منیر حسین ...ایک عہد جو گزر گیا!

وقت پر لگا کر گزر رہا ہے اور اس کی تیز اڑان کے ساتھ کئی لوگ بھی اس دنیا سے پرواز کر رہے ہیں۔ کرکٹ سے محبت رکھنے والے حلقوں میں ابھی ڈاکٹر محمد علی شاہ کا غم ہی تازہ تھا کہ اس جہانِ فانی کو خیرباد کہنے والوں میں منیر حسین صاحب کا بھی اضافہ ہو گیا۔ طویل علالت کے بعد وہ 29 جولائی کی صبح 83 برس کی عمر میں داغِ مفارقت دے گئے۔

منیر حسین (درمیان میں) کی ایک یادگار تصویر، شارجہ میں ایک مقابلے پر رواں تبصرہ کرتے ہوئے (تصویر: PCB)

منیر حسین (درمیان میں) کی ایک یادگار تصویر، شارجہ میں ایک مقابلے پر رواں تبصرہ کرتے ہوئے (تصویر: PCB)

یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ منیر صاحب کے انتقال کے اگلے ہی ایک دن بعد عالمی کپ 2015ء کے شیڈول کا اعلان ہوا اور مجھے 23 برس قبل آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا وہ عالمی کپ یاد آ گیا، جس کا احوال منیر صاحب نے اپنے سفر نامے میں خوبصورت انداز میں پیش کیا تھا۔ اس سفر نامے میں آسٹریلیا کی سیر و سیاحت کے علاوہ انہوں نے پاکستان کی کارکردگی میں آنے والے اتار چڑھاؤ اور کھلاڑیوں کو تاثرات کو بھی قلم بند کیا تھا۔ اب ڈیڑھ سال کے بعد جب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی اسی سرزمین پر عالمی کپ ہوگا تو 'ذات میں انجمن' منیر صاحب کی کمی بھی شدت سے محسوس ہوگی۔

منیر حسین صاحب کو 'اردو کرکٹ کمنٹری کا بانی' کہا جاتا ہے، انہوں نے انگریزوں کے کھیل کی روداد قومی زبان اردو میں سنانے کا بیڑہ اٹھایا اور اس میدان میں خوب نام کمایا۔ بالکل اسی طرح جس طرح کرک نامہ نے انٹرنیٹ کی دنیا میں گوروں کے کھیل کی معلومات کو زبانِ اردو میں پہنچانے کا کام کیا ہے۔ اردو میں رواں تبصرے یعنی کمنٹری کے لیے منیر حسین کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ابتدا میں منیر صاحب کو صرف پانچ منٹ کے لیے اردو کمنٹری کی اجازت ملی، مگر ان پانچ منٹوں میں ان کے رواں تبصرے نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کردیا۔ سامعین کو ایک جانب کھیل کے لطف اٹھانے کا نیا انداز فراہم کیا وہیں ان کی کمنٹری نے عوام کو کھیل کی باریکیوں کو آسانی سے اپنی زبان میں سمجھنے میں مدد دی۔

منیر حسین ایک ’’رحجان ساز‘‘ شخصیت تھے۔ آنے والے دنوں میں پاکستان کو قومی زبان میں کرکٹ پر رواں تبصرہ کرنے والے جتنا افراد میسر آئے، انہیں یقینی طور پر منیر حسین مرحوم کا شکر گزار ہونا چاہیے، جنہوں نے نئے آنے والوں کے لیے راہیں کھولیں۔

محترم منیر حسین کا دوسرا کارنامہ پاکستان میں کرکٹ کے پہلے میگزین ’’اخبار وطن‘‘ کا اجرا ہے جس کا آغاز ایک سوشل میگزین کی حیثیت سے ہوا تھا مگر 1977ء میں سڈنی ٹیسٹ کی تاریخی کامیابی کے بعد منیر صاحب نے اس فتح کو اپنے شمارے میں بھرپور انداز میں جگہ دی اور مذکورہ شمارے کی ریکارڈ فروخت نے اخبار وطن کو کرکٹ کا میگزین بنا ڈالا جو عروج و زوال دیکھنے کے بعد آج بھی شائع ہورہا ہے۔منیر صاحب کے میگزین نے پاکستان میں کھیلوں کی صحافت یعنی اسپورٹس جرنلزم کی بنا رکھی اور ان کی تحریروں سے سیکھ کر پاکستان کو بہت سے عمدہ لکھاری اور اسپورٹس کے صحافی میسر آئے ۔

80ء کے عشرے کے آخری مہینوں میں میرا تعلق بھی ’’اخبار وطن‘‘ سے قائم جو وقت گزارنے کے ساتھ دیرپا و مستحکم ہوتا گیا ۔جب خود لکھنا شروع کیا تو کوشش کی کہ اپنا انداز اختیار کروں لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھ پر منیر حسین کی تحریروں کا اثر ضرور تھا۔ 90ء کے عشرے میں ایسے بہت سے نوجوان لکھاری اخبار وطن سے وابستہ تھے جو آج مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے لیے فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن ان میں کسی کو اتنی توفیق نہ ہوئی وہ اس شخصیت اور اس میگزین کے لیے کچھ کرتے جنہوں نے آج انہیں یہ مقام عطا کیا ہے ۔ منیر صاحب کے میگزین کا عروج بہت عرصہ ہوا گزر چکا تھا لیکن وہ جیسے تیسے اپنی بیماری کے باوجود اس پودے کی آبیاری کررہے تھے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔

پاکستان میں کمنٹری کے دو درخشندہ ستارے، منیر حسین اور چشتی مجاہد (تصویر: PCB)

