عمران نذیر کے بین الاقوامی کیریئر پر ایک نظر - پہلی قسط

بھارتی ریاست آندھراپردیش کے شہر وشاکھاپٹنم میں پاکستان اور سری لنکا کےدرمیان پیپسی کپ کا میچ، سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں 253 بنائے اور ہدف کےتعاقب میں پاکستان کی کامیاب ترین اوپننگ جوڑی عامر سہیل اور سعیدانور کے جانشینوں کے طور پر جب یہ دونوں بلے باز میدان میں اترے تو من میں ایک خوشگوار سا احساس جاگا کہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اب نوجوان تھام رہے ہیں اور ہم اپنی آنکھوں سے ایسا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ ان دو بلے بازوں میں ایک اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پرواز کرنے والے 19 سالہ شاہد خان آفریدی تھے اور بین الاقوامی کرکٹ کی دہلیز میں پہلا قدم رکھنے والے 18 سالہ عمران نذیر۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے اوور کی چوتھی گیند پر شاہد آفریدی اور تیسرے اوور کی پہلی گیند پر عمران نذیر کے آؤٹ ہونے سے یہ خواب ٹوٹ گیا اور ہم حقیقی دنیا میں واپس آگئے۔ لیکن یہ میچ عمران نذیر کی دنیائے کرکٹ میں آمد کی نوید ہونے کی وجہ سے ہمیشہ میرے ذہن میں یادگار رہے گا۔

عمران نذیر پہلے ایک روزہ میں 2 رنز بنا کر واپس لوٹے (تصویر: AFP)

عمران نذیر پہلے ایک روزہ میں 2 رنز بنا کر واپس لوٹے (تصویر: AFP)

عمران نذیراپنے کیریئر کی پہلی اننگز میں 3 گیندوں پر 2 رنز بنا کرآؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد اسی پیپسی کپ کے اپنے دوسرے میچ میں سعیدانور کی واپسی کی وجہ سے ون ڈاؤن پوزیشن پر کھیلنے آئے لیکن اس میچ میں بھی وہ 13 گیندوں پر صرف چار رنز ہی بنا پائے اور اس طرح اس ٹورنامنٹ کے دومیچوں میں وہ 6 رنز ہی بنا پائے۔ بنگلور کے چناسوامی اسٹیڈیم میں بھارت کے خلاف فائنل مقابلے میں انہیں باہر بٹھا دیا گیا اور پھر عمران نذیر شارجہ جانے والی ٹیم اور عالمی کپ 1999ء کے لئے قومی دستے میں جگہ حاصل نہ کر پائے بلکہ یہ سلسلہ مزید طول پکڑ گیا۔ ٹورنٹو، کینیڈا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تین میچز کی سیریز، نئی صدی کے آغاز پر شارجہ اور آسٹریلیا میں سہ فریقی ٹورنامنٹ، اور پھر سری لنکا کے خلاف تین میچز پر مشتمل ہوم سیریز میں بھی سلیکٹرز کی نظر عمران نذیر کو نہ پڑی یہاں تک کہ شاہد آفریدی کی مسلسل ناکامی اور پھر عامر سہیل کی دوبارہ ٹیم میں واپسی کے باوجود فارم حاصل کرنے میں ناکامی نے انہیں مجبور کردیا کہ وہ اس 'باصلاحیت' نوجوان کو ایک اور موقع دیا جائےاوراس طرح عمران نذیر کی ٹیم پاکستان میں واپسی یومِ پاکستان یعنی 23 مارچ 2000ء کو شارجہ میں بھارت کے خلاف ہوئی۔

اس میچ میں وہ ایک مرتبہ پھر شاہد آفریدی کے ساتھ پاکستانی اننگز کا آغاز کرنے آئے۔ شاہد تو توقعات کے عین مطابق دوسرے اوور کی پہلی گیند پر پویلین لوٹ گئے لیکن عمران نذیر نے 51 گیندوں پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 43 رنز بنائے۔ یہ مذکورہ مقابلے میں کسی بھی پاکستانی بلے باز کا سب سے عمدہ اسکور تھا کیونکہ پوری ٹیم 146 رنز پر ڈھیر ہو کر مقابل گنوا بیٹھی تھی۔ پاکستان جنوبی افریقہ کے ہاتھوں اگلے میچ میں بھی شکست سے دوچار ہوا البتہ عمران نذیر نے 114 گیندوں پر 71 رنز کی صبر آزما اننگز کھیل کر کیریئر کی پہلی نصف سنچری ضرور بنائی۔ گو کہ اگلے دونوں مقابلوں میں عمران نذیر بری طرح ناکام ہوئے لیکن پاکستان اپنے تجربہ کار بلے بازوں انضمام الحق اور محمد یوسف کی دو کارآمد اننگز کی بدولت میچز جیتنے میں کامیاب ہوا اور پاکستان فائنل میں پہنچ گیا۔

