیل ان کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں موجود تھے۔ گو کہ اینڈریو اسٹراس کی صورت میں انگلستان کو پہلے ہی اوور میں وکٹ کھونا پڑی لیکن اس کے بعد کک اور جوناتھن ٹراٹ کے درمیان 170 رنز کی شراکت نے میچ کا جھکاؤ انگلستان کے پلڑے میں کر دیا۔ جنوبی افریقہ کےتیز باؤلرز، جنہیں اس وقت دنیا کا بہترین پیس اٹیک مانا جاتا ہے، مکمل طور پر بے بس دکھائی دیے۔ وہ ابتدا میں پہلی وکٹ ملنے کے بعد صرف چائے کے وقفے سے قبل جوناتھن ٹراٹ 71 رنز اورآخری سیشن میں کیون پیٹرسن 42 رنز کی وکٹیں لینے میں ہی کامیاب ہو سکے اور پہلا دن مکمل طور پر انگلستان کے نام رہا۔

ایسالگتا تھا کہ گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی انگلستان گھر میں شیر ثابت ہوگا لیکن دوسرا روز مکمل طور پر جنوبی افریقہ کے نام رہا۔ جس کے تمام ہی گیند بازوں نے صلاحیتوں کے عین مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دنیا کے نمبر ایک باؤلر ڈیل اسٹین نے صبح ابتدائی لمحات ہی میں ایلسٹر کک کو بولڈ اور اگلے اوور میں روی بوپارا کو وکٹوں کے پیچھے آؤٹ کروا کے جنوبی افریقہ کی واپسی کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے بعد انگلش وکٹیں مستقل گرتی رہیں اور سوائے وکٹ کیپر میٹ پرائیر کے کوئی بھی قابل ذکرمزاحمت نہ کر سکا۔ میٹ پرائیر نے 90 گیندوں پر 60 رنز بنائے اور آٹھویں وکٹ پر اسٹورٹ براڈ کے ساتھ 45 رنز کا اضافہ کیا اور بالآخر 385 کے مجموعی اسکور پر انگلش اننگز تمام ہوئی۔ یعنی محض 114 رنز کے اضافے پر انگلستان کی آخری 7 وکٹیں گر گئیں۔

پھر بھی انگلستان کو اپنی باؤلنگ پر بھروسہ تھا اور وہ پریشان نہیں دکھائی دیتا تھا۔ اس کی دانست میں 400 کے قریب کا مجموعہ ایسا تھا جس کے قریب جنوبی افریقہ پھٹک بھی نہ سکتا تھا۔ لیکن یہ اس کی بہت بڑی غلطی تھی اور جنوبی افریقہ نے ثابت کر دیا کہ اس وقت دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن اپ انگلستان کی نہیں بلکہ جنوبی افریقہ کی ہے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے مورنے مورکل 4 وکٹوں کے ساتھ کامیاب ترین باؤلر رہے، جنہوں نے حریف قائد جوناتھن ٹراٹ اور میٹ پرائیر کی قیمتی وکٹیں بھی حاصل کیں۔ دو، دو وکٹیں ڈیل اسٹین اور ژاک کیلس کو ملیں جبکہ عمران طاہر اور ویرنن فلینڈر کو ایک، ایک وکٹ حاصل ہوئی۔

گریم اسمتھ کی یہ روایت برقرار رہی کہ جس مقابلے میں بھی انہوں نے سنچری بنائی، جنوبی افریقہ کو شکست نہيں ہوئی (تصویر: Getty Images)

گریم اسمتھ کی یہ روایت برقرار رہی کہ جس مقابلے میں بھی انہوں نے سنچری بنائی، جنوبی افریقہ کو شکست نہيں ہوئی (تصویر: Getty Images)

گو کہ جنوبی افریقہ اس سے پہلے 13 مرتبہ اوول میں کھیلے گئے ٹیسٹ مقابلوں میں سے ایک بھی نہیں جیت پایا لیکن اس مرتبہ اس کے ارادے ہی الگ لگتے تھے۔ ابتدا اس نے بھی انگلستان جیسی ہی کی تیسرے اوور میں محض ایک کے مجموعے پر اوپنر الویرو پیٹرسن کی وکٹ کھونا پڑی، جب وہ جیمز اینڈرسن کی گیند پر وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے، لیکن اس کے بعد انگلش باؤلرز کی ’تاریخی درگت‘ کا آغاز ہو گیا۔ سب سے پہلے تو اسمتھ اور آملہ نے دوسرے روز مزید کسی نقصان سے بچایا اور دوسرے روز کے اختتام پر اسکور 86 رنز تک پہنچا دیا۔

