ٹیم انڈیا کے ناقدین میں مزید اضافہ، اظہر اور منوج بھی برس پڑے

جیت کے ہزاروں وارث ہوتے ہیں اور شکست یتیم ہوتی ہے، کیا خوب قول ہے یہ۔ یہی مہندر سنگھ دھونی اور ان کی ٹیم کے بیشتر اراکین تھے جو عالمی کپ جیتنے کے بعد تاریخ کی بہترین بھارتی ٹیم قرار دیے گئے، اور آج وہی ٹیم پے در پے شکستوں کے بعد اپنوں ہی کی سخت ترین تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ کوئی ڈھارس بندھانے والا، کوئی سہارا دینے والا اور کوئی مشکل مرحلے میں حوصلے بلند کرنے والا نہیں دکھائی دیتا۔ بلکہ ایسے کھلاڑی بھی جو عموماً بیانات نہیں دیا کرتے، اُن کی جانب سے بھی ٹیم انڈیا کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ سابق کپتان محمد اظہر الدین اور آل راؤنڈر منوج پربھاکر ناقدین کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہیں، جنہوں نے اپنے تازہ ترین بیانات میں مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی اور باؤلرز کی ناقص کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارتی ٹیم بے سمت مسافر کی طرح دکھائی دیتی ہے، اظہر الدین

بھارتی ٹیم بے سمت مسافر کی طرح دکھائی دیتی ہے، اظہر الدین

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اظہر الدین نے کہا کہ اس وقت ٹیم ایک بے سمت مسافر کی طرح دکھائی دیتی ہے، اور اس صورتحال میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اظہر الدین نے بھارتی باؤلرز کی کارکردگی پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ سب سے تشویشناک پہلو باؤلنگ ہے۔ ہندوستانی وکٹیں اُن کی مدد نہیں کر رہیں، اس لیے انہیں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ رہی سہی کسر اسٹرائیک باؤلرز کے زخمی ہونے نے پوری کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپنرز کو طلب کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ ہم انگلستان کے خلاف ٹرن لیتی وکٹوں کے باوجود ٹیسٹ سیریزمیں شکست کھائی۔

اظہر الدین نے مزید کہا کہ دھونی کو درست ترین ٹیم منتخب کرنی چاہیے، میچ جیتنے کے لیے بہترین گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب اہم ہے۔ اب تو ویراٹ کوہلی بھی جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں، تو اب متبادل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

اظہر الدین نے ڈومیسٹک سطح پر بلے بازوں کے لیے مددگار وکٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ باؤلرز کو کچھ آپشن دیے جائیں، اگر ہم ڈومیسٹک سطح پر اسپورٹنگ وکٹ نہيں بنا سکتے تو ہم اپنے گیند بازوں کو کس طرح جانچ سکتے ہیں؟ رنجی ٹرافی میں پہلی اننگز کی برتری کے نظام ہی کی وجہ سے ہر کوئی آجکل میچ بچانے کے لیے کھیل رہا ہے۔

پاکستان کے خلاف سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے نوجوان گیند بازوں بھوونیشور کمار اور محمد شامی کے بارے میں اظہر نے کہا کہ ایسے نوجوانوں کا سامنے آنا کرکٹ کے لیے عطیہ خداوندی ہے۔

دوسری جانب اظہر الدین کے ہم عصر منوج پربھارکر بھی بھارت کی کارکردگی خصوصاً باؤلرز پر سخت تنقید کرتے دکھائی دیے ہیں۔ وہ مجموعی کارکردگی کے علاوہ حتمی اوورز میں گیند بازوں کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان لمحات میں آپ کو یارکرز اور دھیمی گیندوں کو پھینکنے کی ضرورت ہوتی ہے اور موجودہ ٹیم میں سوائے بھوونیشور کمار کے کوئی درست ترین یارکر پھینکنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ گو کہ ایشانت شرما موجودہ گیند بازوں میں سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں، لیکن وہ نوجوانوں کو تو کیا راستہ دکھائیں، انہیں تو خود راہ نہیں مل رہی۔

پربھاکر نے کہا کہ راجکوٹ میں انگلستان کے خلاف مقابلے میں جیڈ ڈرنباخ اور اس سے قبل پاک-بھارت سیریز میں محمد عرفان، جنید خان اور عمر گل نے باؤنسرز اور دھیمی گیندوں کا بھرپور استعمال کیا لیکن ہمیں بھارتی باؤلرز کی جانب سے شاذونادر ہی باؤنسرز نظر آ رے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ باؤنسر اسی صورت میں کارگر ہو سکتا ہے اگر گیند تیز رفتار ہو جبکہ حالت یہ ہے کہ بھارتی باؤلرز کی گیند 130 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کے درمیان ہے۔ اگر اس رفتار سے باؤنسر پھینکا گیا تو بلے باز تو اسے میدان سے باہر پھینک دے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کل (یعنی منگل کو) کوچی کے جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں بھارتی ٹیم بالخصوص باؤلرز کس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔ اگر کہانی راجکوٹ ون ڈے سے مختلف نہ ہوئی تو پھر شاید دھونی الیون کو تنقید کے خاف کوئی جائے پناہ نہ ملے۔

Facebook Comments