محمد عامر کا معاملہ وقت طلب ہے، فوری فیصلہ نہیں ہوگا: آئی سی سی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے پاکستان کرکٹ بوررڈ کی جانب سے محمد عامر کی پابندی میں نرمی کی درخواست کی وصولیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔

محمد عامر اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں دھر لیے جانے کے بعد پانچ سال کی پابندی بھگت رہے ہیں (تصویر: AFP)

محمد عامر اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں دھر لیے جانے کے بعد پانچ سال کی پابندی بھگت رہے ہیں (تصویر: AFP)

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں آئی سی سی کی تقریب کے موقع پر چیف ایگزیکٹو افسر ڈیو رچرڈسن نے کہا کہ "پی سی بی نے ہمیں محمد عامر کے حوالے سے ایک خط لکھا ہے، جس کے بعد ایک عمل کا آغاز ہوگا۔ پہلے کھلاڑی کی ذہنی حالت اور اس کی پیشرفت کے حوالے سے انٹرویوز کیے جائیں گے اور پھر حقیقی پیشرفت ہوگی۔ اس لیے یہ کوئی چھوٹا سا عمل نہیں بلکہ اس پر ہمیں خاصی توجہ ڈالنا ہوگی۔"

آئی سی سی نے چند ماہ قبل اپنے انسداد بدعنوانی کے قوانین میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں، جن کی رو سے مقامی بورڈ کے ساتھ تعاون کرنے اور انسداد بدعنوانی کے کورسز میں حصہ لینے والے کھلاڑی کو پابندی کے خاتمے سے کچھ عرصہ پہلے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

محمد عامر ان تین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے جنہیں 2010ء میں دورۂ انگلستان میں اسپاٹ-فکسنگ اسکینڈل میں دھر لیا گیا تھا اور نتیجے میں آئی سی سی نے تینوں پر کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندی عائد کی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلمان بٹ اور محمد آصف کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف محمد عامر کے حق میں سفارش کی ہے اور آثار نظر آتے ہیں کہ وہ جلد ڈومیسٹک کرکٹ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ اگر ایسا نہیں بھی ہو سکا تو اگست 2015ء میں ان پر عائد پابندی ویسے ہی ختم ہوجائے گی۔

Facebook Comments