معمر ترین کرکٹر نارمن گورڈن انتقال کرگئے

جنوبی افریقہ کے سابق تیز گیندباز اور 100 سال کی طویل عمر پانے والے واحد کھلاڑی نارمن گورڈن چل بسے۔

نارمن گورڈن (درمیان میں) 2011ء میں 100 سال کی عمر پانے والے پہلے کرکٹر بنے تھے (تصویر: Getty Images)

نارمن گورڈن (درمیان میں) 2011ء میں 100 سال کی عمر پانے والے پہلے کرکٹر بنے تھے (تصویر: Getty Images)

6 اگست 1911ء کو جنوبی افریقہ کی ریاست ٹرانسوال میں پیدا ہونے والے گورڈن واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم سے پہلے کے زمانے میں کرکٹ کھیلی اور مارچ 1939ء میں انگلستان کے خلاف ڈربن میں کھیلے گئے تاریخی ٹائم لیس ٹیسٹ میں بھی شامل تھے۔ یہ مقابلہ 10 روز جاری رہا تھا لیکن آخری روز چائے کے وقفے کے موقع پر بارش نے اس وقت میدان کو آ لیا جب انگلستان فتح سے صرف 42 رنز کے فاصلے پر تھا۔ میچ مزید جاری نہ رہ سکا اور انگلستان کے کھلاڑیوں کو لازمی کیپ ٹاؤن کی ریل گاڑی پکڑنا تھی تاکہ وہ تین دن بعد وہاں سے وطن واپس جانے والے بحری جہاز میں سوار ہو سکیں۔ یوں یہ مقابلہ اختتام کو پہنچا اور ساتھ ہی نارمن گورڈن کا کیریئر بھی کیونکہ اس کے بعد دوسری جنگ عظیم اور ان سمیت کئی کھلاڑیوں کا کرکٹ مستقبل تاریک ہوگیا۔

گورڈن نے انگلستان کے اسی دورۂ جنوبی افریقہ میں پانچ ٹیسٹ مقابلے کھیلے، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کل متاع تھے۔ البتہ اس سیریز میں 20 وکٹوں کے علاوہ انہوں نے دنیائے کرکٹ میں اپنی طویل عمری کی وجہ سے شہرت پائی۔ 2011ء میں انہوں نے اپنی 100 ویں سالگرہ بہت دھوم دھام کے ساتھ منائی۔ یہاں تک کہ 103 سال کی عمر پانے کے بعد وہ آج جوہانسبرگ کے علاقے ہلبرو میں اپنے اسی گھر میں انتقال کرگئے جہاں وہ گزشتہ 60 سالوں سے مقیم تھے۔

گورڈن اپنے مضبوط جسم، قوت اور فٹنس کی وجہ سے معروف تھے۔ انہوں نے ٹائم لیس ٹیسٹ میں 8 گیندوں پر مشتمل 92.2 اوورز پھینکے تھے جو آج کے حساب سے 120 اوورز بنتے ہیں۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے گردوں کی تکلیف میں مبتلا تھے البتہ اس سے پہلے ان کی صحت مثالی تھی۔

ان کے انتقال کے بعد اب جنوبی افریقہ کے سابق گیندباز لنڈسے ٹکٹ طویل العمر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ٹکٹ کی عمر اس وقت 95 سال ہے اور انہوں نے 1947ء سے 1949ء کے دوران 9 ٹیسٹ مقابلوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی تھی۔

Facebook Comments