ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء: ٹیموں کی سیمی فائنل تک رسائی، مگر کیسے؟

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کا اہم ترین مرحلہ سپر 8 اپنے اختتامی مرحلے میں پہنچ چکا ہے، اور سب ٹیموں کے آخری مقابلے اس امر کو طے کریں گے کہ سیمی فائنل کون سی چار ٹیمیں کھیلیں گی۔

شین واٹسن ٹورنامنٹ کے اب تک کے بہترین بلے باز اور بہترین گیند باز ہیں۔ آسٹریلیا اپنی غیر متوقع کارکردگی کے باعث اس وقت سیمی فائنل کھیلنے کا سب سے مضبوط امیدوار ہے (تصویر: ICC)

شین واٹسن ٹورنامنٹ کے اب تک کے بہترین بلے باز اور بہترین گیند باز ہیں۔ آسٹریلیا اپنی غیر متوقع کارکردگی کے باعث اس وقت سیمی فائنل کھیلنے کا سب سے مضبوط امیدوار ہے (تصویر: ICC)

اس امر سے قطع نظر کہ گروپ مرحلے میں تمام گروپس کی ٹاپ ٹیموں کو ایک گروپ میں اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں کو ایک گروپ میں رکھ کر کتنا انصاف برتا گیا، بہرحال یہ بات ماننے کی ہے کہ سپر 8 واقعی "سپر مرحلہ" ثابت ہوا ہے۔ تمام ٹیمیں اپنے دو، دو میچز کھیلنے کے بعد آخری مقابلوں کے لیے پر تول رہی ہیں اور اب بھی بالکل واضح نہیں ہوا کہ وہ کون سی چار ٹیمیں ہیں جو فائنل تک پہنچنے کے لیے نبرد آزما ہوں گی۔

چلیے پہلے بات کرتے ہیں پاکستان کے گروپ یعنی گروپ 2 کی، جسے "گروپ آف ڈیتھ" کانام دیا گیا۔ یہاں گو کہ آسٹریلیا دو کراری فتوحات حاصل کر چکا ہے لیکن اب بھی معمولی سا امکان موجود ہے کہ وہ بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے۔ گو کہ کل یعنی منگل کو ہونے والے آخری مقابلے ہی سیمی فائنل میں پہنچنے والی دو ٹیموں کا تعین کریں گے لیکن کچھ اندازہ ہم اس تجزیے سے بھی لگا سکتے ہیں:

آسٹریلیا

آسٹریلیا پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں سیریز ہارنے کے باوجود ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہے اور سپر 8 میں بھارت اور جنوبی افریقہ کو شکست دے کر اب تک چار پوائنٹس حاصل کر چکا ہے اور گروپ میں سرفہرست ہے۔ اگر آسٹریلیا پاکستان سے ایک بڑے فرق 50 یا زیادہ رنز سے ہار جاتا ہے اور بھارت جنوبی افریقہ کو بڑے مارجن سے شکست دے دیتا ہے تو آسٹریلیا ٹورنامنٹ سےباہر ہوجائے گا اور بھارت اور پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے اگر آسٹریلیا کو سیمی فائنل کھیلنا ہے تو یا تو پاکستان کو شکست دے دے، یا اگر ہار بھی گیا تو ہارنے کا مارجن بڑا نہیں ہونا چاہیے۔ ویسے آسٹریلیا کی اب تک کی کارکردگی کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ آسٹریلیا سیمی فائنل نہ کھیلے، یہ تقریباً ناممکنات میں سے ہے۔

