خود کوگولی مارنے کو دل کررہا ہے: یونس خان پھٹ پڑے

پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے جس دستے کا اعلان کیا ہے اس میں تجربہ کار یونس خان شامل نہیں اور کئی دن خاموش رہنے کے بعد بالآخر یونس پھٹ پڑے اور کہتے ہیں کہ سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ بورڈ کے رویے پر خود کو گولی مارنے کو دل کررہا ہے۔

پی سی بی کی روایت رہی ہے کہ کبھی کوئی سینئر کھلاڑی باعزت انداز میں رخصت نہیں ہوا، یونس خان کا شکوہ (تصویر: AFP)

پی سی بی کی روایت رہی ہے کہ کبھی کوئی سینئر کھلاڑی باعزت انداز میں رخصت نہیں ہوا، یونس خان کا شکوہ (تصویر: AFP)

ڈیڑھ سال کے طویل عرصے تک قوی ون ڈے ٹیم سے باہر رہنے کے بعد یونس خان کو حالیہ دورۂ سری لنکا کے لیے ون ڈے ٹیم میں شامل کیا گیا تھا لیکن صرف ایک میچ کھلانے کے بعد انہیں آسٹریلیا کے خلاف آئندہ سیریز کے محدود اوورز کے مرحلے سے باہر کردیا گیا ہے۔

کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنا بورڈ کی پرانی روایت ہے۔ ماضی میں جاوید میانداد، انضمام الحق اور محمد یوسف جیسے کھلاڑی بھی مایوس کن انداز میں بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ گئے، وسیم اکرم، وقار یونس اور معین خان بھی ریٹائرمنٹ لے کر نہیں گئے بلکہ انہیں زبردستی بھیجا گیا، اب یہی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرائی جارہی ہے، ایسے رویے پر تو ملک ہی چھوڑ دینے کو جی چاہتا ہے۔ مایوس کن بات یہ ہے کہ خود یہ کھلاڑی بھی اب خاموش دکھائی دیتے ہیں اور زبان نہیں کھول رہے۔

آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں یونس خان کی عدم شمولیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ عالمی کپ 2015ء نہیں کھیل پائیں گے، جو اس وقت صرف پانچ مہینے کی دوری پر ہے اور اہم ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کی تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں۔ یونس کہتے ہیں کہ عالمی کپ کی تیاریوں کا آغاز بہت پہلے ہونا چاہیے تھا، اب چھ مہینے پہلے کیا تیاری ہوسکتی ہے؟ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ عالمی کپ کھیلنا میرا ہدف ہے، اگر بورڈ باعزت طریقے سے بات کرتا تو آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے ساتھ ہی ایک روزہ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیتا۔ ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ جب تک کھیلوں، عزت کے ساتھ کھیلوں۔ اب میں اگلے چند مہینے انتظار کروں گا اور اگر ٹیم سیٹ ہوگئی تو واپسی کی امید کے بجائے ریٹائرمنٹ کو ترجیح دوں گا۔ سب جانتے ہیں کہ بھاگنے والا نہیں ہو، صرف پانچ چھ مہینے انتظار کے بعد حتمی فیصلہ کروں گا۔

یونس خان نے گزشتہ دہائی کے وسط میں متعدد بار قیادت سنبھالنے سے انکار کیا تھا، جس کی وجہ سے ان کے بورڈ عہدیداران کے ساتھ تعلقات خاصے کشیدہ رہے تھے۔ بالآخر 2009ء میں کپتانی کی ذمہ داری اٹھانے پر رضامندی ظاہر کی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جتوایا۔ اس کے ساتھ ہی مختصر ترین طرز کی کرکٹ کو شایان شان انداز میں الوداع بھی کہا۔ البتہ کپتان کی حیثیت سے مکمل اختیارات نہ ملنے کا شکوہ کرکے قیادت کو چھوڑ دیا اور اسی سال آسٹریلیا کا دورہ کرنے سے انکار کردیا۔ جہاں ٹیم تمام ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز میں ناکامی سے دوچار ہوئی اور بورڈ نے تحقیقات کے بعد سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم میں گروہ بندی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے یونس خان پر بھی پابندی عائد کردی۔ یونس خان کہتے ہیں کہ انہیں خود پر حیرت بھی ہوتی ہے کہ اتنی سازشوں کے باوجود وہ اب تک کیسے کھیل رہے ہیں۔ اس میں خود میری اپنی غلطیاں بھی ہیں، ایک تو میں سب کو ساتھ لے کر چلنے والا بندہ ہوں، میں نے اس وقت نئے کھلاڑیوں کو سپورٹ کیا جب میں خود نیا تھا۔ اپنے آپ پر دوسروں کو مقدم جانا اور اس کا نتیجہ آج اس صورت میں نکل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کا رویہ یہ ہے کہ وہ ایک میچ کھیلنے والے 250 سے زیادہ مقابلوں کا تجربہ رکھنے والوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہا ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اس طرح سے تو کوئی جونیئر بھی کھیلنے کو تیار نہیں ہوگا۔ ایسے بے عزت کرکے ٹیسٹ کھلانے سے بہتر ہے کہ مجھے سرے سے نہ بلائیں، میں آج تک جتنا بھی کھیلا باعزت طریقے سے کھیلا، کبھی جوڑ توڑ کی سیاست نہیں کی۔

اس موقع پر یونس خان نے اعلان کیا کہ اگر بورڈ باعزت انداز میں آئندہ ون ڈے سیریز کھیلنے کی پیشکش کرے تو وہ اس کے بعد ریٹائرمنٹ لینے کو بھی تیار ہیں۔

دل کے پھپھولے سر راہ پھوڑنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے یونس خان کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کردیا ہے کیونکہ مرکزی معاہدے کے تحت یونس خان بورڈ کی اجازت کے بغیر ذرائع ابلاغ سے بات نہیں کرسکتے۔

Facebook Comments