عالمی کپ کے بہترین تیز باؤلرز، کورٹنی واش کی فہرست میں کوئی پاکستانی شامل نہیں

ویسٹ انڈیز کے مشہور تیز گیندباز کورٹنی واش نے عالمی کپ 2015ء سے پہلے اپنے پسندیدہ تیز باؤلرز کی فہرست جاری کی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ گیندباز آنے والے عالمی کپ میں موثر کارکردگی پیش کریں گے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جس کورٹنی واش نے اپنے کیریئر کا بڑا حصہ وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ گزارا ہو، ان کی نظر میں پاکستان کے پاس اس وقت کوئی ایسا تیز باؤلر نہیں جو اس فہرست میں شامل کیے جانے کے قابل ہو اور توقعات کے عین مطابق بھارت کا بھی کوئی گیندباز اس فہرست میں جگہ نہیں بنا سکا۔

کورٹنی واش پاکستان اور بھارت کے کسی تیز باؤلر کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ ورلڈ کپ میں کوئی نمایاں کارکردگی دکھائے گا (تصویر: AFP)

کورٹنی واش پاکستان اور بھارت کے کسی تیز باؤلر کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ ورلڈ کپ میں کوئی نمایاں کارکردگی دکھائے گا (تصویر: AFP)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی ویب سائٹ کے لیے خصوصی تحریر میں واش کا کہنا تھا کہ "میری فہرست میں پاکستان یا بھارت کا کوئی بھی گیندباز شامل نہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ میں نے طویل عرصے سے پاکستانی کرکٹ نہیں دیکھی اور کسی بھارتی گیندباز میں مجھے اتنی صلاحیت دکھائی نہیں دیتی۔"

کورٹنی واش کی فہرست میں آسٹریلیا کے مچل جانسن سب سے آگے ہیں اور ان کے بعد جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین کا نام ہے۔ "مچل جانسن اپنے میدانوں پر کھیلیں گے اس لیے وہ بہت موثر ثابت ہو سکتے ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں، ٹیم کو بھی ان سے خاصی امیدیں وابستہ ہیں۔ پھر ان کی باؤلنگ میں رفتار بھی ہے اور بلے باز کو پچھلے قدموں پر دھکیلنے کی صلاحیت بھی۔"

ڈیل اسٹین کے بارے میں کورٹنی واش کہتے ہیں کہ "اسٹین بھی جانسن جتنے ہی موثر تیز باؤلر ہیں۔ وہ موجودہ کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی دکھانے والے گیندبازوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے پاس بھی رفتار ہے لیکن مجھے ان کی سب سے اچھی خوبی یہ لگتی ہے کہ وہ اپنی نپی تلی گیندبازی کی بدولت حریف بلے بازوں پر مسلسل دباؤ بنائے رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی گیند کی رفتار اور لائن و لینتھ پر بھی ان کو مہارت حاصل ہے۔"

واش کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بہت مشکل کام ہے اور باؤلرز کا انتخاب انہوں نے اپنی سوچ اور اندازوں کے مطابق کیا ہے۔ ان کی فہرست میں جانسن اور اسٹین کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے کیمار روچ، جیروم ٹیلر اور جیسن ہولڈر، آسٹریلیا کے پیٹ کمنز، انگلستان کے جیمز اینڈرسن اور اسٹیون فن، سری لنکا کے لاستھ مالنگا،جنوبی افریقہ کے مورنے مورکل اور ویرنن فلینڈر شامل ہیں۔

کورٹنی واش نے 1984ء سے 2001ء کے دوران 132 ٹیسٹ اور 205 ایک روزہ مقابلوں میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کی اور بین الاقوامی کیریئر میں کل 746 وکٹیں حاصل کیں۔

Facebook Comments