کھیل کے تیسرے روز کپتان گریم اسمتھ، جو اپنے کیریئر کا 100 واں ٹیسٹ کھیل رہے تھے، نے سنچری داغ کر ایک تاریخ رقم کی۔ تہرے ہندسے کی اس اننگز کی بدولت گریم اسمتھ کرکٹ کی تاریخ کے ساتویں بلے باز بن گئے ہیں جنہوں نے 100 ویں ٹیسٹ مقابلے میں سنچری اسکور کی۔ ان سے قبل 6 بلے باز یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ گریم اسمتھ نے حریف انگلستان کے 385 رنز کے جواب میں اس وقت ہاشم آملہ کے ساتھ اننگز سنبھالی جب جنوبی افریقہ 1 رن پر اپنے دوسرے اوپنر الویرو پیٹرسن کو گنوا چکا تھا۔ اس موقع پر اسمتھ اور ہاشم آملہ نے دوسری وکٹ پر 259 رنز کی زبردست شراکت داری قائم کی اور جنوبی افریقہ کو مقابلے میں مکمل طور پر حاوی کر دیا۔

گریم اسمتھ نے 273 گیندوں پر 20 چوکوں کی مدد سے 131 رنز بنائے اور تیسرے روز چائے کے وقفے سے کچھ دیر قبل ٹم بریسنن کی گیند پر بدقسمتی سے بولڈ ہو گئے۔ جب گیند ان کے بلے سے لگنے کے بعد پیڈ سے ٹکرائی اور پھر دونوں ٹانگوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی وکٹوں میں جا لگی۔ بہرحال تب تک وہ تاریخ رقم کر چکے تھے یعنی ’سنچری ٹیسٹ میں سنچری‘ بنانے والے خاص کلب میں پہلے جنوبی افریقی کھلاڑی۔

حریف قائد کی وکٹ سمیٹ پر کچھ سکھ کا سانس لینے والے انگلش باؤلرز کے لیے ”ابھی عشق کے امتحاں“ اور بھی تھے کیونکہ اس کے بعد ہاشم آملہ اور ژاک کیلس کے درمیان 377 رنز کی ناقابل شکست طویل شراکت داری کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے ٹیسٹ میچ انگلستان کی پہنچ سے کہیں دور چلا گیا۔

اس شراکت داری کے دوران ہاشم آملہ جنوبی افریقہ کی تاریخ کے پہلے بلے باز بنے جنہیں ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہاشم محمد آملہ نے جنوبی افریقی اننگز کے 184 ویں اوور کی آخری گیند پر ٹم بریسنن کو چوکا رسید کیا اور اپنا نام تاریخ میں امر کروا لیا۔ وہ 22 ویں بلے باز ہیں جنہوں نے 300 کا ہندسہ عبور کیا۔ ان کی یہ ٹرپل سنچری اس لحاظ سے بھی تاریخی ہے کہ یہ 22 سال بعد انگلش سرزمین پر بننے والی پہلی ٹرپل سنچری بھی تھی۔ آخری مرتبہ 1990ء میں انگلستان کے گراہم گوچ نے 333 رنز بنائے تھے۔

ہاشم نے 529 گیندوں پر 35 چوکوں کی مدد سے 311 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ وہ 790 منٹ تک اس حال میں کریز پر موجود رہے کہ احترام رمضان میں میدان میں پانی یا مشروب نہیں پیا۔ اسی وجہ سے یہ غلط فہمی بڑے پیمانے پر پھیل گئی کہ وہ روزے سے ہیں، جس کی تردید انہوں نے تاریخی اننگز کی تکمیل کے بعد کی گئی ایک پریس کانفرنس میں کی کہ وہ دوران سفر ہونے کی وجہ سے روزے نہیں رکھ رہے اور بعد ازاں قضا رکھیں گے۔

بہرحال، ایک اینڈ سے ہاشم آملہ قہر کی صورت میں برسے تو دوسرے اینڈ سے ژاک کیلس نے بھی کسر نہ چھوڑی۔ انہوں نے 326 گیندوں پر 23 چوکوں اور 1 چھکے کی مدد سے 182 رنز بنائے اور ناقابل شکست رہے۔ کپتان گریم اسمتھ نے باہمی صلح و مشورے کے بعد چوتھے روز چائے کے وقفے میں اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا اور انگلستان کو ایک مشکل ہوتی ہوئی پچ پر ہدف دیا کہ وہ 252 رنز کی برتری کو اتارے اور اپنے گیند بازوں کو جان لڑا دینے کا حکم دیا کہ وہ اس برتری تک پہنچنے سے قبل ہی حریف کا کام تمام کر دیں۔