بھارت

بھارت کو آسٹریلیا کے ہاتھوں کراری شکست کا خمیازہ اس صورت میں بھگتنا ہوگا کہ پہلے دعا کرے کہ پاکستان آسٹریلیا سے ہار جائے، اور پھر خود بھی جنوبی افریقہ کو زیر کرے۔ اگر پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دے دی تو پھر بھارت کو جنوبی افریقہ کو ایک بڑے فرق سے ہرانا ہوگا تاکہ ان کا نیٹ رن ریٹ پاکستان سے بہتر ہوجائے اور وہ پاکستان کی جگہ سیمی فائنل کھیلنے کا حق حاصل کرلے۔ واضح ہو کہ بھارت جنوبی افریقہ سے شکست کھانے کے باوجود بھی سیمی فائنل کھیل سکتا ہے اگر آسٹریلیا پاکستان کو ایک بڑے مارجن سے ہرا دے، اور بھارت کی جنوبی افریقہ سے ہار کا مارجن زیادہ نہ ہو۔

جنوبی افریقہ

جی ہاں! بالکل جنوبی افریقہ کا سیمی فائنل کھیلنے کی امیدوں کے چراغ ابھی گل نہیں ہوئے۔ اگر آسٹریلیا پاکستان کو ہرادے، اورجنوبی افریقہ بھارت کو اتنے مارجن سے ہرائے کہ ان کا نیٹ رن ریٹ بھارت اور پاکستان سے بہترہوجائے تو جنوبی افریقہ آسٹریلیا کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔ لیکن اگر پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دے دی تو جنوبی افریقہ کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2012ء کا سفرتمام ہوجائے گا اورجنوبی افریقہ کے لیے بھارت کے خلاف سپرایٹ کے آخری میچ کی حیثیت ایک پریکٹس میچ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ جو ایک طرح سے پاکستان کے لیے دہ امر ہے کیونکہ ایسی صورت میں جنوبی افریقہ کو بھارت ایک بڑے فرق سے ہراسکتا ہے۔

پاکستان

پاکستان کی صورت حال بھی بھارت جیسی ہی ہے۔ پاکستان کو اگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2012ء کا سیمی فائنل کھیلنے کے امکانات روشن کرنے ہیں تواسے آسٹریلیا کو شکست دینی ہوگی۔ اور سپرایٹ مرحلے کے آخری میچ میں اگر جنوبی افریقہ نے بھارت کو شکست دے دی تو آسٹریلیا اور پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن بالفرض بھارت نے جنوبی افریقہ کو شکست دے دی اور پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دے دی، یا بھارت جنوبی افریقہ سے ہار گیا اور پاکستان آسٹریلیا سے ہار گیا تو پھر جنوبی افریقہ، پاکستان اور بھارت کے نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا کہ کون سیمی فائنل کھیلے گا۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں کی ہار اور جیت کی صورت میں نیٹ رن ریٹ پر سیمی فائنل کھیلنے کا فیصلہ ہوگاجس کا مطلب ہے بھارت اور پاکستان کے آخری میچوں میں ہار جیت سے قطع نظر پورے میچ میں مکمل کارکردگی انتہائی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ دونوں بھارت اور پاکستان جیت کر بھی ہار سکتے ہیں اور ہار کر بھی جیت سکتے ہیں۔

اب کچھ دوسرے گروپ یعنی گروپ 1 کا جائزہ بھی لے لیں، جہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے کہ آسٹریلیا کی طرح سری لنکا مضبوط پوزیشن میں ہے اور باقی ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے سعی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

سری لنکا

دو مقابلوں میں دو فتوحات کے ساتھ سری لنکا بہت اچھی پوزیشن پر ہے؛ صرف چار پوائنٹس کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کا نیٹ رن ریٹ بھی 1.029 پر کھڑا ہے۔ ان کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا صرف ایک خطرہ ہے کہ وہ اگر وہ انگلستان سے ہار جائیں اور ویسٹ انڈیز نیوزی لینڈ کو ہرا دے، اور دونوں مقابلے بھاری مارجن سے جیتے جائیں۔ مثال کے طور پر انگلستان 160 رنز بنائے اور سری لنکا کو 30 رنز سے ہرائے، اور ویسٹ انڈیز انڈیز بھی 160 رنز بنائے اور اسی مارجن سے نیوزی لینڈ کو شکست دے۔ پھر انگلستان اور ویسٹ انڈیز سری لنکا سے بہتر رن ریٹ کے باعث کوالیفائی کر جائیں گے۔ گو کہ اتنے بڑے مارجن سے شکست دینے کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔

