اب دفاعی نہیں بلکہ مثبت سوچ کے ساتھ کھیلیں گے: وقار یونس

پاکستان کے ہیڈ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ٹیم کی کوچنگ کریں گے اور اس بار پچھلی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔

ماضی کے اختلافات کو بھلا کر سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، لاہور میں صحافیوں سے گفتگو (تصویر: AFP)

ماضی کے اختلافات کو بھلا کر سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، لاہور میں صحافیوں سے گفتگو (تصویر: AFP)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے مئی میں وقار یونس کو قومی کرکٹ ٹیم کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب وہ یہ عہدہ سنبھالنے کے لیے آسٹریلیا سے وطن آچکے ہیں۔ اب وہ دورۂ سری لنکا سے قبل قومی ٹیم کے ایک ہفتے کے کیمپ کی نگرانی کریں گے۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ گزشتہ دور میں جس طرح جذبے اور لگن کے ساتھ کام کیا تھا، اس مرتبہ بھی ویسے ہی جوش کے ساتھ کام کریں گے لیکن کوشش ہوگی کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائیں۔

وقار یونس نے کہا کہ میری سرفہرست ترجیح اگلے سال آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ 2015ء کی تیاری ہے اور میں اس مرتبہ بھرپور جذبے کے ساتھ آیا ہوں۔ ہم مثبت کرکٹ کھیلیں گے اور ہرگز دفاعی سوچ کے ساتھ میدان میں نہیں اتریں گے۔

عالمی کپ 2015ء اگلے سال فروری اور مارچ کے مہینے میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا جائے گا اور وقار کا کہنا ہے کہ یہی بہترین وقت ہے کہ ورلڈ کپ کی تیاریوں کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں پچھلی بار آیا تھا تو اس وقت بھی یہی صورتحال تھی اور ہم نے 2011ء ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھائی۔

وقار یونس نے کہا کہ ان آٹھ مہینوں میں ہم نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف بھی کھیلنا ہے تو یہ عرصہ عالمی کپ کے لیے بہترین تیاری دے گا۔ ہمارے اہداف مختصر مدتی ہیں ، ہم نے اس سال کافی کرکٹ کھیلنی ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان اگست میں دورۂ سری لنکا کے بعد پھر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں 'ہوم سیریز' کھیلے گا اور وقار یونس کے بقول ہدف تو بہرحال ورلڈ کپ ہے لیکن یہ سیریز بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ دورے کامیاب ہوں گے تبھی ورلڈ کپ کی بہترین تیاری ہوگی۔

وقار یونس نے امید ظاہر کی کہ پاکستان سیریز کی بنیادوں پر کپتانوں کی تبدیلی کے بجائے ایک طویل المیعاد قائد مقرر کرے گا۔

گزشتہ دور میں شاہد آفریدی کے ساتھ تنازع اور بعد ازاں اپنے استعفے کے حوالے سے وقار یونس نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ تلخیاں کم ہوجاتی ہیں، کرکٹ ٹیم ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے جس میں اختلافات ہوجاتے ہیں لیکن اچھا کوچ وہ ہے جو ان چیزوں کو نظرانداز کرے اور سب کو ساتھ لے کر چلے۔ میری کوشش ہوگی کہ اب میں پچھلی غلطیاں دوبارہ نہ دہراؤں۔

وقار یونس 2006ء اور 2009ء میں مختصر عرصے کے لیے پاکستان کے باؤلنگ کوچ رہے اور پھر 2010ء اور 2011ء میں ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالا لیکن اسی سال شاہد آفریدی کے ساتھ تنازع کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔ یہاں تک کہ اس سال پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں ایک مرتبہ پھر ہیڈ کوچ کے عہدے کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول کیا۔

Article Tags

Facebook Comments