عالمی کپ 2015ء: شیڈول، پولز اور میزبان شہروں کا اعلان آج

آپ کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والا آخری عالمی کپ یاد ہے؟ وہ یادگار ترین ٹورنامنٹ جس میں پاکستان کی فتح کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو بھی نت نئی جدت اور رعنائیوں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ٹورنامنٹ تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر 2015ء میں یہ ٹورنامنٹ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہو رہا ہے اور آج اس سمت ایک اہم قدم اٹھایا جائے گا، یعنی پولز، شیڈول اور مقامات کا اعلان۔ اس سلسلے میں دونوں میزبان ممالک کے شہروں ملبورن اور ویلنگٹن میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے، جو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق آج صبح 5 بجے منعقد ہوں گی اور براہ راست دنیا بھر میں نشر کی جائیں گی۔

icc-world-cup-2015-logo

کرک نامہ کو موصول ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اعلامیہ کے مطابق تقاریب ڈوکلینڈز، ملبورن اور کیبل اسٹریٹ، ویلنگٹن میں ہوں گی جن میں کرکٹ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کرکٹ اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے عہدیداران، ان ممالک کی اعلیٰ سرکاری شخصیات اور سابق و موجودہ کھلاڑی حصہ لیں گے۔

ملبورن میں ہونے والی تقریب میں آئی سی سی کے نائب صدر مصطفیٰ کمال، عالمی کپ 2015ء کی مقامی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین رالف واٹرز، چیف ایگزیکٹو آئی سی سی ڈیوڈ رچرڈسن اور عالمی کپ 2015ء مقامی انتظامی کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو جان ہارنڈین شرکت کریں گے۔ دوسری جانب ویلنگٹن میں آئی سی سی کے صدر ایلن آئزک اور عالمی کپ 2015ء میں نیوزی لینڈ کے سربراہ تھیریس واش شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ دونوں شہروں کے میئرز، حکومتی وزراء اور موجودہ و سابق کھلاڑیوں کی بڑی تعداد میں ان تقاریب میں شرکت کرے گی۔

یہ تقاریب دنیا بھر میں براہ راست نشر کی جائیں گی اور پاکستان میں اس کی نشریات آج صبح 5 بجے پی ٹی وی اسپورٹس اور ٹین اسپورٹس پر نشر ہوگی جبکہ بھارت میں صبح ساڑھے 5 بجے اسٹار کرکٹ براہ راست نشریات پیش کرے گا۔

1992ء کے یادگار عالمی کپ کے بعد ان دونوں ممالک سے توقع ہے کہ یہ ایک مرتبہ پھر ایک تاریخی ٹورنامنٹ منعقد کریں گے۔ تمام شریک ممالک اور ان کے شائقین کے لیے بھی یہ ایک اہم لمحہ ہوگا کہ وہ دیکھیں کہ کن شہروں میں کون سے مقابلے ہوں گے اور کون سی ٹیمیں کس کے مدمقابل ہوں گی۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اس حوالے سے www.cricketworldcup.com پر باضابطہ ویب سائٹ بھی جاری کی ہے جبکہ ٹوئٹر پر #cwc15 کا ہیش ٹیگ بھی شروع کیا گیا ہے۔

Article Tags

Facebook Comments