معاملات طے پا گئے، محسن خان کا استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ

ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے دستے کے اعلان پر اٹھنے والا تنازع درون خانہ ہی حل کر لیا گیا اور چیف سلیکٹر محسن حسن خان نے 'معاملات' طے پا جانے کے بعد استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین محسن حسن خان

دستے کے اعلان کے اگلے روز محسن خان نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا تو وہ چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق تنازع دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے وکٹ کیپر کے انتخاب پر پیدا ہوا۔ محسن خان جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف گزشتہ سیریز کھیلنے والے عدنان اکمل کی شمولیت کے حق میں تھے جبکہ کمیٹی کے دیگر اراکین ایک روزہ ٹیم کے ساتھ ویسٹ انڈیز میں موجود محمد سلمان کی شمولیت چاہتی تھی۔

بعد ازاں محسن خان نے معاملے سے صحافیوں کو آگاہ کرنے کے لیے پریس کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ۔ تمام صحافی شرکت کے لیے پہنچ گئے لیکن محسن خان پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے خبری اعلامیہ جاری ہونے اور فون کال آ جانے کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ مؤخر کر دیا اور پریس کانفرنس میں آئے ہی نہیں۔ جس پر صحافیوں میں ان کے خلاف شدید اشتعال پایا گیا اور کئی صحافیوں نے آئندہ ان کے کسی بلاوے پر نہ آنے کا اعلان کیا۔

بورڈ نے جاری کردہ خبری اعلامیہ میں کہا تھا کہ اس طرح کی کوئی بھی پریس کانفرنس بورڈ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور ساتھ ہی محسن خان کو جمعرات کو چیئرمین اعجاز بٹ سے لاہور میں ملاقات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔

ملاقات کے بعد چیئرمین اعجاز بٹ نے صحافیوں کے روبرو ایک تحریری بیان پڑھا جس میں کہا گیا کہ آج محسن اور میرے درمیان ایک سیر حاصل ملاقات ہوئی اور ہم نے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے گزشتہ چند دنوں سے ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے معاملات کا بھی جائزہ لیا۔ ان کی تفصیلات میں جائے بغیر میں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں کہ پی سی بی اور محسن خان کے درمیان تمام معاملات بخوبی حل کر لیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم اس وقت ویسٹ انڈیز میں موجود ہے جہاں وہ ایک روزہ میچز کی سیریز جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گی۔ جس کا آغاز 12 مئی سے کو پروویڈنس، گیانا میں پہلے ٹیسٹ سے ہوگا۔

Article Tags

Facebook Comments