1955ء میں دھواں دار بیٹنگ، پاکستان کی ناقابل یقین فتح

جس زمانے میں 'کھچوا چال' کو بلے بازی کی معراج سمجھا جاتا تھا، اس زمانے میں 30 اوورز میں تقریباً4 رنز فی اوور کے اوسط سے درکار ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان نے 6 وکٹیں گنوائیں اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد بالآخر اپنی سرزمین پر پہلی بار کوئی سیریز بھی جیت لی۔ پاک-نیوزی لینڈ لاہور ٹیسٹ 1955ء۔ ایک ایسا یادگار مقابلہ جس کی نظیر قومی تاریخ میں کم ہی ملے گی۔ امتیاز احمد کی ڈبل سنچری، وقار حسن کے 189 رنز، آٹھویں وکٹ پر 308 رنز کی یادگار شراکت داری اور پھر پانچویں دن کے اختتامی لمحات میں 4.36 کے ناقابل یقین اوسط سے ہدف حاصل کرکے مقابلہ 4 وکٹوں سے جیتنا اور سیریز اپنے نام کرنا، اس ٹیسٹ میں سب کچھ تھا۔

امتیاز احمد نہ صرف پاکستان کی جانب سے ڈبل سنچری بنانے والے پہلے بیٹسمین بنے بلکہ یہ ٹیسٹ کرکٹ تاریخ میں کسی بھی وکٹ کیپر کی پہلی ڈبل سنچری تھی (تصویر: Getty Images)

امتیاز احمد نہ صرف پاکستان کی جانب سے ڈبل سنچری بنانے والے پہلے بیٹسمین بنے بلکہ یہ ٹیسٹ کرکٹ تاریخ میں کسی بھی وکٹ کیپر کی پہلی ڈبل سنچری تھی (تصویر: Getty Images)

کراچی میں گھریلو میدانوں پر اولین فتح پانے کے بعد پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف فیصلہ کن مقابلے کے لیے لاہور پہنچا۔ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل یہ مقابلہ باغ جناح میں کھیلا جانا تھا جہاں جیت کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر پہلی بار کوئی سیریز اپنے نام کرتا۔

پاکستان نے زخمی فضل محمود کی جگہ محمود حسین جبکہ نیوزی لینڈ نے نوئل ہرفورڈ اور وکٹ کیپر ایرک پیٹری کو کھلانے کا فیصلہ کیا جو دونوں اپنے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ کھیلے۔ نیوزی لینڈ کے کپتان ہیری کیو نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور ابتدائی دھچکے سہنے اور تہرے ہندسے سے قبل 4 وکٹیں گنوانے کے باوجود نیل میک گریگر کی شاندار سنچری اور ڈیبویٹنٹ نوئل ہرفورڈ اور ٹونی میک گبن کی بہترین بلے بازی کی بدولت 348 رنز کا زبردست مجموعہ اکٹھا کر ڈالا۔ ہرفورڈ اور میک گریگر نے پہلے دن 130 رنز جوڑ کر اسکور کو 206 تک پہنچایا اور دوسرے دن ہرفورڈ تو بدقسمتی سے پہلی ٹیسٹ سنچری تک نہ پہنچ پائے اور 90 رنز کا ہندسہ عبور کرنے کے بعد اعصابی تناؤ کا شکار ہوگئے لیکن میک گریگر نے کیریئر کی پہلی، بلکہ واحد، سنچری ضرور بنائی۔ کپتان ہیری کیو کی آٹھویں وکٹ پر ٹونی میک گبن کے ساتھ 66 رنز کی شراکت داری نے پاکستان کو خاصا نقصان پہنچایا کیونکہ اس کے خاتمے کے ساتھ پاکستان نے 15 رنز کے اضافے پر اننگز لپیٹ دی لیکن اسکور کو 348 رنز پر پہنچ چکا تھا۔ میک گریگر 111، ہرفورڈ 93 اور میک گبن 61 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں رہے جبکہ پاکستان کی جانب سے خان محمد نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کا آغاز بہت ہی بھیانک تھا۔ نیوزی لینڈ کی بڑے مجموعے تک رسائی کے بعد پاکستان نیلسن (111 رنز) تک پہنچتے پہنچتے اپنے 6 بلے بازوں سے محروم ہوچکا تھا۔ اوپنر علیم الدین 4، حنیف محمد 10، شجاع الدین، 29، وزیر محمد صفر، عبد الحفیظ کاردار 2 اور خان محمد 10رنز۔ ایلکس موئر نے شجاع، وزیر اور کاردار کو ٹھکانے لگا کر پاکستانی مڈل آرڈر پر کاری وار لگایا تھا جبکہ رہی سہی کسر خان محمد کے رن آؤٹ نے پوری کردی۔ پاکستان جو 84 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر اطمینان کے ساتھ دوسرے دن کے اختتامی لمحات کی جانب بڑھ رہا تھا دن کے خاتمے تک 87 رنز پر پانچ کھلاڑیوں سے محروم تھا جبکہ چھٹی وکٹ تیسرے روز صبح سویرے گری۔

