سلہٹ میں نہیں کھیلیں گے، سری لنکا کا بنگلہ دیش کو جواب

ایشیائی کرکٹ کونسل میں اپنی صدارت کے بل بوتے پر ایشیا کپ کی میزبانی برقرار رکھنے والے بنگلہ دیش کے سامنے اک نئی مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ دنیا پر ظاہر کرنے کے لیے کہ بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے محفوظ جگہ ہے، سری لنکا کے خلاف سیریز کا بہتر اندا زمیں ہونا ضروری تھا لیکن آغاز سے قبل ہی سری لنکا نے شمال مشرقی شہر سلہٹ میں کھیلنے سے انکار کردیا ہے جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ایک روزہ مقابلہ کھیلا جانا تھا۔

سلہٹ میں پہلے بین الاقوامی مقابلے کا عدم انعقاد بنگلہ دیش کے لیے مایوس کن ہوسکتا ہے (تصویر: AFP)

سلہٹ میں پہلے بین الاقوامی مقابلے کا عدم انعقاد بنگلہ دیش کے لیے مایوس کن ہوسکتا ہے (تصویر: AFP)

پڑوسی ممالک کے حوالے سے ہمیشہ دوستانہ رویہ رکھنے والے سری لنکا نے بنگلہ دیش میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باوجودنہ صرف وہاں کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی بلکہ دورے پر موجود سری لنکن وفد نے حفاظتی انتظامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر سری لنکا مطمئن ہے لیکن انہیں ایک مقابلے کے سلہٹ میں انعقاد پر اعتراض ہے کیونکہ اگر وہاں مقابلہ رکھا گیا تو ٹیم کو اسٹیڈیم اور ہوٹل کے درمیان طویل سفر طے کرنا پڑے گا۔

مارچ 2009ء میں سری لنکا کے کھلاڑیوں پر اس وقت دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا، جب ٹیم لاہورٹیسٹ کھیلنے کے لیے ہوٹل سے قذافی اسٹیڈیم جارہی تھی۔محاورہ ہے کہ 'دودھ کا جلا ہوا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے' اس لیے سری لنکا کے خدشات بجا ہیں۔

اس وقت سری لنکا کے کا وفد نائب صدر موہن ڈی سلوا کی صدارت میں بنگلہ دیش میں موجود ہے اور اس کمیٹی کی منظوری کی صورت ہی میں سری لنکا بنگلہ دیش کا دورہ کرے گا۔

دورے کا باضابطہ آغاز 27 جنوری کو ڈھاکہ میں پہلے ٹیسٹ سے ہوگا جس کے بعد دوسرا و آخری ٹیسٹ اور دونوں ٹی ٹوئنٹی مقابلے چٹاگانگ میں کھیلے جائیں گے۔ اگر سلہٹ کو شیڈول سے نکال دیا گیا تو ایک روزہ سیریز کے تینوں مقابلے میرپور، ڈھاکہ میں ہوں گے۔

واضح رہے کہ سلہٹ میں نو تعمیر شدہ اسٹیڈیم کو آزمانے کے لیے بنگلہ دیش-سری لنکا مقابلہ طے کیا گیا تھا اور اگر یہ مقابلہ نہیں ہوا تھا اس میدان پر پہلا بین الاقوامی مقابلہ 17 مارچ کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں آئرلینڈ اور زمبابوے کے درمیان کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments