محمد عامر کی واپسی، فائدہ مند یا گھاٹے کا سودا؟

ادھر پاکستان ایک سیریز ہارتا ہے اور اسی وقت عوام میں آہ و بکا سنائی دیتی ہے کہ کسی طرح محمد عامر کو ٹیم میں واپس لایا جائے۔ اسے نجات دہندہ تصور کیا جاتا ہے، شاید اس لیے کہ پاکستان کی آخری یادگار فتح ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009ء میں اس نوجوان باؤلر کا کلیدی کردار تھا۔ لیکن ایک ایسا کھلاڑی جو بذات خود فکسنگ کا اعتراف کرے اسے ٹیم میں واپس لانے کے لیے اتنی بے تابی دکھانا درست رویہ ہے؟ وہ بھی اس صورت میں کہ ہمارے پاس جنید خان کی صورت میں ایک بہترین متبادل موجود ہو؟

جنید خان جیسا پائے کا باؤلر موجود ہو تو محمد عامر کے لیے رونا درست رویہ نہیں لگتا (تصویر: AFP)

جنید خان جیسا پائے کا باؤلر موجود ہو تو محمد عامر کے لیے رونا درست رویہ نہیں لگتا (تصویر: AFP)

ایسالگتا ہے کہ آزادی کے باوجود ہمارا ذہن ابھی تک غلام ہی ہے۔ ماضی پر فخر بجا لیکن مستقبل کی فکر کیوں نہیں؟ یہی چیز قوموں کے زوال کو ظاہر کرتی ہے اور کچھ ایسا ہی معاملہ پاکستان کرکٹ کا بھی ہے۔ اور تو اور خود قائم مقام چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی بھی صدا بلند کر چکے ہیں کہ وہ محمد عامر کی واپسی کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے مطالبہ کریں گے۔ یعنی کرلو گل!

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی دھرتی میں تاریخ میں صرف ایک باؤلر پیدا ہوا تھا جس کانام محمد عامر تھا اور اسے اگر واپس لایا جائے تو گویا پاکستان کوئی میچ ہار نہیں سکتا۔ اس سوچ پر آخر کیا کہا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد عامر کے پاس کوئی ایسی جادوئی چھڑی نہیں کہ وہ گھمائے گا اور پاکستان میچ جیت جائے گا۔

اگر ہم پاکستان کی موجودہ ٹیم میں دیکھیں تو جنید خان نہ صرف یہ کہ محمد عامر کا ہم عصر کھلاڑی بھی ہے بلکہ ہر لحاظ سے اس کا بہترین متبادل بھی۔ آگے کی سطروں میں ہم دونوں کی کارکردگی کا تقابل کریں گے تو آپ کو بخوبی اندازہ بھی ہو جائے گا کہ محمد عامر کی قبل از وقت واپسی کے لیے آواز اٹھانے والے دراصل کس غلط فہمی کا شکار ہیں۔

سب سے پہلے اعلیٰ ترین کرکٹ یعنی ٹیسٹ کا جائزہ لیتے ہیں جہاں محمد عامر نے 14 اور جنید خان نے 9 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں۔ محمد عامر نے ان میچز میں 29.09 کے اوسط سے 51 وکٹیں حاصل کی ہیں اور اننگز میں بہترین باؤلنگ 84 رنز دے کر 6 وکٹیں اور میچ میں بہترین باؤلنگ 106 رنز دےکر7 وکٹیں ہے۔ اس کے مقابلے میں جنید خان نے 28.17 کے اوسط سے 29 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں جس میں 38 رنز دے کر 5 وکٹیں ان کی بہترین کارکردگی ہے جبکہ میچ میں انہوں نے سب سے زیادہ 115 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

کچھ معاملات تو مجموعی اعدادوشمار ہی میں ظاہر ہیں لیکن ہم مزید بہتر جاننے کے لیے محمد عامر کے ابتدائی 9 ٹیسٹ میچز کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ معائنہ برابری کی بنیاد پر ہو۔

عامر نے اپنے ابتدائی 9 ٹیسٹ میچز میں 291 اوورز پھینکے اور 25 وکٹیں لیں، جس میں صرف ایک بار اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ شامل ہیں۔ اسکے مقابلے میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ جنید کی وکٹوں کی تعداد بھی زیادہ ہے، اوسط بھی بہتر اور تین مرتبہ پانچ یا زائد وکٹیں لے چکے ہیں۔

