چوکا لگانے کے باوجود رن آؤٹ قرار

آسٹریلیا کا دورۂ بھارت باضابطہ آغاز سے قبل ہی ایک تنازع میں گھر چکا ہے کیونکہ ٹور میچ کے دوران آسٹریلیا کے بلے باز پیٹر سڈل اک ایسی گیند پر رن آؤٹ قرار دے دیے گئے جس پر وہ چوکا لگا چکے تھے۔

پیٹر سڈل نے جس گیند پر چوکا لگایا، اسی گیند پر رن آؤٹ قرار دے دیے گئے (تصویر: Getty Images)

پیٹر سڈل نے جس گیند پر چوکا لگایا، اسی گیند پر رن آؤٹ قرار دے دیے گئے (تصویر: Getty Images)

چار ٹیسٹ میچز کی سیریز 22 فروری سے چنئی میں شروع ہو رہی ہے اور اس سے قبل یہ ہنگامہ اس وقت کھڑا ہوا جب بھارت 'اے' کے من پریت گونی نے کھیل کے روح کے منافی حرکت کرتے ہوئے پیٹر سڈل کو اس وقت رن آؤٹ کیا جب وہ گیند کو چوکے سے بچاتے ہوئے اپنا پیر باؤنڈری لائن سے باہر کر چکے تھے۔ حد یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ باؤلر اینڈ پر تھرو بھی پھینکا اور تیسرا رن لینے کی کوشش کرنے والے سڈل کو رن آؤٹ بھی کر دیا۔

معروف بھارتی روزنامے "ٹائمزآف انڈیا" کے مطابق یہ واقعہ سہ روزہ مقابلے کے آخری دن آسٹریلیا کی پہلی اننگز کے 48 ویں اوور میں پیش آیا جب آسٹریلیا بھارت 'اے' کے پہلی اننگز کے بھاری مجموعے 451 کے جواب میں محض 182 پر اپنی نصف وکٹیں گنوا چکا تھا۔ پیٹر سڈل نے اسپنر راکیش دھرو کی گیند کو مڈوکٹ باؤنڈری کی راہ دکھائی، جس کا تعاقب کرتے ہوئے گونی نے اس وقت گیند کو پکڑا جب وہ رسی کو چھو چکی تھی جبکہ ان کا دایاں پیر بھی اس وقت رسی پر ہی تھا۔ لیکن گونی نے ایسا ظاہر کیا کہ انہوں نے گیند کو روک لیا ہے اور تھرو واپس پھینکا۔

آن فیلڈ امپائر انیل چودھری نے میچ ریفری سے رابطہ تو کیا جو کیمروں کی کمی کے باعث بہت سخت مشکل سے دوچار ہو گئے اور بالآخر انہوں نے سڈل کو رن آؤٹ قرار دے دیا۔

گو کہ یہ مقابلہ کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ختم ہو گیا لیکن اگر ٹیسٹ سیریز کے اندر ایسا کوئی چھوٹا موٹا واقعہ بھی پیش آجاتا ہے تو بہت کشیدہ صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جیسی 2008ء میں بھارت-آسٹریلیا سڈنی ٹیسٹ میں ناقص امپائرنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔

Facebook Comments