ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا پہلا تنازع، ڈچ کھلاڑی ٹیم انتظامیہ پر پھٹ پڑا

نیدرلینڈز کے لیے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا آغاز ہی برا شگون ثابت ہوا کیونکہ پہلے ہی دن ان کے لیے ایک زبردست تنازع نے جنم لے لیا ہے جس کے اثرات کافی خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ ڈچ انتظامیہ نے زخمی ٹم گروئٹرز کی جگہ اپنے مشہور بلے باز ٹام کوپر کو ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اتوار کو رات گئے ٹم گروئٹرز نے یوٹیوب پر اپنا ایک وڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ زخمی نہیں تھے اور ٹیم کے کوچنگ اسٹاف نے ان سے دھوکہ کیا ہے تاکہ ٹام کوپر کی واپسی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ٹام کوپر کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے ٹیم انتظامیہ نے قربانی کا بکرا بنایا: ٹم گروئٹرز کا یوٹیوب پر بیان (تصویر: Getty Images)

ٹام کوپر کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے ٹیم انتظامیہ نے قربانی کا بکرا بنایا: ٹم گروئٹرز کا یوٹیوب پر بیان (تصویر: Getty Images)

نیدرلینڈز، جو اس وقت سلہٹ میں متحدہ عرب امارات کے خلاف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا پہلا مقابلہ کھیل رہا ہے، نے ٹم گروئٹرز کو ان فٹ قرار دیتے ہوئے ٹام کوپر کو ان کے متبادل کے طور پر طلب کیا تھا جو گزشتہ روز بنگلہ دیش پہنچے ہیں جبکہ گروئٹرز کو ایک روز قبل نیدرلینڈز واپس بھیج دیا گیا، جہاں پہنچتے ہی انہوں نے وڈیو بیان داغ دیا ہے جس میں ٹیم انتظامیہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ٹام کوپر کو شامل کرنے کے لیے انہیں قربانی کا بکرا بنایا۔

اس پوری صورتحال کا پس منظر یہ ہے کہ ٹام کوپر ساؤتھ آسٹریلیا کی جانب سے شیفیلڈ شیلڈ کھیل رہے تھے اور ان کی ٹیم آسٹریلیا کے اہم ٹورنامنٹ کے فائنل تک نہیں پہنچ پائی جس کی وجہ سے اچانک ٹام کوپر کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے امکانات پیدا ہوگئے اور پھر نیدرلینڈز نے ٹم گروئٹرز کے زخمی ہونے کے اسکین رپورٹوں کی بنیاد پر ٹام کو بطور متبادل طلب کرلیا۔ یوٹیوب پر جاری ہونے والے بیان میں گروئٹرز کا کہنا ہے کہ ٹیم کے کوچنگ عملے نے کرکٹ کے قواعد و ضوابط اور روح کے منافی حرکت کرتے ہوئے انہیں ٹیم سے نکالا۔ تفصیلات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 13 مارچ بروز جمعرات کو جب اچانک معلوم ہوا کہ ٹام کوپر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے دستیاب ہیں کیونکہ ساؤتھ آسٹریلیا شیفیلڈ شیلڈ فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکا تھا تو اس وقت ہی کھلاڑیوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔ ٹام کوپر بلاشبہ نیدرلینڈز کے بہترین بلے باز ہیں لیکن اس امر پر سبھی کھلاڑی متفق تھے کہ اتنے مختصر وقت میں ان کے لیے ممکن نہ ہوگا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیل پائیں لیکن اگلے ہی دن یعنی جمعے کی صبح کو کوچنگ عملے نے مجھے طلب کیا اور کہا کہ ٹام کوپر کو لانے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی کھلاڑی زخمی قرار پائے اور انہوں نے زبردستی میرے اسکین کروائے، جن کی رپورٹوں کو بنیاد بنا کر آئی سی سی سے ٹام کوپر کو بطور متبادل طلب کرنے کی سفارش کی گئی جو منظور ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ میری کمر میں تکلیف ہمیشہ رہتی ہے اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں یہ مسئلہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عام طور پر کھلاڑیوں کو کندھوں اور گھٹنوں میں تکلیف رہتی ہے اور میں عرصہ دراز سے اسی کے ساتھ کھیلتا آ رہا ہوں بلکہ اس وقت اپنے آپ کو کہیں زیادہ بہتر محسوس کررہا ہوں۔

اس دھماکہ خیز بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیدرلینڈز کے مینیجر ایڈ وان نیروپ نے کہا ہے کہ شاید اہم ٹورنامنٹ نہ کھیل پانے کی وجہ سے گروئٹرز ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ درحقیقت وہ مارچ کے اوائل ہی سے وہ مکمل فٹ نہیں تھے اور ان کا چیک اپ بھی چٹاگانگ کے ہسپتال کے عام ڈاکٹروں نے کیا ہے اور ہم نے انہی کے مشورے پر عمل کیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حرکت پر گروئٹرز کے خلاف نیدرلینڈز کا کرکٹ بورڈ کیا قدم اٹھاتا ہے؟ اور اس سے بھی اہم سوال کہ اگر ٹم گروئٹرز کے الزامات درست ثابت ہوئے تو آئی سی سی نوآموز ملک کے خلاف کیا ایکشن کرے گا؟

Facebook Comments