ایک روزہ کرکٹ میں جنید خان نے 30 مقابلے کھیل رکھے ہیں جبکہ محمد عامر کے ون ڈے میچز کی تعداد 15 ہے۔ عامر نے اپنے 15 میچز میں 24 کےاوسط سے 25 وکٹیں حاصل کیں جس میں 28 رنز دے کر 4 وکٹیں ان کی بہترین باؤلنگ ہے۔ اس کے مقابلے میں جنید خان کے 30 میچز کے کیریئر میں 24.40 کے اوسط سے 47 وکٹیں شامل ہیں جن میں 12 رنز دے کر 4 وکٹیں ان کی بہترین کارکردگی ہے۔ یہاں بھی اگر برابری کی بنیاد پر جائزہ لیں یعنی کہ جنید خان کے ابتدائی 15 میچز کا جائزہ لیں تو جنید نے اپنے ابتدائی پندرہ مقابلوں میں 550 رنز دے کر 24 وکٹیں حاصل کیں جس میں ان کی کیریئرکی بہترین کارکردگی یعنی 12 رنز دے کر 4 وکٹیں بھی شامل ہے۔ یعنی کہ یہاں بھی معاملہ ٹکر کا ہی ہے۔

مختصر ترین طرز کی کرکٹ یعنی ٹی ٹوئنٹی میں محمد عامر 18 اور جنید خان 4 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ جنید نے اپنے ان مقابلوں میں 102 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ محمد عامر نے 19.86 کے اوسط سے 23 وکٹیں لی تھیں۔ اپنے ابتدائی چار ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں عامر نے 3 وکٹیں حاصل کی تھیں یعنی کہ کوئی خاص اور واضح فرق ہمیں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی نظر نہیں آتا۔

کسی بھی طرز کی کرکٹ میں محمد عامر اور جنید خان کی کارکردگی کا موازنہ کرلیں، دونوں میں کچھ خاص فرق نظر نہیں آتا (تصویر: PA Photos)

کسی بھی طرز کی کرکٹ میں محمد عامر اور جنید خان کی کارکردگی کا موازنہ کرلیں، دونوں میں کچھ خاص فرق نظر نہیں آتا (تصویر: PA Photos)

محمد عامر کی صلاحیتوں سے کوئی انکار نہیں لیکن ایک قبیح جرم کے مرتکب فرد کو نجات دہندہ بنا کر پیش کرنا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی مستقبل کی کامیابیوں کو اس سے نتھی کرلینا، کسی طرح درست رویہ نہیں ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ جنید خان جیسا باصلاحیت باؤلر آپ کے پاس موجود ہو جو اپنی صلاحیتوں بلکہ اعدادوشمار کے لحاظ سے بھی کسی طرح محمد عامر سے کم نہ ہو۔

اگر صلاحیتوں ہی کو بنیاد بنایا جائے تو محمد آصف تو محمد عامر سے بھی اچھا گیندباز تھا تو اس کی واپسی کے لیے نجم سیٹھی صاحب آواز کیوں نہيں اٹھاتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس طرح کے لالی پاپ دینے کے بجائے مستقبل کے باؤلرز کی تلاش کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کام کرے۔

محمد عامر اگر آنے والے چند سالوں میں ٹیم میں واپس آئے تو بلاشبہ وہ کسی ایک ہونہار گیندباز کی جگہ ہی پر آئیں گے، لیکن زیادہ افسوسناک بات یہ ہوگی کہ اگر وہ چل پڑے تو ٹھیک اور نہ چلے تو یہی شائقین کرکٹ گمان کریں گے کہ کہیں وہ پرانی روش پر تو نہیں لوٹ گئے، کہیں وہ پیسہ دیکھ کر بک تو نہیں گئے؟ یہ "فکسنگ کا بھوت" تاعمر عامر کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ پاکستان کو ضرورت ہے جنید خان کے ساتھ ایک اور نوجوان تیز باؤلر کو تیار کرنے کی جو 2015ء عالمی کپ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مددگار پچوں پر حریف بلے بازوں کے ہوش اڑا سکے۔

Facebook Comments