جیمز فاکنر: آخر میں ایسا کیوں ہوں؟

محض دو ماہ قبل آسٹریلیا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے اہم ترین مقابلے میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں ناقابل یقین شکست کھا کر باہر ہوا۔ اس وقت آخری اوور جیمز فاکنر نے پھینکا تھا اور انہیں 12 رنز کا دفاع کرنا تھا جس میں وہ ناکام رہے اور ڈیرن سیمی کے ہاتھوں دو چھکے کھانے کے بعد منہ لٹکائے میدان سے باہر آئے کیونکہ اس شکست کے ساتھ ہی آسٹریلیا کی پیشرفت کا خاتمہ ہوگیا۔ اب بالکل یہی کہانی ممبئی میں بھی دہرائی گئی جہاں میزبان ممبئی انڈینز نے راجستھان رائلز کو فیصلہ کن معرکے میں شکست دے کر نہ صرف اگلے مرحلے میں اپنی جگہ بنا لی بلکہ راجستھان کو بھی اعزاز کی دوڑ سے باہر کردیا۔

سب کپتان یہ چہرہ پہچان لیں، اس بندے کو کبھی آخری اوور نہیں دینا (تصویر: BCCI)

سب کپتان یہ چہرہ پہچان لیں، اس بندے کو کبھی آخری اوور نہیں دینا (تصویر: BCCI)

وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ہونے والے گروپ مرحلے کے آخری مقابلے میں کسی کو یقین نہیں آیا ہوگا کہ ممبئی اس جگہ سے جیت جائے گا۔ اسے پلے آف تک پہنچنے کے لیے صرف 14.3 اوورز میں ہدف حاصل کرنے کی ضرورت تھی اور ہدف بھی کتنا؟ 190 رنز۔ پھر وہ بلے باز چل پڑے، جن کو کھیلتا دیکھنے کی آرزو میں شائقین کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ تیز ترین ون ڈے سنچری کا ریکارڈ قائم کرکے عالمی شہرت سمیٹنے والے کوری اینڈرسن نے اسی روز کے لیے یہ طوفانی اننگز بچا کر رکھی تھی اور 44 گیندوں پر ناقابل شکست 95 رنز اس وقت بنائے جب 5 اوورز میں ٹیم کے 61 پر تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے جبکہ دسویں اوور میں ٹیم کو 33 گیندوں پر 86رنز کی ضرورت تھی۔ اینڈرسن کی دھواں دار بیٹنگ معاملے کو آخری تین گیندوں پر 9 رنز درکار تک لے آئی جب میرپور کی یادیں لوٹ آئیں اور فاکنر کی دو فل ٹاس گیندوں نے گویا 'فرینڈلی فائر' کردیا اور دونوں گیندوں پر ممبئی کے بلے بازوں نے چھکے حاصل کرکے دفاعی چیمپئن کو اگلے مرحلے تک پہنچا دیا۔

ساڑھے 9 کروڑ بھارتی روپے کے عوض فاکنر کو برقرار رکھنے کا راجستھان رائلز کا فیصلہ کتنا درست تھا، اس کا اندازہ اسی سے لگا لیں کہ جب تین گیندوں نے ٹورنامنٹ میں برقرار رہنے کا فیصلہ کرنا تھا تو وہ تینوں بھی فاکنر سے ٹھیک نہیں پھینکی گئیں۔ یوں ثابت ہوا کہ جیمز فاکنر آخری اوور کے باؤلر نہیں ہیں اور آئندہ آسٹریلیا یا کوئی بھی ٹیم ان کو استعمال کرے تو آخری اوور میں ہرگز نہ آزمائے، ورنہ جیتی ہوئی بازی ہاتھ سے نکل جانے کا خدشہ ہے۔

Facebook Comments