[آج کا دن] کرکٹ تاریخ کی سب سے جراتمندانہ اننگز کھیلنے والے حنیف محمد

آج وہ تاریخی دن، جب حنیف محمد نے کرکٹ کی تاریخ کی سب سے جراتمندانہ اننگز کھیلی، 970 منٹ طویل اننگز آج 55 سال گزر جانے کے باوجود ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

تقسیم ہند کے بعد زبردستی بھارت میں شامل کی گئی ریاست جوناگڑھ میں پیدا ہونے والے حنیف محمد پاکستان کے بالکل ابتدائی کھلاڑیوں میں سے ایک تھے اور 1952ء میں پاکستان کی تاریخ کے پہلے ٹیسٹ میں بھی موجود تھے جو بھارت کے خلاف دہلی میں کھیلا گیا تھا۔

حنیف محمد 970 منٹ پر محیط کرکٹ تاریخ کی یادگار ترین اننگز کھیلنے کے بعد میدان سے واپس آتے ہوئے (تصویر: ESPNCricinfo Ltd)

حنیف محمد 970 منٹ پر محیط کرکٹ تاریخ کی یادگار ترین اننگز کھیلنے کے بعد میدان سے واپس آتے ہوئے (تصویر: ESPNCricinfo Ltd)

آپ کا تعلق محمد برادران کے اس مشہور خاندان سے تھا جس میں ان کے علاوہ ان کے تین بھائی وزیر محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد بھی تھے، جنہوں نے کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی بلکہ آج بھی ملک میں لیجنڈز کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ کے ایک صاحبزادے شعیب محمد بھی پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہے۔

حنیف محمد حیران کن صلاحیتوں کے حامل کھلاڑی تھے۔ دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے گیند بازی کی حیران کن صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ کو ریورس سوئپ شاٹ کا خالق تصور کیا جاتا ہے۔

55 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حنیف محمد نے 97 اننگز میں 43.98 کے اوسط سے 3915 رنز بنائے لیکن جن دو اننگز نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا، ایک وہ جو انہوں نے آج ہی کے دن 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاؤن ٹیسٹ میں کھیلی اور دوسری وہ جس میں انہوں نے فرسٹ کلاس میں 499 رنز بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔

آج ہم ذکر کریں گے اس 337 رنز کی تاریخی اننگز کا، جو نہ صرف پاکستان کی جانب سے کھیلی گئی سب سے طویل باری ہے بلکہ کرکٹ تاریخ میں کوئی بھی بلے باز، نہ اُن سے پہلے اور نہ اُن کے بعد، کسی ٹیسٹ میں ٹیم کی دوسری اننگز میں ٹرپل سنچری نہیں بنا پایا۔ یوں ایک لحاظ سے یہ اننگز بالکل انوکھی، جداگانہ اور ممتاز ہے کہ یہ ٹیسٹ کی تیسری یا چوتھی اننگز میں بنائی گئی واحد ٹرپل سنچری ہے۔

اس اننگز کی سب سے خاص بات یہ کہ اس نے 473 رنز کے بھاری خسارے کے ساتھ فالو آن کرنے والے پاکستان کو یقینی شکست سے بچایا۔ ایسا خسارہ، جس پر بلاشبہ کسی بھی ٹیم کی شکست یقینی ہو جاتی ہے، خصوصاً اگر وہ حریف ٹیم ہی کے میدان میں کھیل رہی ہو۔

یہ پاکستان کی ناتجربہ کار ٹیم کا ویسٹ انڈیز کا پہلا دورہ تھا۔ جہاں برج ٹاؤن ٹیسٹ میں ایورٹن ویکس اور کونراڈ ہنٹے کے بالترتیب 197اور 142 رنز نےویسٹ انڈیز کو 579 رنز کے ہمالیہ جیسے مجموعے تک پہنچا دیا۔ ان دونوں کھلاڑیوں کو بعد ازاں 'سر' کا خطاب بھی ملا تھا۔ بہرحال، اس بھاری اسکور کے دباؤ میں پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 106رنز پر ڈھیر ہو گئی اور 473 رنز کے خسارے کے بھاری بوجھ کے ساتھ اسے ایک مرتبہ پھر بلے بازی کے لیے میدان میں اترنا پڑا۔

