کرس جارڈن کی آل راؤنڈ کارکردگی، انگلستان پہلا ون ڈے جیت گیا

کرس جارڈن کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی نے انگلستان کو سری لنکا کے خلاف اہم سیریز کے پہلے ون ڈے میں کامیابی دلا دی۔ بارش سے متاثرہ مقابلے میں انگلستان نے بحیثیت مجموعی توقعات سے کہیں بڑھ کر کارکردگی دکھائی اور واحد ٹی ٹوئنٹی مقابلے کی شکست کا داغ خاصی حد تک دھو دیا۔ گو کہ نتیجہ ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت نکالا گیا لیکن اگر ایسا نہ ہوتا تب بھی انگلستان کی کارکردگی سری لنکا پر حاوی رہتی۔

کرس جارڈن نے 13 گیندوں پر 38 رنز بنائے اور پھر تین وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: Getty Images)

کرس جارڈن نے 13 گیندوں پر 38 رنز بنائے اور پھر تین وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: Getty Images)

اوول میں کھیلے گئے پہلے مقابلے میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ۔ ایلسٹر کک کی وکٹ جلد حاصل کرنے کے بعد این بیل اور گیری بیلنس نے انگلستان کو وہ شراکت داری فراہم کی جس کی اسے ابتداء میں سخت ضرورت تھی۔ دونوں نے 79 رنز جوڑے لیکن ایون مورگن اور روی بوپارا کی ناکامیوں نے حالات کو مشکل تر بنا دیا۔ بیل 50 اور بیلنس 64 رنز بنانے کے بعد میدان سے لوٹے 32 ویں اوور میں انگلستان کا اسکور 152 رنز تھا اور اس کی آدھی ٹیم لوٹ چکی تھی۔ اس مرحلے پر جو روٹ کے 45 رنز نے اننگز کو استحکام دیا اور آخری لمحات میں کرس جارڈن کی دھواں دار بیٹنگ نے اسکور کو 247 رنز تک پہنچا دیا۔ انہوں نے جوس بٹلر کے ساتھ مل کر 54 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری قائم کی اور یہ رنز صرف 21 گیندوں پر بنائے گئے۔ بٹلر 20 گیندوں پر 26 اور جارڈن 13 گیندوں پر 38 رنز بنا کر ناقابل شکست لوٹے۔39 اوورز فی اننگز تک محدود اس مقابلے کے آخری 7 اوورز میں انگلستان نے 93 رنز بنائے اور یہیں سے مقابلہ انگلستان مکمل طور پر انگلستان کی گرفت میں آ گیا۔

سری لنکا کے لیے مایوس کن ترین پہلو لاستھ مالنگا کا بری طرح ناکام ہونا تھا۔ انہیں 8 اوورز میں 71 رنز کی مار پڑی اور کوئی وکٹ بھی نہ ملی۔ سچیتھرا سینانائیکے نے اتنے ہی اوورز میں صرف 30 رنز دیے اور 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ نووان کولاسیکرا نے 60 رنز دے کر دو وکٹیں لیں۔

صرف 39 اوورز میں 259 رنز کا بھاری ہدف عبور کرتے ہوئے مقابلہ ابتدائی اوور ہی سے سری لنکا کے ہاتھ سے نکل گیا۔ لاہیرو تھریمانے پہلے اوور کی پانچویں گیند پر جیمز اینڈرسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے اور تیسرے امپائر سے رجوع کرنا بھی ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہ ہوا۔ کمار سنگاکارا ہیری گرنی کی گیند پر بولڈ ہوئے تو اسکور بورڈ پر محض 19 رنز موجود تھے۔ دلشان نے مہیلا جے وردھنے کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی اور 63 رنز تک پہنچا گئے۔ یہاں تک کہ جارڈن نے باؤلنگ میں بھی اپنا جادو دکھانا شروع کردیا۔ تھرڈمین پر گرنی کے کیچ نے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا اور پھر سری لنکن اننگز ایک مرتبہ بھی سنبھلنے میں نہیں آئی۔ جیمز ٹریڈویل نے بہت عمدہ باؤلنگ کی اور آنے والے بلے بازوں میں سے جے وردھنے، کپتان اینجلو میتھیوز اور تھیسارا پیریرا کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں جبکہ جارڈن نے دنیش چندیمال اور نووان کولاسیکرا کو ٹھکانے لگاکر اپنی وکٹوں کی تعداد 3 کرلی۔ دلشان کے 33 رنز کے علاوہ صرف مہیلا ہی قابل ذکر 35 رنز ہی بنا پائے، باقی کوئی بلے باز 18 رنز سے آگے نہ بڑھ سکا اور پوری ٹیم 28 ویں اوور میں 144 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

اب دونوں ٹیمیں 25 ئی کو چیسٹر-لی-اسٹریٹ میں دوسرا ون ڈے کھیلیں گی۔ مجموعی طور پر سیریز میں پانچ ون ڈے کھیلے جائیں گے۔

Facebook Comments