اب پاکستان کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا تھا اور وہ معجزہ وقار حسن اور وکٹ کیپر امتیاز احمد کی صورت میں کریز پر موجود تھا۔ نازک ترین صورتحال میں 308 رنز کی ریکارڈ شراکت داری کو معجزہ نہ کہا جائے تو آخر کیا کہا جائے؟ دونوں کھلاڑی ڈبل سنچریوں کی جانب گامزن رہے گو کہ وقار حسن بدقسمتی سے محض 11 رنز کے فاصلے پر پہنچ کر ہمت ہار گئے اوراگر وہ 200 رنز تک پہنچ جاتے تو پاکستان کی جانب سے ڈبل سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بن جاتے۔ یہ وقار حسن کے کیریئر کی واحد سنچری بھی رہی۔ پاکستان نے تیسرے دن کا اختتام 419 رنز کے ساتھ کیا یعنی 111 رنز پر 6 وکٹیں گنوانے والی ٹیم مزید صرف ایک وکٹ کے نقصان پر حریف پر 71 رنز کی برتری بھی حاصل کرچکی تھی۔

وقار تو ڈبل سنچری نہ بنا پائے لیکن قدرت نے یہ اعزاز دوسرے اینڈ پر کھڑے وکٹ کیپر کے لیے لکھ رکھا تھا۔ امتیاز احمد 380 منٹ کے صبر آزما مرحلے سے گزرنے کے بعد جب چوتھے روز 200 رنز تک پہنچے تو نہ صرف یہ کارنامہ انجام دینے والے پاکستان کے پہلے بلے باز بنے بلکہ دنیا کے پہلے وکٹ کیپر بیٹسمین بھی کہلائے، جنہیں ڈبل سنچری کا مزا چکھنے کو ملا۔ امتیاز نے وقار کے ساتھ طویل شراکت داری کے بعد مقصود احمد اور ذوالفقار احمد کے ساتھ مل کر مجموعے میں مزید 98 رنز جوڑے اور 209 رنز بنانے کے بعد موئر کی چوتھی وکٹ بنے۔ آخری وکٹ پر ذوالفقار احمد اور محمد حسین نے مزید 44 رنز جوڑے اور پاکستان کی پہلی اننگز 561 رنز کے بھاری بھرکم مجموعے پر اختتام پذیر ہوئی۔ پاکستان کی آخری چار وکٹوں نے 450 رنز جوڑے جسے ایک تاریخی کارنامہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اسی کارکردگی کی بدولت پاکستان کی مقابلے پر گرفت مضبوط ہوئی۔

چوتھے دن دوسری اننگز کا آغاز کرتے ہوئے نیوزی لینڈ سخت دباؤ میں تھا کیونکہ اسے پہلے پاکستان کی 213 رنز کی برتری کو ختم کرنا تھا اور اپنے لیے سیریز بچانے کا سامان بھی پیدا کرنا تھا۔ یہی دباؤ اسے محض 60 رنز پر تین وکٹوں سے محروم کر بیٹھا۔ میک گریگر اور جان ریڈ نے حالات کو سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی اور 148 رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن میک گریگر مزید ساتھ نہ دے پآئے اور وکٹوں کے پیچھے کیچ دے بیٹھے۔ جب چوتھا دن مکمل ہوا تو نیوزی لینڈ کا اسکور محض 166 رنز تھا اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ تھے۔

31 اکتوبر 1955ء، اس یادگار ٹیسٹ کا پانچواں ، آخری و فیصلہ کن دن۔ نیوزی لینڈ کے پاس میچ بچانے کے زیادہ مواقع تھے اور پاکستان کے پاس مقابلہ جیتنے کے لیے بہت کم وقت۔ جان ریڈ اور میک گبن کی 76 رنز کی شراک تداری نے نہ صرف پاکستان کی برتری کا خاتمہ کیا بلکہ مقابلے کو نتیجہ خیز بننے سے روکنے کے لیے کافی وقت بھی ضایع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب نیوزی لینڈ کے پاس صرف ایک ہی راستہ تھا کہ اس کے بلے باز پاکستانی باؤلنگ کے سامنے ڈٹ جائیں اور مقابلہ ڈرا کرکے سیریز بچانے کے معاملے کو آخری ٹیسٹ تک لے جائیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ جیسے ہی نیوزی لینڈ دوسری اننگز میں برتری حاصل کرنے لگا اس کی وکٹیں گرنا شروع ہوگئیں۔ 224 کے مجموعے پر جان ریڈ 86 رنز بنا کر عبد الحفیظ کاردار کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوئے تو تمام تر ذمہ داری میک گبن کے کاندھون پر آ گئی۔ وہ دباؤ نہ جھیل پائے اور کاردار کی دوسری وکٹ بن گئے۔ دونوں جمے ہوئے بلے بازوں کے لوٹنے کے بعد نوئل ہرفورڈ نے بقیہ بلے بازوں کے ساتھ مل کر اپنی سی کوشش کی لیکن پھر بھی مجموعہ 328 رنز تک ہی پہنچ پایا اور پاکستان کو مقابلہ اور ساتھ ہی سیریز جیتنے کے لیے 30 اوورز میں 116 رنز کا ہدف ملا یعنی میزبان کو 3.86 رنز فی اوورز کے اوسط سے رنز درکار تھے۔