ڈیل اسٹین کی پانچ وکٹوں نے انگلستان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی (تصویر: Getty Images)

ڈیل اسٹین کی پانچ وکٹوں نے انگلستان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی (تصویر: Getty Images)

انگلش بلے باز تو کامیاب نہ ہو سکے لیکن جنوبی افریقی باؤلرز نے وکٹ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور وہ بھی تندہی کے ساتھ ۔ خصوصاً ڈیل اسٹین جس طرح انگلش بیٹنگ آرڈر پر جھپٹے اس نے میزبان بلے بازوں کو جمنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ گو کہ پہلی اور قیمتی ترین وکٹ ویرنن فلینڈر کے ہاتھ لگی جنہوں نے اپنے پہلے اور اننگز کے دوسرے اوور میں ایلسٹر کک کو صفر پر وکٹوں کے پیچھے آؤٹ کرایا لیکن اس کے بعد اسٹین نے جوناتھن ٹراٹ کو کیچ جبکہ مورنے مورکل نے کیون پیٹرسن کو بولڈ کر دیا۔ چوتھے دن کے اختتام سے قبل عمران طاہر نے ایک بہت ہی خوبصورت اوور کے بعد اینڈریو اسٹراس کو آؤٹ کر کے چوتھی وکٹ بھی گرا دی۔ وہ عمران کی ایک گیند کو سویپ کرنے کی کوشش میں اسکوائر لیگ پر فلینڈر کو کیچ تھما بیٹھے۔ انہوں نے 27 رنز بنائے۔

67 رنز پر 4 وکٹیں گر جانے کے بعد این بیل اور روی بوپارا نے مزید نقصان ہونے سے تو بچایا، لیکن میچ ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔ چوتھے دن کا اختتام انگلستان کے لیے انتہائی مایوس کن اسکور 102 رنز چار کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ ہوا۔ جنوبی افریقہ میچ پر مکمل طور پر حاوی ہو چکا تھا، اسے فتح کی جھلک نظر آ رہی تھی جبکہ انگلستان بچے کچھے بلے بازو ں سے کسی معجزے کی توقع لگائے بیٹھا تھا۔ یہ خوش فہمی نئی گیند ملنے سے پہلے ہی ڈیل اسٹین کے ہاتھوں شراکت داری کے خاتمے کے ساتھ تمام ہوئی۔ میٹ پرائیر نے پہلی اننگز کی طرح یہاں بھی اچھی بلے بازی کی لیکن ظاہر ہے وکٹ ایسی نہ تھی کہ اس پر جنوبی افریقہ کے ورلڈ کلاس باؤلرز کا سامنا کیا جاتا۔ گیند کبھی ایک دم اٹھ جاتا اور کبھی اچانک بیٹھ جاتا، جس کی وجہ سے بھی انگلستان کو چند وکٹیں گنوانا پڑیں۔

بہرحال میٹ پرائیر اور این بیل کے درمیان چھٹی وکٹ پر 86 رنز کی شراکت ضرور ہوئی جونیا گیند آتے ہی اختتام کو پہنچی اور پھر یکے بعد دیگرے وکٹیں گرتی چلی گئیں اور 240 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی اور جنوبی افریقہ ایک بہت بڑے مارجن سے فتح یا ب ٹھیرا۔

یہ 2010ء میں اسی میدان پر پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد اپنی سرزمین پر انگلستان کی پہلی شکست تھی۔

ڈیل اسٹین نے سب سے زیادہ 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تین وکٹیں عمران طاہر کو ملیں جس میں اینڈریو اسٹراس اور میٹ پرائیر کی دو قیمتی وکٹوں کے علاوہ جمی اینڈرسن کی صورت میں میچ کی آخری وکٹ بھی شامل تھی۔ ایک، ایک وکٹ مورنے مورکل اور ویرنن فلینڈر کو بھی ملی۔

ہاشم آملہ کو شاندار ٹرپل سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

جنوبی افریقہ کی 1-0 کی برتری کے ساتھ دونوں ٹیموں کے درمیان اگلا معرکہ 2 اگست سے ہیڈنگلے، لیڈز میں ہوگا جس سے قبل جنوبی افریقہ وارسسٹرشائر کے خلاف 27 جولائی سے دو روزہ ٹور میچ کھیلے گا۔

Facebook Comments