گیل اور ڈی ولیئرز فارم میں ہوں تو کچھ نہیں کیا جا سکتا: دھونی

بھارت پاکستان اور جنوبی افریقہ جیسے سخت ترین حریفوں کو شکست دے کر اب عالمی کپ میں مکمل طور پر مطمئن دکھائی دیتا ہے، لیکن جس مقام پر وہ اس وقت موجود ہے، اس پر وہ آئندہ مقابلوں میں شکست برداشت نہیں کرسکتا۔ ٹیم انڈیا عالمی کپ سے پہلے ایک سخت مرحلے سے گزری ہے اور اب بمشکل فتوحات کی راہ پر گامزن ہوئی ہے، اس لیے ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ اور زمبابوے جیسے آسان حریفوں کے خلاف وہ کوئی کمزوری نہیں دکھانا چاہے گا۔

ویسٹ انڈیز نے گو کہ آغاز آئرلینڈ کے ہاتھوں مایوس کن شکست کے ساتھ کیا لیکن اس کے بعد پاکستان اور زمبابوے کو جس بری طرح شکست دی، اس نے ثابت کیا کہ وہ اپنے دن پر کچھ بھی کرسکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بدترین شکست نے کچھ دھچکا ضرور پہنچایا ہوگا لیکن بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی بھی مانتے ہیں کہ جب کرس گیل اور ڈی ولیئرز فارم میں ہوں تو گیندباز کچھ نہیں کرسکتا۔

بھارت نے جنوبی افریقہ کے کپتان ڈی ولیئرز پر تو قابو پا لیا تھا، لیکن گیل کا سامنا کرنا ابھی باقی ہے اور انہیں روکنے کے لیے بھارت کو کچھ خاص کر دکھانا ہوگا تاکہ وہ زمبابوے کے خلاف مقابلے والی کارکردگی نہ دہرا سکیں۔ گیل نے کینبرا میں ہونے والے مقابلے میں ڈبل سنچری بنائی تھی۔

اہم مقابلے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب دھونی سے گیل، ڈی ولیئرز اور برینڈن میک کولم جیسے بلے بازوں کے مقابلے میں حکمت عملی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف بہترین منصوبہ بندی یہی ہے کہ کوئی طے شدہ منصوبہ تیار نہ کیا جائے۔ "ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی اس طرح چھکے مار رہا ہے تو آپ اس میں کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ آپ اس کے لیے فیلڈنگ ترتیب نہیں دے سکتے۔ ایسے بلے بازوں کو صرف چکما دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر ڈیرن سیمی کہتے ہیں کہ "ویسٹ انڈیز کے تمام ہی کھلاڑی فٹ ہیں اور ہمارے پاس حتمی الیون کے انتخاب کے لیے تمام کھلاڑی دستیاب ہیں۔" گیل کی پیٹھ کی تکلیف کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ "گیل کی پیٹھ کا معاملہ تو پچھلے تین سال سے ایسا ہی ہے، اس دوران بھی وہ میدان میں اتر کر ویسٹ انڈیز کو مقابلے جتواتا رہا ہے۔

یہ مقابلہ پرتھ میں کھیلا جائے گا کہ جہاں ابھی آسٹریلیا نے افغانستان کے خلاف 417 رنز کا ریکارڈ اسکور کھڑا کیا ہے۔ اب کون چلے گا؟ روہیت یا کوہلی؟ گیل یا سیموئلز؟ یہ کل پتہ چلے جائے گا۔

Facebook Comments