قومی ٹیم کی کارکردگی کپتان کی تبدیلی سے مشروط؟

کسی کو کپتان کے کندھے ڈھیلے دکھائی دیتے ہیں تو کسی کوکپتان کو فیلڈ میں بت کی طرح کھڑا نظر آتا ہے ۔اگر کپتان رنز نہ بنائے تو ناکامی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جاتا اور اگر اس کی اچھی پرفارمنس کے باوجود ٹیم ہار جائے تو یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ کپتان کے رنز کس کام کے جو ٹیم کو جتوا نہ سکیں۔کپتان کا رویہ منفی ہے، انداز دفاعی ہے اور وہ فیلڈ میں اپنے کھلاڑیوں کو متحرک نہیں کرسکتا ۔یہ وہ الزامات ہیں جن کی بوچھاڑ چاروں طرف سے ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کے کپتان پر ہورہی ہے اور اب سابق کھلاڑیوں اور شائقین کرکٹ کی جانب سے کھلے بندوں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ مصباح الحق کو کپتانی سے الگ کردیا جائے کیونکہ قومی ٹیم کی ناکامیوں کی اصل وجہ مصباح الحق ہے جس کے رنز نہ ٹیم کے کام آرہے ہیں اور نہ وہ کھلاڑیوں کو متحرک رکھنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور اسی کی وجہ سے پاکستانی ٹیم شکستوں کے دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ اب گرین شرٹس کو اس دلدل سے نکالنے کا واحد حل مصباح کی برطرفی ہے۔

کیا نیاکپتان اپنے ساتھ جادو کی چھڑی لائے گا؟ (تصویر: AFP)

کیا نیاکپتان اپنے ساتھ جادو کی چھڑی لائے گا؟ (تصویر: AFP)

میں نے چند دن پہلے مصباح الحق کو اپنے کالم ’’مصباح ...اب بس کردو‘‘ میں مشورہ دیا تھا کہ اسے اب کپتانی سے الگ ہوجانا چاہیے کیونکہ جنوبی افریقہ کیخلاف ون ڈے سیریز میں قومی ٹیم کی کارکردگی دیکھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ان کیلئے حالات خراب ہوچکے ہیں اور ان کی کپتانی میں اب پاکستانی ٹیم شاید جیت نہ سکے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ ہمارا’’گیڈر‘‘ کپتان ڈٹ گیا ہے، وہ گیدڑ بھبکیوں سے ڈر کر کپتانی چھوڑنے کے بجائے بورڈ کے فیصلے کا احترام کرے گا اور ممکن ہے کہ دورہ جنوبی افریقہ کیلئے بورڈ کا فیصلہ بھی مصباح کے حق میں ہی جائے۔

اگر پاکستانی ٹیم کی شکستوں کی وجہ صرف اور صرف مصباح ہے تو پھر اسے ہٹائے جانے میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے ؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کیوں پاکستانی ٹیم کو مزید شکستوں کی جانب دھکیل رہا ہے ؟ کچھ سابق کھلاڑیوں کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ شاید قومی ٹیم کی جانب سے اچھی کارکردگی اور فتوحات صرف کپتان کی تبدیلی کیساتھ مشروط ہیں اور نیا کپتان آتے ہی انہی کھلاڑیوں کے ساتھ نتائج دینا شروع ہوجائے گا۔مصباح کے بعد کپتان کون؟ یہ ایک سوال ہی بہت سے لوگوں کے دانت کھٹے کررہا ہے جو اس کا جواب ڈھونڈھنے کی بجائے آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں۔ کسی کو سعید اجمل میں قائدانہ صلاحیتیں دکھائی دے رہی ہیں تو کوئی اسد شفیق میں مستقبل کا پاکستانی کپتان دیکھ رہا ہے جبکہ چند ہفتے پہلے تک عمر امین کا نام لے کر مستقبل کے کپتان کا ڈھنڈورا پیٹنے کا عمل شروع ہوچکا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

کیا مصباح کو کپتانی سے ہٹا دینا چاہیے؟


Loading ... Loading ...

2010ء میں جب مصباح الحق کو قومی ٹیم کی کپتانی سونپی گئی تو کچھ عرصے کے بعد محمد حفیظ کو نائب کپتان بنا کر مستقبل کیلئے تیار کیا جارہا تھا لیکن ’’پروفیسر‘‘ کی حالیہ فارم نے انہیں کپتانی کی دوڑ سے باہر کردیا ہے۔

اگر دورہ جنوبی افریقہ یا سری لنکا کیخلاف سیریز کیلئے مصباح کی جگہ کوئی نیا کپتان آ بھی جائے تو کیا وہ اپنے ساتھ جادو کی چھڑی لائے گا؟ جس سے ٹیم کی کارکردگی غیر معمولی طورپر بہتر ہوجائے گی اور شکستوں کے گرداب میں پھنسی ہوئی ٹیم جیت کے ٹریک پر دوڑنا شروع کردے گی۔

مصباح کو ہٹانے کے بعد بھی چلے ہوئے کارتوسوں کیساتھ کپتانی کے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی جو دیرپا نہیں ہوگا اور اگر انہی کھلاڑیوں نے نئے کپتان کے آتے ہی پرفارم کرنا شروع کردیا تو اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مصباح کو ناکام کرنے کیلئے جان بوجھ کر ان کی کپتانی میں خراب کھیل پیش کیا جارہا ہے اور اگر حقیقتاً ایسا نہیں ہے تو پھر نئے کپتان کو بھی اس ٹیم میں نئی روح پھونکنے کیلئے قت درکار ہوگا کیونکہ قومی ٹیم کی اچھی پرفارمنس صرف کپتان کی تبدیلی سے مشروط نہیں ہے بلکہ کھلاڑیوں کو خود ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ کپتان صرف کھلاڑیوں کو صرف ہدایات ہی دے سکتا ہے، ان کی جگہ خود کھیل نہیں سکتا اس لیے جب تک کھلاڑی خود اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے سنجیدہ نہیں ہونگے اس وقت تک چاہے کتنے ہی کپتان کیوں نہ تبدیل کردیے جائیں پاکستانی ٹیم جیت کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکے گی۔

Facebook Comments