جنوبی افریقہ کی سہ روزہ بادشاہت کا خاتمہ، انگلستان ’مستقل نمبر ایک‘ بن گیا

جیمز ٹریڈویل کی عمدہ گیند بازی اور این بیل کی 88 رنز کی بہترین اننگز نے انگلستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف نہ صرف 2-1 ناقابل شکست برتری دلا دی بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنا دیا کہ وہ بحیثیت مجموعی ایک مایوس کن سیریز کا اختتام ایک روزہ میں عالمی نمبر ایک ہی کی حیثیت سے کرے گا۔ جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز میں جیت اور بعد ازاں ایک روزہ میں 1-0 کی برتری حاصل کرنے کے باوجود اسے برقرار نہ رکھ پایا اور اب ہاتھ میں آنے کے باوجود اپنی عالمی نمبر ایک پوزیشن برقرار نہ رکھ پایا اور اس کی محض تین دن کی بادشاہت کا لارڈز میں خاتمہ ہو گیا۔ انگلستان کے لیے سب سے زیادہ حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اب رواں سال کے اختتام تک کوئی ٹیم اسے نمبر ایک کی حیثیت سے نہیں ہٹا سکتی، ہاں! بھارت کو جنوری میں انگلستان کے خلاف ایک روزہ سیریز میں یہ موقع ملے گا لیکن جنوبی افریقہ کے لیے نجانے کب تک دوبارہ نمبر ون ایک روزہ ٹیم بننا خواب رہے گا۔

این بیل سنچری تو مکمل نہ کر پائے لیکن قیمتی رنز کی بدولت میچ کے بہترین کھلاڑی ضرور بنے (تصویر: PA Photos)

این بیل سنچری تو مکمل نہ کر پائے لیکن قیمتی رنز کی بدولت میچ کے بہترین کھلاڑی ضرور بنے (تصویر: PA Photos)

انگلستان نے تاريخی میدان میں کھیلے گئے سیریز کے چوتھے ایک روزہ کا بہت قیمتی ٹاس جیتا اور جنوبی افریقہ کو بلے بازی کی دعوت دی ۔ گو کہ ابتداء میں کیچ چھوڑنے نے باؤلرز کے لیے مددگار حالات کا مزا کرکرا ضرور کیالیکن جنوبی افریقہ 68 رنز کا عمدہ آغاز پانے کے بعد ٹریڈویل کے وار نہ سہہ سکا جن کی گیندوں پر تینوں مرتبہ وکٹ کیپر کریگ کیزویٹر نے آگے بڑھتے ہوئے بلے بازوں کو اسٹمپ کیا۔ بہرحال، ٹریڈویل نے ابتدا میں ہاشم آملہ کا کیچ چھوڑنے کا ازالہ خوبصورت باؤلنگ کے ذریعے کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے دومنی کو اس وقت ایک خوبصورت گیند پر وکٹوں کے پیچھے آؤٹ کروایا جب جنوبی افریقہ 100 رنز پر اپنے دونوں اوپنرز کھو چکا تھا اور اسے بلے بازوں کی جانب سے کسی بہت اچھی شراکت داری کی ضرورت تھی۔ لیکن دومنی غیر ضروری طور پر آگے بڑھ کر ٹریڈویل کو کھیلنے کی کوشش میں اتنے آگے نکل گئے کہ ان کے پاس گیند نکل جانے کے بعد واپس آنے کا موقع ہی نہ تھا اور کیزویٹر نے با آسانی ان کی بیلز اڑائیں۔ کچھ ہی دیر بعد فرانکو دو پلیسے بوپارا کی ایک گیند تھرڈمین کی جانب کھیلنا چاہ رہے تھے لیکن گیند ایسا نہیں چاہتی تھی، وہ بلے کا اندرونی کنارہ لیتی ہوئی سیدھا وکٹوں میں گھس گئی۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہاشم آملہ 45 اور گریم اسمتھ 29 رنز کے پویلین لوٹنے کے بعد مڈل آرڈر کے ہاتھ پیر پھول گئے تھے۔

اس صورتحال میں کپتان ڈی ولیئرز اور ڈین ایلگر نے تقریباً 12 اوورز تک وکٹ تو نہ گرنے دی لیکن رنز بنانا اور حریف باؤلرز کی گیندوں کو سمجھنا اُن کے بس کی بات نہ لگتی تھی۔ دونوں بلے باز کھیلنا کوئی شاٹ چاہتے تھے اور لگ کوئی شاٹ جاتا تھا، بہرحال اس کشمکش میں انہوں نے آخری پاور پلے بھی گزار دیا اور اس کے فوراً بعد ڈی ولیئرز ٹریڈویل اور کیزویٹر ملاپ کا دوسرا نشانہ بن گئے۔ انہوں نے 46 گیندوں پر 39 رنز بنائے۔ ان کے روانہ ہوتے ہی کسی اچھے اسکور کی امید موہوم ہو گئی۔

رابن پیٹرسن نے آخری لمحات میں 20 گیندوں پر 31 رنز کی دلکش و ناقابل شکست اننگز کھیلی، جس میں ریورس سوئپ پر ایکسٹرا کور میں پھینکا گیا ایک خوبصورت چھکا بھی شامل تھا، اور یوں اسکور کو حتی الوسع آگے بڑھایا، جبکہ ڈین ایلگر نے 59 گیندوں پر 35 رنز بنائے۔

ٹریڈویل نے 35 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو کھلاڑیوں کو روی بوپارا اور ایک، ایک کو اسٹیون فن اور جیڈ ڈرنباخ نے آؤٹ کیا۔

