شرجیل خان...پاکستانی کرس گیل!!

صوفیاء و درویشوں کی وادی مہران نے کئی عظیم شخصیات کو جنم دیا اور اسی سرزمین پر آنکھیں کھولنے والا ایک کھلاڑی بھی ایسا ہے جو کرکٹ کے میدانوں کی رونق رہا ہے اور اپنے دلفریب انداز اور بلند و بالا چھکوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اوپنر شرجیل خان نے حال ہی میں 28 اکتوبر کو اسلام آباد کے مرغزار گراؤنڈ میں ہونے والے مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا۔ واپڈا کے خلاف شرجیل نے 194 رنز کی دھماکہ خیز اننگز کھیلی۔ ایسی ہی کارکردگی کی وجہ سے ساتھی کھلاڑی انہیں پاکستان کا کرس گیل کہتے ہیں۔ ان کا کہنا کچھ اتنا غلط بھی نہیں ہے کیونکہ دھیمے اور میٹھے لہجے میں بات کرنے والا شرجیل میدان کے اندر بلا تھامنے کے بعد گیل کی طرح جارح مزاجی کی بھرپور مثال بنا ہوتا ہے۔

پاکستانی ٹیم کی بین الاقوامی مصروفیت اور میچ نشر نہ ہونے کے سبب شرجیل خان کی اس اننگز کو وہ توجہ نہیں مل سکی، جو ملنا چاہیے تھی مگر اس میچ میں شریک دونوں ٹیموں کے جن کھلاڑیوں سے میری بات ہوئی ہے، ان کا یہی کہنا تھا کہ انہوں نے اس سے قبل جارحانہ بیٹنگ کا ایسا شاندار نمونہ کبھی نہیں دیکھا۔124 گیندوں پر 14 چوکوں اور 13 فلک شگاف چھکوں کی مدد سے شرجیل نے 194 رنز کی اننگز کھیلی جو پاکستانی سرزمین پر اسکور کی گئی تین ڈبل سنچریوں کے بعد ایک روزہ مقابلوں میں چوتھی بڑی اننگز ہے۔

28ون ڈے میچز میں یہ شرجیل خان کی چوتھی سنچری ہے جو اس سے پہلے 2011-12 ء کے ڈومیسٹک سیزن میں حبیب بنک کے خلاف بھی 163رنز کی اننگز کھیل چکا ہے جبکہ ٹی20 فارمیٹ میں 133.64کے اسٹرائیک ریٹ کا حامل بائیں ہاتھ کا بلے باز مختصر ترین فارمیٹ میں ایک سنچری داغ چکا ہے جو اس کی طوفانی بلے بازی کا ثبوت ہے۔

1989ء میں یوم آزادی پر پیدا ہونے والا شرجیل خان آزادی سے بیٹنگ کرنے کا عادی ہے۔ وہ کسی بھی باؤلر کی گیند کو میدان بدر کرنے کے لیے اپنے بازوؤں میں بھرپور قوت رکھتے ہیں جبکہ دلیری و بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ وہ اننگز کے آغاز پر بھی بڑے اسٹروکس کھیلنے سے نہیں چوکتا۔

ماضی میں کراچی کے بعد سندھ کے سب سے بڑے شہر حیدرآباد کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر اندازکیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے اتنے برسوں میں حیدرآباد سے گنتی کے چند نام ہی ابھر سکے ہیں اور وہ بھی بہت جلد گمنامی کا شکار ہوگئے ۔جون 2011ء میں کھیلے گئے ٹی 20 کپ میں حیدرآباد ہاکس کے اوپنر شرجیل خان نے اسلام آباد کے خلاف 61اور سیالکوٹ کے خلاف74 رنز اسکور کرتے ہوئے 160.38 کے بہترین اسٹرائیک ریٹ کی مدد سے 138 رنز بنا کر اپنے تابناک مستقبل کی نوید سنائی۔ شرجیل خان کی جرات مندانہ بیٹنگ سے قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے جنہوں نے فاسٹ ٹریک کوچنگ کیمپ میں کھبے اوپنر کو قریب سے دیکھنے کے بعد اسے زمبابوے کے دورے پر بھیجنے کا فیصلہ بھی کرلیا تھا لیکن عین وقت پر پڑنے والے ’’بیرونی‘‘دباؤ نے باصلاحیت شرجیل کی بجائے گزشتہ دس برسوں سے اِن اور آؤٹ ہونے والے ایک دوسرے اوپنر کو منتخب کروادیا۔

فرسٹ کلاس ڈیبیو پر سنچری اسکور کرنے والے ’’شاہ جی‘‘ نے چار روزہ فارمیٹ میں 9سنچریاں اسکور کرتے ہوئے 35سے زائد کی اوسط کے ساتھ رنز بنائے ہیں لیکن شرجیل خان کی صلاحیت کی اصل جھلک محدود اوورز کے فارمیٹس میں دکھائی دیتی ہے جس نے ٹی20 میچز میں 133.64کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی ہے جبکہ ون ڈے فارمیٹ کی28اننگز میں 109.86کا اسٹرائیک ریٹ اور 52.81 کی لاجواب اوسط اسے ایک کامیاب بیٹسمین ثابت کرتی ہے۔ لیکن ایسی عمدہ پرفارمنس کے باوجود شرجیل خان کوصرف 2011ء میں افغانستان کے خلاف پاکستان اے کی نمائندگی کا موقع دیا گیا جہاں تین میچز میں شرجیل نے 47، 64اور 44رنز کی باریاں کھیلیں لیکن انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا خواب شرجیل خان کیلئے خواب ہی رہا۔

اس کے باوجود مایوسی کا لفظ شرجیل خان کی لغت میں موجود نہیں۔ اس لیے ناانصافی کا شکار ہونے کے باوجود بائیں ہاتھ کا اوپنر ہر مرتبہ زیادہ بہتر کارکردگی کے ساتھ منظرنامے پر ابھر آتا ہے۔ اور اپنی کارکردگی سے ان لوگوں کو بغلیں جھانکنے پر مجبور کردیتا ہے جو اسے ملک کی نمائندگی سے دور رکھے ہوئے ہیں۔شرجیل خان نے ڈومیسٹک ون ڈے میچ میں اپنے آئیڈیل سعید انور کے بہترین ون ڈے اسکور 194کو برابر کیا ہے اور شرجیل میں یہ صلاحیت پوری طرح موجود ہے کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی سعید انور کی ریکارڈ ساز اننگز جیسی باری کھیل سکے !

Article Tags

Facebook Comments