پاک-سری لنکا مقابلے، قومی ٹی ٹوئنٹی دستے کا اعلان، شرجیل خان طلب

پاکستان نے سری لنکا کے خلاف آئندہ سیریز کے ٹی ٹوئنٹی مرحلے کے لیے 14 رکنی قومی ٹیم کا اعلان کردیا ہے جس میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے جارح مزاج بلے باز شرجیل خان کو پہلی بار قومی ٹیم میں طلب کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ اسپنر ذوالفقار بابر کو بھی واپس بلایا گیا جبکہ ناصر جمشید کو پے در پے ناکامیوں کے بعد باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔

شرجیل خان ڈومیسٹک سرکٹ میں جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے معروف ہیں (تصویر: Getty Images)

شرجیل خان ڈومیسٹک سرکٹ میں جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے معروف ہیں (تصویر: Getty Images)

11 اور 13 دسمبر کو دبئی میں ہونے والے پاک-سری لنکا ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے لیے اعلان کردہ دستہ ہی 8 دسمبر کو افغانستان کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی میں بھی شرکت کرے گا۔

پاک-جنوبی افریقہ حالیہ سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی پہلی بار نے بڑے پیمانے پر نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد کیا ہے۔ ٹیم کے صرف تین کھلاڑی ہی ایسے ہیں جو وسیع تجربہ رکھتے ہیں، کپتان محمد حفیظ، سعید اجمل اور شاہد آفریدی، ان کے علاوہ 11 کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ میں نوآموز ہی ہیں یا بہت قلیل تجربے کے حامل ہیں۔

پاکستان نے پے در پے شکستوں کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ دو سیریز کے لیے تجربہ کار عبد الرزاق اور شعیب ملک کو بھی طلب کیا تھا لیکن نتیجہ وہی 'ڈھاک کے تین پات' نکلنے کے بعد جب نوجوانوں نے کارکردگی دکھائی تو سلیکشن کمیٹی کا بھی ان پر اعتماد بحال ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ انور علی اور بلاول بھٹی کے علاوہ حارث سہیل اور شرجیل خان بھی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں ۔

اسپنر ذوالفقار بابر جو اپنی انگلی زخمی ہونے کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ دونوں سیریز نہیں کھیل پائے، صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ قومی ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔

دنیا کی نمبر ایک ٹی ٹوئنٹی ٹیم سری لنکا کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی میچز میں فتوحات پاکستان کو عالمی درجہ بندی میں بہتر مقام دلا سکتی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ کپتان محمد حفیظ ان نوجوانوں کے ساتھ کیسے یہ معرکہ سرکرتے ہیں؟

اعلان کردہ ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

محمد حفیظ (کپتان)، احمد شہزاد، انور علی، بلاول بھٹی، جنید خان، حارث سہیل، ذوالفقار بابر، سعید اجمل، سہیل تنویر، شاہد آفریدی، شرجیل خان، صہیب مقصود، عمر اکمل (وکٹ کیپر) اور عمر امین۔

Facebook Comments