رحمٰن ملک کے بیانات پر بھارت سیخ پا، مختلف حلقوں کا پاک-بھارت سیریز منسوخ کرنے کا مطالبہ

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا دورۂ ہندوستان، دونوں ملکوں کے درمیان وسیع پیمانے پر تعلقات کو تو کیا بہتر لاتا، کرکٹ میں پگھلنے والی برف کو بھی ایک پھر جمانے کے قریب لے آیا ہے۔بھارت کے لیےنازک معاملہ پاکستان میں مذہبی جماعت لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی گرفتاری ہے، اور اس حوالے سےرحمٰن ملک کے بیانات میں بھارت میں ہلچل مچا دی ہے، یہاں تک کہ پارلیمان میں حزب اختلاف نے یہ مطالبہ تک کر ڈالا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ سیریز منسوخ کی جائے۔ یعنی کہ کرنے کو اب کوئی اور کام نہیں رہ گیا، لے دے کر تان کرکٹ پر ہی ٹوٹنی ہے۔

حافظ سعید کے بارے میں رحمٰن ملک کے بیانات کی بھارت میں بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے (تصویر: PID)

حافظ سعید کے بارے میں رحمٰن ملک کے بیانات کی بھارت میں بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے (تصویر: PID)

بہرحال، برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق یہ انوکھا بیان داغا ہے بھارت میں حزب اختلاف کی اہم ترین جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما یشونت سنہا نے، جن کا کہنا ہے کہ بھارت کو پاکستان سے بات ہی نہیں کرنی چاہیے تھی، اس لیے حالیہ بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک-بھارت سیریز کو منسوخ کر دیا جائے۔ جبکہ اسی جماعت کے سابق سربراہ وینکیا نائیڈو کہتے ہیں کہ ”کرکٹ اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، سرحد پار سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے اور دوسری جانب ہم اسی ملک کے ساتھ کرکٹ سیریز کھیلیں؟ یہ سب نہیں چلے گا۔“

البتہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کےاعلیٰ عہدیدار راجیو شکلا نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ بیان بازیوں کا شکار ہو کر کرکٹ سیریز کو منسوخ نہیں کریں گے، وہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کھیل اور سیاست کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں ماہ کی 25 تاریخ سے دو ٹی ٹوئنٹی اور تین ایک روزہ مقابلوں کی مختصر سیریز کھیلی جائے گی، جو 5 سال کے طویل عرصے کے بعد پہلی دوطرفہ سیریز ہوگی۔ 2007ء میں پاکستان نے آخری مرتبہ بھارت کا دورہ کیا تھا لیکن اگلے ہی سال ممبئی میں دہشت گرد حملوں نے معاملات کو الٹ پلٹ دیا۔ نتیجتاً بھارت مختلف مواقع پر پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کرتا رہا، یہاں تک کہ رواںسال اس ضمن میں کچھ برف پگھلی ہے۔ لیکن اب رحمٰن ملک کے معاملے نے سر اٹھا لیا ہے، ابتدائی طور پر تو سیریز کے انعقاد کی مکمل یقین دہانی کروائی گئی ہے اور دونوں ملکوں کے شائقین کرکٹ توقع رکھتے ہیں کہ سیاست کے معاملات سے کنارہ کشی کرتے ہوئے کھیل کو کھیل کے طور پر ہی لیا جائے گا۔

Facebook Comments