پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سلیکشن کمیٹی، معین خان دفاع کرنے لگے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے چند روز قبل اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سلیکشن کمیٹی تشکیل دی جس میں چیف سلیکٹر معین خان سمیت 6 اراکین شامل ہیں۔ کرکٹ حلقے سلیکٹر کی اتنی بڑی تعداد کو نوازنے کے کلچر کا حصہ قرار دیتے ہیں البتہ معین خان نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی سلیکشن کمیٹی بہتر ٹیم کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

عمر کوئی مسئلہ نہیں، مصباح کی فٹنس اور فارم سب کے لیے مثالی ہے: چیف سلیکٹر (تصویر: AFP)

عمر کوئی مسئلہ نہیں، مصباح کی فٹنس اور فارم سب کے لیے مثالی ہے: چیف سلیکٹر (تصویر: AFP)

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے قومی سلیکشن کمیٹی کو بااختیار قرار دیا اور کہا کہ سلیکشن کمیٹی میں اراکین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بحث بھی زیادہ ہوگی جو ٹیم کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

معین خان نے کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عمر کے حوالے سے کہا کہ یہ ان کے نزدیک کوئی مسئلہ نہیں، مصباح الحق کو دیکھ لیں ان کی عمر 40 کے لگ بھگ ہے لیکن اس کے باوجود ان کی فٹنس اور فارم پوری ٹیم کے لیے مثالی ہے۔ میں پہلے بیھ کہہ چکا ہوں کہ جو فٹ ہوگا اور فارم ثابت کرے گا، وہی ہماری ترجیح ہوگا۔

نئے کھلاڑیوں کے حوالے سے چیف سلیکٹر کہتے ہیں کہ اگر کوئی باصلاحیت کھلاڑی نظر آیا تو تجربہ نہ ہونے کے باوجود اسے ضرور موقع دیں گے لیکن فی الحال توجہ ایسا نظام مرتب کرنے پر ہے جہاں کام زیادہ بہتر انداز میں ہو اور اس کے اثرات بھی دیرپا ہوں۔

جونیئر سلیکشن کمیٹی کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے قومی سلیکشن کمیٹی کے کام کا بوجھ ہلکا ہوگا جو ایک خوش آئند امر ہے۔

Facebook Comments