فرحان سعید، معذوری بھی کرکٹ سے دور نہ کرسکی

انتہائی نامساعد حالات میں کامیابی کیسے حاصل کی جاتی ہے، پاکستان کے فرحان سعید اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ پولیو سے متاثرہ اس پاکستانی کھلاڑی کا کرکٹ جنون دیکھ کر ہر شخص دنگ رہ جاتا ہے۔ محض دو سال کی عمر میں بائیں ٹانگ پولیو کی وجہ سے ناکارہ ہوجانے کے بعد سے سعید کو بیساکھی کا سہارا لینا پڑا، لیکن یہ معذوری کرکٹ کھیلنے کے جنون کی راہ میں آڑے نہیں آئی۔

فرحان سعید کے حیران کُن باؤلنگ ایکشن کی اس سے بہتر کیا مثال ہو کہ وہ 5 اوورز میں 22 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ بھی اپنے نام رکھتے ہیں۔ اس منفرد مہارت پر انہوں نے خود کمال حاصل کیا، اور اس میں کسی کی مدد شامل نہیں۔ کرکٹ آسٹریلیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فرحان سعید نے بتایا کہ جس وقت وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گلی کی کرکٹ کھیلا کرتے تھے، اس وقت سے ہی تمام ساتھی کھلاڑی اُن کی گیندبازی سے متاثر تھے اور انہیں رن اپ کے ساتھ گیندبازی کرنے کی تجویز دیتے تھے۔

مسلسل مشق کرنے کے بعد فرحان سعید نے ایک پیشہ ور باؤلر کی طرح گیندبازی کرنا شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد کرکٹ سے وابستہ کئی مشہور ہستیوں نے انہیں اسی طرح گیندبازی کو جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ وہ کہتے ہیں، "کئی بلے بازوں کو میری گیند کھیلنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور بلے بازوں نے اس بات کو ظاہر بھی کیا کہ میری گیندبازی نے انہیں کئی بار الجھن میں ڈالا۔ وہ اس بات کا سہرا اپنے والدین کی دعاؤں اور کرکٹ کے حوالے سے جنون کے سر باندھتے ہیں۔"

پاکستان ڈس ایبلڈ کرکٹ ایسوسی ایشن (پی ڈی سی اے) کے جوائنٹ سیکرٹری اور میڈیا ذمہ دار محمد نظام نے فرحان سعید کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُس میں خاص صلاحیت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی معذور کرکٹ ٹیم نے اپنا پہلا بین الاقوامی مقابلہ 2012ء میں انگلستان کے خلاف کھیلا تھا۔ یہ میچ متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا تھا۔ کرکٹ کی کئی مشہور و معروف ہستیاں، جن میں آئی سی سی کے سابق صدر ہارون لورگاٹ اور پی سی بی کے سابق سربراہ ذکا اشرف بھی اس مقابلے کے دوران اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ اس مقابلے کے دوران جب فرحان سعید نے اپنی پہلی گیند ڈالی تو وہ سبھی کی آنکھیں نم کر گئی۔ یہ آنسو اُن کی معذوری پر ہمدردی کے لیے نہیں، بلکہ اُن کے جذبے کے لیے تھے۔

Facebook Comments