31 مارچ 2000ء کو کوکا کولا کپ کے فائنل میں جنوبی افریقہ کے خلاف عمران نذیر نے 7 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 89 گیندوں پر 69 رنز کی اہم اننگز کھیلی جبکہ دوسرے اینڈ سے شاہد آفریدی نے بھی 52 رنز بنا ڈالے اور دونوں نے 22 ویں اوور تک 123 رنز کی شاندار ابتدائی رفاقت قائم کی۔ یہ بحیثیت جوڑی دونوں کا پہلا کامیاب مقابلہ تھا۔ پاکستان یہ میچ وقار یونس کی شاندار گیند بازی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے گا کیونکہ ہنسی کرونیے کی شاندار بلے بازی کے بدولت ایک لمحے پر جنوبی افریقہ با آسانی 267 کے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا لیکن وقار نے مارک باؤچر، نکی بوئے، لانس کلوزنر اور پھر شان پولاک کو بولڈ کرکے جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن اپ کی کمر توڑ دی اور پاکستان کو 16 رنز سے کامیابی دلا کر اس دن اورسیریز کے مرد میدان کا خطاب اپنے نام کیا اور پاکستان کپ جیتنے میں کامیاب ہوا۔ عمران نذیر نے مذکورہ ٹورنامنٹ کی پانچ اننگز میں 38 رنز کی اوسط اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 194 رنز بنائے، یوں کسی حد تک یہ کامیاب کارکردگی کہی جا سکتی ہے۔ اور چونکہ پاکستان ٹیم ٹورنامنٹ بھی جیت چکی تھی اس لئے ان کی خامیوں پر سوال اٹھنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

اسی کامیابی کا پھل انہیں ویسٹ انڈیز میں سہ فریقی ایک روزہ بین الاقوامی سیریز کے لئے منتخب کردہ ٹیم میں شمولیت کی صورت میں ملا۔ پاکستان ٹورنامنٹ تو جیت گیا لیکن عمران نذیر کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی۔ زمبابوے کےخلاف ایک میچ میں 105 رنز کے علاوہ ایک اننگز بھی قابل ذکر نہ تھی اور مجموعی طور پر انہوں نے 28 کے اوسط سے 158 رنز بنائے۔ البتہ وہ ایشیا کپ کے لیے ڈھاکہ، بنگلہ دیش روانہ ہوئے اور کمزور میزبان ٹیم کے خلاف 80 رنز کے علاوہ غیر مستقل مزاجی ایک مرتبہ پھر آڑے آ گئی اور فائنل تک میں وہ صرف 3 رنز پر ڈھیر ہوئے اور مجموعی طور پر میچز میں 32 کے اوسط سے 127 رنز بنائے اور یہاں بھی انہوں نے واحد بڑا اسکور ایک کمزور ٹیم کے خلاف کیا۔ ویسے یہ ایشیا کپ پاکستان جیت گیا تھا، سعید انور، انضمام الحق اور معین خان کی بہترین بلے بازی کی بدولت۔

پھر ناکامیوں کے ایک طویل سلسلے کا آغاز ہوتا ہے۔ سری لنکا میں سنگر سیریز سہ فریقی ٹورنامنٹ میں انہوں نے گو کہ جنوبی افریقہ کے خلاف 80 رنز کی ایک اننگز ضرور کھیلی لیکن اس ٹورنامنٹ کے بعد سنگاپور چیلنج سیریز اور کینیا میں منعقدہ آئی سی سی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ میں بھی مواقع ملنے کے باوجود اپنی اہمیت نہ جتا سکے۔

لیکن اس کارکردگی کے باعث نوجوان بلے باز کی حیثیت سے انہیں 2000ء کے انگلستان کے دورۂ پاکستان کے لیے بھی منتخب کیا گیا حتیٰ کہ 24 اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے پہلے ایک روزہ میں بھی کھلایا گیا لیکن وہ متاثر نہ کر سکے۔ بعد ازاں سعید انور کو آرام دینے کی غرض سے انہیں دوبارہ ٹیم میں بلایا گیا تو وہ ’صفر‘ کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔

اک نوجوان کھلاڑی کو تجربے سے نوازنے اور غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیتے ہوئے سلیکٹرز انہیں بار بار منتخب کرتے رہے کیونکہ انہیں سعید انور کے ساتھی اور مستقبل کے اوپنر کی تلاش تھی جس کے لیے انہیں وہی موزوں ترین امیدوار نظر آئے۔ البتہ 2001ء کا دورۂ نیوزی لینڈ ان کے لیے پریشان کن ضرور ثابت ہوا کیونکہ سلیکٹرز نے ان کے ساتھ ایک اور اوپنر عمران فرحت کو منتخب کیا تھا۔ گو کہ سیریز میں دونوں بری طرح ناکام ہوئے لیکن برق عمران نذیر پر گرنے کے امکانات زیادہ تھے کیونکہ وہ ٹیم انتظامیہ کا اعتماد کھو چکے تھے جبکہ اب تو ان کی پوزیشن کا ایک اور امیدوار عمران فرحت کی صورت میں میدان میں موجود تھا۔

----- جاری ہے -----

Article Tags

Facebook Comments