آئی پی ایل بدعنوانی مقدمہ کا فیصلہ، شری نواسن دوراہے پر

بھارت کی عدالت عظمیٰ نے تقریباً ڈیڑھ سال کی تحقیقات اور بھرپور سماعت کے بعد بالآخر آئی پی ایل 2013ء بدعنوانی مقدمے کے ایک معاملے کو نمٹا دیا ہے اور بورڈ کے غیر فعال صدر نرائن سوامی شری نواسن کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے، جب تک کہ وہ چنئی سپر کنگز میں اپنے مالی مفادات سے دستبردار ہوجائیں اور ساتھ ہی ان کے داماد اور چنئی سپر کنگز کے عہدیدار گروناتھ مے یپن اور راجستھان رائلز کے شریک-مالک راج کندرا کو مقابلوں پر شرطیں لگانے کا قصوروار ٹھیرایا ہے۔

عدالتی فیصلے نے بی سی سی آئی کے آئین کی متنازع ترمیم کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے مطابق بورڈ عہدیداران آئی پی ایل یا چیمپئنز لیگ ٹی20 میں مالی مفادات رکھ سکتے ہیں (تصویر: AFP)

عدالتی فیصلے نے بی سی سی آئی کے آئین کی متنازع ترمیم کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے مطابق بورڈ عہدیداران آئی پی ایل یا چیمپئنز لیگ ٹی20 میں مالی مفادات رکھ سکتے ہیں (تصویر: AFP)

عدالت کے دو رکنی بنچ نے 130 صفحات پر مشتمل فیصلے میں بھارتی کرکٹ بورڈ کو آئندہ ڈیڑھ ماہ کے اندر انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی قرار دیا ہے کہ آئی پی ایل میں مالی مفادات رکھنے والا کوئی عہدیدار ان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا یعنی کہ چنئی سپر کنگز کے مالی معاملات میں شریک شری نواسن صدارت کے لیے آئندہ انتخاب نہیں لڑسکیں گے البتہ ان کے خلاف دیگر الزامات ثابت نہیں ہوسکے۔

فیصلے میں بھارتی کرکٹ بورڈ کی اس متنازع ترمیم کے خاتمے کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق بورڈ عہدیداران آئی پی ایل اور چیمپئنز لیگ ٹی20 میں مالی مفادات رکھ سکتے ہیں۔ عدالت نے اس ترمیم کو برائی کی جڑ قرار دیا۔

فیصلے کے بعد اب چنئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ رواں سال آئی پی ایل کے آٹھویں سیزن میں یہ دونوں ٹیمیں نہ دکھائی دیں۔ اس کے علاوہ مالی مفادات کے معاملے پر شری نواسن کے خلاف فیصلہ بھی ابھی باقی ہے اس لیے آئندہ چھ ماہ بہت اہم ہوں گے جن کے دوران آزاد سہ رکنی کمیٹی حتمی فیصلے لے گی۔

Facebook Comments