سخت فیصلوں کے ساتھ ایک ماہر نفسیات کی بھی ضرورت

جب پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان متحدہ عرب امارات میں سیریز طے ہوئی تھی تو اسے "بدلہ سیریز" کہا جا رہا تھا۔ رواں سال کے اوائل میں جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ اور بعد ازاں ون ڈے سیریز میں بدترین شکستوں کا بدلہ لینے کا اس سے بہتر موقع اور کون سا ہو سکتا تھا؟ پاکستانی ٹیم کے لیے سازگار حالات، وکٹیں اور موسم اور حریف ایک ایسی ٹیم جسے اسپن جال میں پھنسایا جا سکتا تھا۔ پھر اولین ٹیسٹ مقابلے میں شاندار فتح نے ثابت بھی کیا لیکن اس ایک فتح کے نشے میں پاکستانی ٹیم ایسی مست ہوئی کہ باقی تمام میچز گویا اس کے خمار ہی میں کھیلے اور شکست کھائی۔

اس سیریز میں پاکستان کے ان فارم کپتان مصباح الحق بھی بجھے بجھے دکھائی دیے (تصویر: AFP)

اس سیریز میں پاکستان کے ان فارم کپتان مصباح الحق بھی بجھے بجھے دکھائی دیے (تصویر: AFP)

دوسرے ٹیسٹ میں بدترین شکست اور اس کے بعد ایک روزہ سیریز میں دو مرتبہ فتح سے دوچار ہاتھ دور رہ جانے کے باوجود ہار جانا پاکستانی کرکٹ شائقین کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔ نتیجہ 4-1 سے جنوبی افریقہ کے حق میں نکلا اور پاکستان کے کھلاڑی ایک بار پھر منہ لٹکائے کھڑے رہے۔

آخر اس بدترین شکست کی وجہ کیا ہے؟ میرے خیال میں سب کو پتہ ہے، جی ہاں! پاکستان کی بیٹنگ۔ پاکستان کی باؤلنگ میں جو دم خم پایا جاتا ہے وہ اپنی جگہ، گو کہ اس کی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن کم از کم باؤلرز دو میں سے ایک میچ میں کارکردگی تو دکھاتے ہیں، اپنی اہلیت تو ثابت کرتے ہیں لیکن بلے بازی ایسا شعبہ ہے جس میں پاکستان کو سوائے ناکامی کے کچھ اور نہیں مل رہا۔ یہ پورا سال اٹھا کر دیکھ لیں، شروع سے لے کر اب تک یہ سال پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی داستان ناکامیوں سے عبارت ہے۔ اکا دکا مقابلے جو پاکستان جیتا ہے وہ بھی باؤلنگ کی بدولت یا کسی انفرادی کھلاڑی کی بلے بازی کی وجہ سے۔ اجتماعی کوشش نظر نہیں آتی، ٹیم ورک کا فقدان ہے، انتظامی و قائدانہ فیصلےدرست نہیں اور ان سب کا اظہار پاکستان کی بیٹنگ سے ہو رہا ہے کہ جو عرصہ دراز سے 250 رنز سے زیادہ کا معمولی ہدف بھی عبور نہیں کر پا رہی۔

ایک ہلکا سا اشارہ موجودہ سیریز کے 5 ون ڈے میچز کے اعدادوشمار ہی سے حاصل ہوجاتا ہے۔ احمد شہزاد 193 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بلے باز ضرور رہے لیکن ان میں اس بے خوفی اور جراتمندی کا فقدان دکھائی دیتا ہے جو ہمیں صہیب مقصود میں نظر آ رہی ہے۔ اس بدترین سیریز شکست کے بعد پاکستان کو نظر آنے والی روشنی کی واحد کرن ملتان سے تعلق رکھنے والا صہیب ہے۔ صرف دو میچز میں 54.50  کے شاندار اوسط سے 109 رنز بنانے والے صہیب کی بے جگری، بے خوفی، جرات مندی اور حوصلے نے پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکی ماہرین کے بھی دل موہ لیے ہیں۔ جن حالات میں اس نوجوان نے پروٹیز گیند بازوں کا ڈٹ کر سامنا کیا، بلکہ ان کے خلاف چڑھائی کی، جارح مزاجی دکھائی، انہیں پچھلے قدموں پر جانے پر مجبور کیا، وہ بلاشبہ ایک کارنامہ ہے۔ احمد شہزاد اور صہیب کے علاوہ صرف کپتان مصباح الحق ہی قابل ذکر مزاحمت کر سکے گو کہ اس سیریز میں وہ بجھے بجھے دکھائی دیے اور جس طرح گزشتہ مقابلوں میں ان کا بلّا تسلسل سے رنز اگل رہا تھا، اس کی کمی دکھائی دی۔ ان کے علاوہ تو تمام ہی بلے باز سرے سے ناکام ہی ثابت ہوئے۔ پاکستانی کی پوری ٹیم کے بیٹنگ اعدادوشمار دیکھئے۔