ویسٹ انڈیز کا ایک اخبار حنیف محمد کی تاریخی اننگز کی داستان بیان کرتے ہوئے (تصویر: ESPNCricinfo Ltd)

ویسٹ انڈیز کا ایک اخبار حنیف محمد کی تاریخی اننگز کی داستان بیان کرتے ہوئے (تصویر: ESPNCricinfo Ltd)

پھر حنیف محمد نے وہ کر دکھایا، جو آج تک کوئی نہیں کر پایا۔ وہ 16 گھنٹے سے بھی زائد وقت تک کریز پر جمے رہے اور پاکستان کی تاریخ کی پہلی ٹرپل سنچری بنائی۔ ان کی اس اننگز کی بدولت پاکستان نے اسکور بورڈ پر 657 رنز جوڑے اور جب آخری روز 11 اوورز بچ گئے تو پاکستان نے اننگز ڈکلیئر کر دی اور ویسٹ انڈیز کے لیے 185 رنز کے ہدف تک پہنچنا ناممکن تھا۔

گو کہ نتیجے میں یہ میچ ڈرا لکھا گیا، لیکن درحقیقت یہ پاکستان کی بہت بڑی فتح تھی۔ کیونکہ ان حالات میں شاذ و نادر ہی کوئی ٹیم شکست سے بچ پاتی ہے لیکن حنیف محمد اور دیگر کھلاڑیوں کی جرات مندی نے پاکستان کو یقینی شکست سے بچا لیا۔

مزیدار بات یہ ہے کہ اس وقت کسی معاملے پر کپتان عبد الحفیظ کاردار نے حنیف محمد سے بات چیت بند کر رکھی تھی۔ میچ چھ دن کے ہوا کرتے تھے، جن میں ایک دن آرام کا ہوتا تھا۔ جب حنیف تیسرے روز کھیل کر واپس پہنچے تو انہیں اپنے بستر پر تکیے کے ساتھ کاردار کا لکھا ہوا ایک رقعہ ملا جس میں تحریر تھا”واحد امید تم ہو“۔ اگلے روز حنیف ناقابل شکست 161 رنز کے ساتھ دوبارہ واپس آئے تو رات کو بستر کے ساتھ نئی پرچی ملی، جس پر تحریر تھا”تم ایسا کر سکتے ہو“۔

پانچویں روز کے اختتام پر حنیف 270 تک پہنچ چکے تھے، اور اس رات رقعے میں لکھا تھا”اگر کل چائے کے وقفے تک کھیلنے میں کامیاب ہو گئے تو میچ بچ جائے گا۔“ دو دن سے میدان میں ڈٹے رہے حنیف اپنی گھٹتی ہوئی توانائی کے باوجود نئے عزم و حوصلے کے ساتھ آخری دن میدان میں اترے اور اس مقام پر پہنچے جہاں ا سے قبل کوئی پاکستانی بلے باز نہ پہنچا تھا۔

اس اننگز نے کئی ریکارڈز قائم کیے۔ ایک تو یہ کسی بھی میزبان ٹیم کے بلے باز کی سب سے طویل انفرادی اننگز ہے اور جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ کسی بھی ٹیسٹ مقابلے کی دوسری اننگز میں بنائی گئی واحد ٹرپل سنچری بھی۔

یہی وجہ ہےکہ معروف کرکٹ صحافی پیٹر روبک نے اپنی کتاب ”Great Innings“ میں حنیف محمد کی اس اننگز کو کرکٹ تاریخ کی سب سے دلیرانہ اننگز قرار دیا ہے۔ جبکہ دوسرے صحافی اسٹیون لائنچ نے 2002ء میں وزڈن درجہ بندی میں حنیف محمد کی اس اننگز کو ’تاریخ کی سب سے بہترین جوابی اننگز‘ قرار دیا۔

Facebook Comments