آصف کو بھی "عقل" آ گئی، اسپاٹ فکسنگ میں اعتراف جرم

سلمان بٹ اور محمد عامر کے بعد بالآخر تیز گیند باز بولر محمد آصف کو بھی عقل آ ہی گئی یا یوں کہیں کہ تمام دروازے بند ہوجانے کے بعد محمد آصف نے بھی توبہ میں ہی عافیت جانی۔

محمد عامر اور سلمان بٹ کے بعد بالآخر آصف نے بھی اعتراف جرم کر ہی لیا (تصویر: Getty Images)

محمد عامر اور سلمان بٹ کے بعد بالآخر آصف نے بھی اعتراف جرم کر ہی لیا (تصویر: Getty Images)

کراچی پریس کلب میں ہنگامی نیوز کانفرنس میں محمد آصف نے اسپاٹ فکسنگ کا اعتراف جرم کرتے ہوئے قوم سے معافی بھی مانگی اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

محمد آصف اعتراف جرم کرتے ہوئے کافی پرسکون نظر آئے، پر موصوف بضد تھے کہ وہ اپنے کیے پر نادم ہیں ۔

آصف کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے بات چیت جاری ہے اور انہوں نے دونوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ بحالی پروگرام کو وہ اختیار بھی کرنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں بورڈ اور کونسل کو اگر ان کی ضرورت ہو تو اس کے لیے بھی دستیاب ہیں۔

آصف نے کہا کہ وہ اپنے پرستاروں سے معافی مانگ رہے ہیں یقینا قوم بھی انہیں معاف کردے گی۔ آصف کا کہنا تھا کہ ان میں کافی کرکٹ ابھی باقی ہے اور وہ اپنی فٹنس پر بھی کام کررہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اس معافی کے بعد آئی سی سی ان کے ساتھ نرمی برتے گی اور ان کی سزا میں کمی کرکے انہیں دوبارہ سے بین الاقوامی کرکٹ جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

آصف نے نوجوان کرکٹرز کو مشورہ دیا کہ وہ فکسنگ جیسی قبیح حرکت سے دور رہیں اس کام سے صرف انہیں ہی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ اور ان کی قوم کو بھی مشکل وقت سے گزرنا پڑرہا ہے۔

واضح رہے کہ 29 سالہ محمد آصف نے اگست 2010ء میں انگلستان کے خلاف لارڈز میں کھیلے گئے ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر دو نو بالز پھینکی تھیں، اس معاملے کا قضیہ ایک اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے اگلے روز کھولا اور بعد ازاں تحقیقات ہونے پر پہلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے محمد آصف اور ان کے دو ساتھیوں پر کم از کم 5،5 سال کی پابندی عائد کی اور بعد ازاں برطانیہ کی عدالت نے دھوکہ دہی و بدعنوانی کے مقدمے میں تینوں کھلاڑیوں اور سٹے باز مظہر مجید کو قید کی سزائیں سنائیں۔

Facebook Comments