پاک-جنوبی افریقہ 2013ء، ون ڈے سیریز: پاکستان کے تمام بلے بازوں کی کارکردگی

بلے باز مقابلے رنز بہترین باری اوسط اسٹرائیک ریٹ سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے
احمد شہزاد 5 193 58 38.60 70.69 0 2 21 1
مصباح الحق 5 158 65 31.60 68.69 0 1 12 3
صہیب مقصود 2 109 56 54.50 91.59 0 2 13 2
محمد حفیظ 5 108 33 21.60 60.67 0 0 14 0
عمر اکمل 5 95 30 19.00 73.07 0 0 7 1
سہیل تنویر 5 58 31 11.60 66.66 0 0 10 0
شاہد آفریدی 5 53 26 10.60 112.76 0 0 7 0
عمر امین 4 52 20 13.00 50.48 0 0 7 0
وہاب ریاض 3 51 33 17.00 65.55 0 0 3 3
اسد شفیق 2 12 11 6.00 40.00 0 0 1 0
محمد عرفان 5 8 4* 4.00 27.58 0 0 1 0
جنید خان 2 5 4 5.00 41.66 0 0 0 0
سعید اجمل 5 3 1* 0.75 16.66 0 0 0 0
ناصر جمشید 2 1 1 0.50 5.26 0 0 0 0

مندرجہ بالا جدول دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کو انتظامی لحاظ سے چند جراتمندانہ فیصلے کرنے کے علاوہ کھلاڑیوں کے لیے ایک ماہر نفسیات کی بھی ضرورت ہے۔ جب "سینئر" کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے بھی شکست ہی کا سامنا ہے تو کم از کم نئی ٹیم تشکیل دے کر ہی کچھ عرصے تک اس غم کو سہہ لیا جائے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2003ء کے عالمی کپ میں جب جنوبی افریقہ کو اپنے ہی ملک میں پہلے راؤنڈ سے باہر ہونا پڑا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے ایک ایسے نوجوان کو قیادت تھمائی جس کا بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ صفر تھا، جی ہاں! گریم اسمتھ اور پھر چاہے حالات جو بھی ہوئے، کیسی ہی ٹیم نے شکستیں کھائیں۔ٹیم کو نیا خون دیا جاتا رہا اور پھر ایسی ٹیم سامنے آئی جو ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کی کرکٹ میں نمبر ایک بنی۔

دوسری جانب انفرادی طور پر کھلاڑیوں میں جراتمندی اور مشکل حالات سے نمٹنے اور ان میں کچھ کر دکھانے کا حوصلہ نہیں نظر آتا۔ کچھ زیادہ دور کی بات نہیں، اب سے کوئی سات آٹھ سال پہلے انضمام الحق کی کپتانی اور باب وولمر کی کوچنگ میں پاکستان نے ناکامیاں بھی سمیٹیں لیکن ہاتھ آئے مقابلوں کو طشتری میں رکھ کر حریف کو پیش نہیں کیا۔ ٹیم کے کھلاڑی ڈٹ کر سامنا کرتے تھے، لڑتے تھے اور ہاری ہوئی بازی کو بھی پلٹنے کی کوشش کرتے تھے۔ کھلاڑی اب بھی ٹیم کے کم باصلاحیت نہیں لیکن حوصلے کا فقدان واضح ہے، جس کی کمی کو صرف ایک ماہر نفسیات ہی پورا کرسکتا ہے، کوچز میں تو باب وولمر والا دم خم نہیں دکھائی دیتا۔

بہرحال، اس طرح کے فیصلے کے لیے ایک دور اندیش قیادت اور انتظامیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تو بورڈ کا سربراہ اخلاقی جواز نہ ہونے کے باوجود اپنی کرسی بچانے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جوابی دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے بھی جس ٹیم کا اعلان ہونے جا رہا ہے اس میں بجائے نئے چہروں کے دوبارہ پرانے چہروں کو آزمانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کرکٹ کے تابوت میں ایک کیل مزید مزید ٹھونک دی جائے گی۔

کس کھلاڑی کی پاکستانی ایک روزہ ٹیم میں جگہ نہیں بنتی؟


Loading ... Loading ...

Facebook Comments