'اینٹی کلائمیکس' کولکتہ ٹیسٹ میں سچن ناکام، متنازع انداز میں آؤٹ

کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں جشن کا سماں ماتم کدے میں بدل گیا۔مہان بلے باز سچن تنڈولکر اپنے آخری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد پویلین واپس پہنچے، وہ بھی متنازع انداز میں۔

شلنگ فرڈ کا 'دوسرا' گیند سچن کے پچھلے پیڈ پر کافی اونچائی پر لگا لیکن امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دے دیا (تصویر: BCCI)

شلنگ فرڈ کا 'دوسرا' گیند سچن کے پچھلے پیڈ پر کافی اونچائی پر لگا لیکن امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دے دیا (تصویر: BCCI)

ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان کولکتہ میں جاری سچن کے کیریئر کا 199 واں اوراس میدان پر آخری ٹیسٹ مقابلہ ہے کیونکہ سچن نے 200 ٹیسٹ میچز کھیلنے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایڈن گارڈنز میں پہلے دن بھی اور آج دوسرے روز بھی جب وہ میدان میں آئے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ تماشائیوں نے "سچن، سچن" کے نعرے لگا کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا لیکن سچن 24 گیندوں پر محض 10 رنز بنانے کے بعد حریف اسپنر شین شلنگ فرڈ کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

'گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں' لیکن اس کے بعد جو رویہ بھارتی تبصرہ کاروں نے اختیار کیا،وہ ہرگز مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے سچن کے آؤٹ کو امپائر کا غیر منصفانہ فیصلہ قرار دیا حالانکہ سیریز میں ڈی آر ایس کو نہ اپنانا بھی بھارت کا فیصلہ ہے۔ دراصل سچن شلنگ فرڈ کی دوسرا گیند کو سمجھ نہ پائے اور گیند ان کے پچھلے پیڈ پر کافی اونچی لگی اور ری پلے سے واضح تھا کہ گیند وکٹوں کو نہ لگتی لیکن امپائر نائجل لونگ کا فیصلہ اٹل تھا اور سچن کو چلتے ہی بنی۔

یوں کچھ دیر قبل تالیوں اور نعروں کی گونج میں میدان میں آنے والے سچن بوجھل قدموں کے ساتھ واپس آ گئے جبکہ تماشائیوں پر موت کا سکوت طاری تھا۔

ویسٹ انڈیز کے پہلی اننگز کےاسکور 234 رنز کے جواب میں بھارت دوسرے دن کھانے کے وقفے تک 120 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکا تھا۔ بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف مشکلات سے دوچار ہے لیکن انڈیا میں موضوع بحث انتہائی مضبوط بیٹنگ لائن کا جلد گرنا نہیں بلکہ سچن تنڈولکر کا آؤٹ موضوع بحث ہے۔

Facebook Comments