این بیل نے 137 گیندوں پر 88 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ہدف کے تعاقب میں موجود انگلستان کو بالادست پوزیشن پر رکھا۔ گو کہ ڈیل اسٹین نے پہلے ہی اوور میں ایلسٹر کک کو ٹھکانے لگا دیا تھا لیکن یہ بیل اور جوناتھن ٹراٹ کے درمیان دوسری وکٹ پر 141 رنز کی رفاقت تھی جس نے فتح کو یقینی بنایا۔ گو کہ اسٹین ایک اینڈ سے بہت تباہ کن باؤلنگ کر رہے تھے لیکن مورنے مورکل کی عدم موجودگی اور لونوابو سوٹسوبے کی فارم میں عدم موجودگی جنوبی افریقہ کی شکست کے لیے کافی ثابت ہوئی۔

دونوں بلے بازوں نے 31 اوورز تک میدان میں قدم جمائے رکھے اور اس دوران جوناتھن ٹراٹ نے ڈیل اسٹین کی کچھ گیندیں اپنے جسم پر بھی کھائیں اور متعدد بار ٹیم ڈاکٹر کو میدان میں طلب کیا، اور اطلاعات کے مطابق میچ کے بعد ہسپتال بھی گئے، لیکن کوئی بھی صورتحال انہیں 48 رنز کی اننگز کھیلنے سے نہ روک سکی جبکہ دوسرے اینڈ سے این بیل تو فتح گر اننگز کھیل ہی رہے تھے۔

بدقسمتی سے بیل اپنی سنچری مکمل نہ کر پائے اور 88 کے اسکور پر ڈیل اسٹین کی دوسری وکٹ بن گئے۔ انہوں نے 137 گیندیں کھیلیں اور ایک چھکے اور 8 چوکوں کی مدد سے ایک خوبصورت اننگز تراشی۔ البتہ وہ میچ کے بہترین کھلاڑی ضرور قرار پائے۔

فتح کے تعاقب میں 20 منٹ کا وقفہ اس وقت آیا جب میدان کو بارش نے آ لیا، لیکن اس وقت بھی انگلستان ڈک ورتھ لوئس طریق کار کے تحت مطلوبہ اسکور سے کہیں آگے تھا اور اگر مقابلہ وہیں رک بھی جاتا تو فتح انگلستان ہی کو نصیب ہوتی۔ بہرحال، بارش ختم ہوتے ہی ٹیمیں ایک مرتبہ پھر میدان میں تھیں اور بالآخر 47 ویں اوور میں کریگ کیزویٹر نے اسٹین کو چھکا رسید کر کےمیچ کا خاتمہ کر دیا۔

انگلستان کے لیے ٹیسٹ سیریز میں شکست اور پہلے ون ڈے کے بارش کی نذر ہو جانے کے بعد دوسرے میں ہار کے بعد مسلسل دو مقابلوں میں فتوحات بہت حوصلہ افزاء ہوں گی اور انہی سے ملنے والے حوصلے کے ذریعے وہ 5 ستمبر کو ناٹنگھم میں ہونے والے آخری ایک روزہ میں فتح حاصل کر کے سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کرے گا۔

انگلستان بمقابلہ جنوبی افریقہ

چوتھا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

2 ستمبر 2012ء

بمقام: لارڈز، لندن، برطانیہ

نتیجہ: انگلستان 6 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: این بیل (انگلستان)

جنوبی افریقہ رنز گیندیں چوکے چھکے
گریم اسمتھ ک کیزویٹر ب ڈرنباخ 45 73 3 1
ہاشم آملہ ب بوپارا 18 22 3 0
ژاں پال دومنی اسٹمپ کیزویٹر ب ٹریڈویل 39 46 2 0
ابراہم ڈی ولیئرز اسٹمپ کیزویٹر ب ٹریڈویل 1 8 0 0
فرانکو دو پلیسے ب بوپارا 35 59 1 0
ڈین ایلگر ک کیزویٹر ب فن 5 13 0 0
وین پارنیل اسٹمپ کیزویٹر ب ٹریڈویل 31 20 4 1
رابن پیٹرسن ناٹ آؤٹ 1 1 0 0
راین میک لارن رن آؤٹ 3 4 0 0
ڈیل اسٹین ناٹ آؤٹ
فاضل رنز ل ب 7، و 6 13
مجموعہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 220

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
اسٹیون فن 10 0 33 1
جیمز اینڈرسن 7 0 32 0
جیڈ ڈرنباخ 9 0 51 1
روی بوپارا 9 0 34 2
سمیت پٹیل 7 0 28 0
جیمز ٹریڈویل 8 0 35 3

 

انگلستانہدف: 221 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ایلسٹر کک ایل بی ڈبلیو ب اسٹین 2 6 0 0
این بیل ک ڈی ولیئرز ب اسٹین 88 137 8 1
جوناتھن ٹراٹ ایل بی ڈبلیو ب ایلگر 48 77 4 0
روی بوپارا ک ڈی ولیئرز ب میک لارن 6 14 1 0
ایون مورگن ناٹ آؤٹ 36 36 5 0
کریگ کیزویٹر ناٹ آؤٹ 21 12 3 1
فاضل رنز ب 3، ل ب 7، و 11، ن ب 2 23
مجموعہ 46.4 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 224

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ڈیل اسٹین 9.4 0 47 2
لونوابو سوٹسوبے 8 0 36 0
راین میک لارن 9 0 52 1
ڈین ایلگر 5 0 15 1
وین پارنیل 8 0 39 0
رابن پیٹرسن 7 1 25 0

Facebook Comments