اس زمانے میں جب ہوا میں شاٹ مارنا خاصا دل گردے کا کام سمجھا جاتا تھا اور ایک ٹیسٹ بلے باز کے لیے بلند وبانگ چھکے کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو 30 اوورز میں یہ ہدف آسان نہیں تھا۔ اس زمان ےمیں ڈھائی رنز فی اوور کے اوسط سے رنز بنانا بھی قابل تحسین سمجھا جاتا تھا، ایسے میں چار رنز کے قریب کا اوسط جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

لیکن! پاکستان کے کپتان عبد الحفیظ کاردار نے فیصلہ کرلیا تھا کہ یہ میچ اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ کہ سیریز جیتنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانا چاہیے اور بلے بازوں کو پوری ہدایات کے ساتھ میدان میں بھیجا کہ وہ اپنی وکٹ کی پروا کیے بغیر ہدف کا تعاقب کریں۔

پاکستان کو حنیف محمد اور علیم الدین نے 45 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا، بالخصوص حنیف نے بہت عمدہ بیٹنگ کی اور 33 رنز بنانے کے بعد جان ریڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ پہلی اننگز کے ڈبل سنچورین امتیاز احمد تیز کھیلنے کے لیے اپنی شہرت رکھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ کپتان نے انہیں ون ڈاؤن پوزیشن پر بھیجا لیکن یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا کیونکہ ریڈ نے انہیں صفر پر ہی میدان بدر کردیا۔ 49 رنز پر پاکستان دو کھلاڑیوں نے محروم ہوچکا تھا۔ اب جارح مزاج مقصود احمد کو بالائی نمبروں پر بھیجا گیا۔ انہوں نے علیم الدین کے ساتھ مل کر 31 رنز جوڑے اور پاکستان کے اسکور کو 80 تک پہنچا دیا۔ صرف 36 رنز کی دوری اور 8 وکٹیں باقی، پاکستان باآسانی ہدف کی جانب جاسکتا تھا لیکن جان ریڈ مقصود احمد اور علیم الدین کو آؤٹ کرکے پاکستانی خیمے میں کھلبلی مچا دی۔ علیم 37 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد میدان سے لوٹے تو کریز پر کپتان عبد الحفیظ کاردار اور وقار حسن کی صورت میں مستند بلے باز موجود تھے۔ دونوں ابھی 14 رنز ہی جوڑنے پائے تھے کہ جونی ہیز نے پہلے کاردار اور پھر وقار کو ٹھکانے لگا کر میچ کو دلچسپ مرحلے میں پہنچا دیا۔

پاکستان کے لیے حوصلہ افزاء بات یہ تھی کہ عبد الحفیظ کاردار نے مستند بلے بازوں کو روکے رکھا تھا اور تیز کھیلنے والے کھلاڑیوں کو جلد از جلد رنز بٹورنے کے لیے بالائی نمبروں پر بھیجا یہی وجہ ہے کہ 6 وکٹیں گنوانے کے بعد بھی شجاع الدین اور وزیر محمد جیسے بیٹسمین کریز پر تھے جنہوں نے بقیہ 9 رنز بنا کر پاکستان کو 4 وکٹوں سے فتح دلا دی اور ساتھ ہی تین مقابلوں کی سیریز کے ابتدائی دنوں مقابلوں میں فتوحات کے ذریعے دو-صفر کی جیت بھی۔

پاکستان نے محض 26.5 اوورز میں یہ ہدف حاصل کیا یعنی 4.36 رنز فی اوور کے اوسط سے رنز بنائے اور وطن عزیز میں پہلی بار کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا۔ کراچی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور ایک رن کی بڑی کامیابی کے بعد لاہور میں ایسا دلچسپ مقابلہ ان کھلاڑیوں اور کرکٹ شائقین کو ہمیشہ یاد رہے گا۔

Facebook Comments