ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست زندگی کا بدترین دن ہے، شکیب الحسن

بنگلہ دیش کے کپتان شکیب الحسن نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بدترین شکست ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا بدترین دن ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے لیے عالمی کپ ابھی بالکل ختم نہیں ہوا ہے اور ٹیم اگلے میچز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے امکانات کو برقرار رکھے گی۔

میچ کے بعد پریس کانفرنس میں شکیب الحسن نے کہا کہ ہم نے بالکل اچھا کھیل پیش نہیں کیا، مجھے ہر گز امید نہ تھی کہ ہم اتنا برا کھیلیں گے۔ دوسری جانب بپھرے ہوئے بنگلہ دیشی شائقین کرکٹ نے ٹیم کی ناکامی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور کپتان شکیب الحسن کے گھر پر پتھراؤ کرتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے۔

شکیب ویسٹ انڈیز کے خلاف وکٹ گنوانے کے بعد پویلین لوٹتے ہوئے (گیٹی امیجز)

میرپور، ڈھاکہ کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں میچ کے لیے تمام 25 ہزار ٹکٹ فروخت ہو چکے تھے۔ لیکن ٹاس جیت کر بنگلہ دیش کے محض 58 رنز پر آل آؤٹ ہو جانے کے باعث اس ڈے اینڈ نائٹ میچ میں لائٹس جلانے کی نوبت بھی نہیں آئی کیونکہ 31 اوورز میں دونوں اننگز مکمل ہو گئیں۔ بنگلہ دیش کی ناقص کارکردگی پر تماشائیوں میں غم و غصہ دیکھا گیا جنہوں نے پلے کارڈز پھاڑ کر پھینک دیے اور ٹیم کے آل آؤٹ ہونے سے پہلے ہی لوگوں کی بڑی تعداد اسٹیڈیم چھوڑ کر چلی گئی۔ یہ بنگلہ دیش کا ایک روزہ کرکٹ میں سب سے کم اسکور ہے۔ اس سے قبل وہ 2008ء میں آسٹریلیا کے خلاف ڈارون میں 78 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا تھا۔

شکیب نے کہا کہ شائقین کے غم و غصے پر انہیں بالکل حیرت نہیں ہے، انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ وہ ہم سے بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے کیونکہ حالیہ کچھ عرصے میں ہماری کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔ شائقین ہم سے توقع رکھتے ہیں کہ ہم اپنے میدانوں پر اچھی ٹیموں کو شکست دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوائے ٹاس جیتنے کے ہم نےکچھ نہیں کیا۔

میزبان بنگلہ دیش، جو عالمی کپ 2011ء کے گروپ بی میں شامل ہے، کوارٹر فائنل مرحلے تک پہنچنے کے لیے اب مشکلات سے دو چار ہے۔ ان کے اگلے مقابلے انگلستان، جنوبی افریقہ اور نیدرلینڈز سے ہیں تاہم شکیب سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیش اب بھی اگلے مرحلے کی دوڑ سے باہر نہیں ہوا ہے۔

شکیب کا کہنا ہے کہ اگر ٹیم اگلے تین میں سے دو میچز جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ان کا کوارٹر فائنل تک پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ اتنی بری شکست کے بعد ایسا کرنا مشکل ہے لیکن کھلاڑی جانتے ہیں کہ وہ جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی اس کا مظاہرہ کیا ہے۔

میچ کے بعد شام کو چند نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے شکیب الحسن کے گھر پر حملہ کیا اور گھر پر پتھر پھینکے۔ جس کے نتیجے میں متعدد کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ شکیب کے والد مشرور رضا کے مطابق جن کمروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ان میں پہلی منزل پر واقعے شکیب الحسن کا کمرہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں ہزاروں شائقین کرکٹ نے بنگلہ دیشی ٹیم کی جرسیاں نذر آتش کیں۔ گزشتہ روز بنگلہ دیشی شائقین نے میدان سے واپس ہوٹل جانے والی ویسٹ انڈین ٹیم کی بس پر بھی پتھراؤ کیا تھا۔

Facebook Comments