الویرو پیٹرسن نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

جنوبی افریقہ کے افتتاحی بلے باز الویرو پیٹرسن نے فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ کو چھوڑ دیا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے خاتمے، اور جنوبی افریقہ کے دو-صفر سے سیریز جیت جانے، کے بعد پیٹرسن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب بین الاقوامی سطح پر کرکٹ نہیں کھیلیں گے۔

گزشتہ پورے سال ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد پیٹرسن نے بالآخر بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ دی (تصویر: PA Photos)

گزشتہ پورے سال ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد پیٹرسن نے بالآخر بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ دی (تصویر: PA Photos)

کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 42 رنز بنانے کے بعد دوسری باری میں صفر کی ہزیمت سے دوچار ہونے والے پیٹرسن فروری 2010ءء میں بھارت کے خلاف کولکتہ میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور پہلے ہی مقابلے میں سنچری بنا کر شہرت حاصل کی تھی۔

مجموعی طور 36 ٹیسٹ مقابلوں میں تقریباً 35 کے اوسط کے ساتھ 2093 رنز بنائے جبکہ 21 ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بھی جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی۔ ٹیسٹ کیریئر میں انہوں نے مجموعی طور پر پانچ سنچریاں اور 8 نصف سنچریاں بنائیں ۔ وہ آئندہ چند سالوں تک کاؤنٹی اور فرنچائز کرکٹ جاری رکھیں گے جس میں وہ سمرسیٹ، گلیمورگن اور ایسکس کی جانب سے کھیل چکے ہیں اور اب شاید لنکاشائر سے کھیلیں۔

34 سالہ پیٹرسن کے کیریئر کا سب سے یادگار سال 2012ء تھا۔ ایک سال بعد ٹیم میں واپس آتے ہی کیپ ٹاؤن میں سری لنکا کے خلاف 109 رنز کی اننگز اور پھر مارچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ویلنگٹن میں 156 رنز کی باری اور سب سے بڑھ کر اگست 2012ء میں انگلستان کے خلاف ہیڈنگلے میں 182 رنز کی اننگز نے ان کی جگہ کو مضبوط کردیا۔

پیٹرسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے سال نو پر ٹیم انتظامیہ کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کیا، جبکہ خود وہ کئی مہینوں سے اس پر غور کررہے تھے۔ "ٹیم میں نئے کھلاڑی آ رہے ہیں اور میری جگہ لینے کے لیے تیار ہیں اس لیے میرے خیال میں اب باعزت رخصتی کا وقت آ گیا ہے۔"

پورٹ ایلزبتھ میں جنم لینے والے پیٹرسن جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گریم اسمتھ کے اہم ساتھی تھے۔ دونوں نے مجموعی طور پر 52 اننگز کھیلیں اور 42.36 کے عمدہ اوسط کے ساتھ کل 2113 رنز بنائے۔ لیکن اب نوجوان بلے بازوں کی آمد اور عمدہ کارکردگی کے بعد پیٹرسن خاصے دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں۔ گزشتہ 27 اننگز میں ایک بار بھی تہرے ہندسے کو حاصل نہ کر پانا اس دباؤ میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے اس لیے پیٹرسن نے بہتر جانا کہ وہ اب نوجوانوں کے لیے جگہ خالی کردی۔

Facebook Comments