انگلستان

دفاعی چیمپئن کی ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست نے انہیں پچھلے قدموں پر دھکیل دیا ہے، تاہم وہ نیوزی لینڈ کو شکست دے کر کچھ اوسان بحال کر چکے ہیں، اور ان کا نیٹ رن ریٹ بھی سری لنکا کے بعد باقی تمام ٹیموں سے بہتر ہے۔ سری لنکا کے خلاف آخری گروپ میچ میں فتح اور دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ویسٹ انڈیز کے خلاف جیت انگلستان کو با آسانی سیمی فائنل تک پہنچا دے گی۔ البتہ اگر ویسٹ انڈیز جیت جاتا ہے تو انگلستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ سری لنکا کو اتنے واضح مارجن سے شکست دے کہ اس کا رن ریٹ ویسٹ انڈیز سے بہتر ہو جائے۔

دوسری جانب اگر انگلستان ہارتا ہے اور نیوزی لینڈ ویسٹ انڈیز کو ہرا دیتا ہے، تو تینوں ٹیمیں دو پوائنٹس کے ساتھ برابر آ جائیں گے۔ اس منظرنامے میں ممکنہ طور پر نیوزی لینڈ انگلستان سے نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر آگے نکل جائے گا: مثال کے طور پر اگر نیوزی لینڈ 160 رنز بناتا ہے اور پانچ رنز سے مقابلہ جیتتا ہے اور انگلستان، 160 رنز کے تعاقب، میں پانچ رنز سے شکست کھاتا ہے تو نیوزی لینڈ کا رن ریٹ زیادہ ہوگا۔

انگلستان کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ وہ گروپ کا سب سے آخری مقابلہ کھیلے گا،اس کا مطلب ہے کہ اسے نیوزی لینڈ-ویسٹ انڈیز میچ ختم ہو جانے کے بعد بالکل درست ترین معلومات حاصل ہوں گی کہ اسے سیمی فائنل تک رسائی کے لیے میچ میں کیا کرنا ہے۔

ویسٹ انڈیز

ویسٹ انڈیز کے لیے بہترین نتیجہ یہ ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کو شکست دیں، اور خواہش رکھیں کہ سری لنکا انگلستان کو ہرائے گا، جو ویسٹ انڈیز کو رن ریٹ کے بکھیڑے میں پڑے بغیر براہ راست سیمی فائنل تک پہنچا دے گا۔ لیکن شکست ویسٹ انڈیز کو بلاشبہ ٹورنامنٹ سے باہر کر دے گی کیونکہ ان کا نیٹ رن ریٹ بہت خراب ہے، یہاں تک کہ انگلستان کی سری لنکا کے خلاف جیت کی صورت میں ویسٹ انڈیز کی نیوزی لینڈ کے خلاف جیت بھی ہو سکتا ہے کافی ثابت نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر ویسٹ انڈیز 160 رنز بنائے اور 25 رنز سے جیتے تو انگلستان کو صرف آٹھ رنز سے جیتنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس کا رن ریٹ ویسٹ انڈیز سے آگے رہے۔

نیوزی لینڈ

بلیک کیپس اس وقت گروپ میں سب سے نیچے ہیں، لیکن ان کا رن ریٹ کچھ بہتر ہے، جس کا سہرا سری لنکا کے خلاف مقابلہ سپر اوور تک پہنچنے کو جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ اگر وہ ویسٹ انڈیز کو پانچ رنز جیسے مختصر مارجن سے بھی ہرا دیں، اور سری لنکا انگلستان کو اسی مارجن سے شکست دے (جبکہ فاتح ٹیموں نے 160 رنز بنائے ہوں) تو نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ انگلستان اور ویسٹ انڈیز سے بہتر ہوگا۔ اس لیے، گو کہ نیوزی لینڈ نے سپر 8 میں اب تک کوئی مقابلہ نہیں جیتا، اب بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

Facebook Comments