پاکستان میں کمنٹری کے دو درخشندہ ستارے، منیر حسین اور چشتی مجاہد (تصویر: PCB)

میری منیر صاحب سے پہلی ملاقات 2003ء میں کراچی میں ان کے دفتر میں ہوئی۔ دس برس قبل یہی رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور منیر صاحب کو ’’عید اسپیشل‘‘ شمارہ نکالنے کے لیے مشکلات کا سامنا تھا اور وہ میگزین بند کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔ میں نے اصرار کیا کہ وہ اس شمارے کو بند نہ کریں تو ان کا جواب تھا کہ ’’میاں اگر آپ کے پاس پانچ لاکھ ہیں تو میں شمارہ نکال سکتا ہوں ورنہ آپ اپنا مشورہ اپنے پاس رکھیں‘‘ میں وہاں سے اٹھ آیا اور یہی دعا کی کہ منیر صاحب اپنے میگزین کو بند نہ کریں ۔عید کی چھٹیوں میں سیالکوٹ میں کسی بک اسٹال پر ’’اخبار وطن‘‘ کا تازہ شمارہ دیکھا تو شکر ادا کیا کہ منیر صاحب نے میگزین بند نہیں کیا۔ 2009ء تک میں کسی نہ کسی طرح اخبار وطن کے لیے لکھتا رہا اور ٹیلی فون پر منیر صاحب کی حوصلہ افزا باتیں اور محبتیں سمیٹتا رہا ۔ اس دوران منیر صاحب کئی مرتبہ بیمار ہوئے لیکن ان کے عزم اور ہمت میں کمی نہ آئی وہ اسی تندہی کے ساتھ اپنے میگزین کے لیے مصروف رہے جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔

2010ء کے آغاز میں میں نے گو کہ منیر صاحب کے لیے لکھنا چھوڑ دیا مگر ان کا احوال ضرور معلوم کرتا رہا ۔منیر صاحب سے غالباً میری آخری گفتگو گزشتہ برس ہوئی ، جب انہوں نے دفتر آنا چھوڑ دیا تھا البتہ ان کی طبیعت کے بارے میں معلوم ہوتا رہتا تھا۔ چند ماہ قبل لاہور میں قومی ون ڈے کپ کے دوران منیر صاحب کے پوتے بلال منیر سے ملاقات ہوئی جو نیشنل بنک کی نمائندگی کرتا ہے ۔منیر صاحب کا احوال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ’’دادا کی طبیعت بہت خراب ہے اب وہ گھر پر ہی آرام کرتے ہیں‘‘۔

منیر حسین آج کل کی چٹخارہ صحافت سے بالکل ہٹ کر کام کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنے میگزین میں کسی اسکینڈل کو جگہ نہیں دی اور ہمیشہ کھلاڑیوں کے مثبت پہلو اجاگر کیے۔ ان کے قلم نے کئی کھلاڑیوں کو اسٹار بنایا اور یہی وجہ ہے کہ کرکٹ کے حلقوں میں انہیں ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا گیا۔ وہ آجکل کے صحافیوں کی طرح انٹرویو دینے والے کھلاڑی کو زچ کرنے یا ان سے چبھتے ہوئے سوالات کرنے کے بالکل عادی نہ تھے اور ایک مرتبہ لیگ اسپنر عبد القادر سے انٹرویو میں مجھ سے سرزد ہونے والی ایسی ہی حرکت پر بہت پیار سے مجھے سمجھایا کہ ’’انٹرویو دینے کے لیے آمادہ ہو کر کھلاڑی ہماری عزت کرتا ہے اور ہمیں بھی اس کے جواب میں انہیں احترام دینا چاہیے۔‘‘

منیر صاحب کی ایک اور عادت تھی کہ وہ ٹیکنالوجی کے اس عہد میں بھی ای میل یا ایس ایم ایس کا سہارا لینے کی بجائے خط لکھا کرتے تھے ۔ جب بھی کسی معاملے پر ان سے اختلاف ہوتا تو وہ فون پر لمبی چوڑی بحث کرنے کی بجائے کہتے ’’میاں! آپ کو خط لکھ رہا ہوں، میں نے اپنی مجبوری خط میں بیان کردی ہے آپ اسے پڑھ لیں‘‘ منیر صاحب کے وہ خطوط اب بھی میرے پاس محفوظ ہیں جو اب اثاثے کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔

منیر حسین کو 1985ء سے 1995ء کے عرصے کا بہترین اردو رواں تبصرہ کار قرار دیا گیا تھا اور ان کے علاوہ انہیں ریڈیو پاکستان کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور عالمی کپ 1992ء کی فتح کے 10 سال مکمل ہونے پر پی سی بی کی جانب سے ورلڈ کپ لیجنڈز ایوارڈ بھی دیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ جب بھی پاکستان میں کھیلوں کی صحافت اور اردو کمنٹری کی بات ہوگی، سب سے پہلا اور سب سے بڑا نام منیر حسین کا ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نگراں چیئرمین نجم سیٹھی نے بھی اس موقع پر اپنے تعزیتی بیان میں منیر حسین کے لیے ’’منیر بھائی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صحافتی برادری سے تعلق رکھنے والے سربراہ پی سی بی سے میری اتنی درخواست ہوگی کہ گو کہ ان کے اختیارات محدود ہیں، لیکن اگر وہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے پریس باکس کو منیر حسین کے نام کردیں تو ان کا نام بھی ہمیشہ کے لیے امر ہوجائے گا۔

Facebook Comments