دل شکستہ انگلستان آخری مقابلے میں کامیاب

جب انگریز اور افغان پہلی بار آمنے سامنے آئے تھے تو افغان قبائلی جنگجوؤں نے 4500 فوجیوں پر مشتمل دستے میں سے صرف ایک کو زندہ چھوڑا تھا، لیکن آج 176 سال بعد کرکٹ کے میدانوں پر جب دونوں ملک پہلی بار معرکہ زن ہوئے تو جیت انگریزوں کے نام رہی۔

سڈنی میں دونوں ٹیموں نے عالمی کپ 2015ء میں اپنا آخری مقابلہ بجھے ہوئےارمانوں اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ کھیلا۔ افغانستان کے لیے تو پھر بھی اگلے مرحلے تک رسائی اتنی آسان نہیں تھی کیونکہ یہ اس کا پہلا عالمی کپ تھا۔ اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اسکاٹ لینڈ کے خلاف مقابلے میں جیت حاصل کرکے اب خالی ہاتھ واپس نہیں جائے گا لیکن 'بابائے کرکٹ' انگلستان کے لیے یہ عالمی کپ کسی بھیانک خواب سے کم نہیں رہا اور افغانستان کے خلاف 9 وکٹوں کی جیت بھی اس کا ازالہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

بہرحال، افغانستان نے بلے بازی میں اپنی بدترین کارکردگی آخری مقابلے میں دکھائی، جہاں وہ بارش سے متاثرہ اننگز میں 7 وکٹوں پر صرف 111 رنز بنا سکا۔ عالمی کپ میں اپنا پہلا مقابلہ کھیلنے والے شفیق اللہ 30 رنز تک پہنچے، باقی کوئی بلے باز 17 رنز سے آگے نہ جا سکا۔ یہ رنز بھی اپنا پہلا مقابلہ ہی کھیلنے والے ناصر جمال نے بنائے۔ کپتان محمد نبی 16 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ جاوید احمدی 7، نوروز منگل 4، افسر زازئی 6 اور سمیع اللہ شنواری صرف 7 رنز بنانے کے بعد اس طرح میدان سے لوٹے کہ اسکور بورڈ پر صرف 34 رنز موجود تھے۔

بہرحال، 37ویں اوور تک بنائے گئے 111 رنز کو ڈک ورتھ لوئس طریقے سے کچھ بہتر بنا دیا، جب انگلستان کو 25 اوورز میں 101 رنز کا ہدف ملا۔ یہ تو بھلا ہو کہ مقابلہ ممکن ہوا ورنہ انگلستان ایک یقینی جیت سے محروم ہوجاتا اور عالمی کپ کی تاریخ میں اپنی بدترین کارکردگی کے ساتھ تاریخ میں نام لکھواتا۔ بہرحال، اب کون سا کھلاڑیوں کو پھولوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔ کوارٹر فائنل کی دوڑ سے باہر ہوجانے کے بعد اس مقابلے کی ویسے ہی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ 19 ویں اوور کی پہلی گیند پر ہدف کو حاصل کر لینا بھی ناقدین کو خاموش نہیں کر پائے گا۔ بہرحال، این بیل 52 ناٹ آؤٹ رنز کے ساتھ سب سے نمایاں رہے جبکہ ایلکس ہیلز نے 37 رنز بنائے۔

اب دونوں ٹیمیں وطن واپسی کی پروازیں پکڑیں گی، جہاں افغانستان مستقبل کے حسین خواب دیکھے گا اور انگلستان کو مستقبل کے ہی اندیشے گھیر لیں گے۔ دیکھتے ہیں، کل کا سورج دونوں کے لیے کیا لاتا ہے۔

افغانستان بمقابلہ انگلستان

عالمی کپ 2015ء - اڑتیسواں مقابلہ

بتاریخ: 13 مارچ 2015ء

بمقام: سڈنی کرکٹ گراؤنڈ، سڈنی، آسٹریلیا

نتیجہ: انگلستان 9 وکٹوں سے کامیاب (بمطابق ڈک ورتھ لوئس طریقہ)

میچ کے بہترین کھلاڑی: کرس جارڈن

افغانستان رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
جاوید احمدی کیچ روٹ بولڈ براڈ 7 15 0 0 46.67
نوروز منگل کیچ روٹ بولڈ اینڈرسن 4 28 0 0 14.29
افسر زازئی کیچ بٹلر بولڈ جارڈن 6 14 0 0 42.86
ناصر جمال کیچ بٹلر بولڈ بوپارا 17 52 2 0 32.69
سمیع اللہ شنواری کیچ مورگن بولڈ جارڈن 7 11 1 0 63.64
شفیق اللہ کیچ بوپارا بولڈ ٹریڈویل 30 64 1 0 46.88
محمد نبی کیچ ٹریڈویل بولڈ بوپارا 16 17 1 1 94.12
نجیب اللہ زدران ناٹ آؤٹ 12 15 2 0 80.0
حمید حسن ناٹ آؤٹ 0 2 0 0 0.0
فاضل رنز ل ب 6، و 6 12
کل رنز 36.2 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 111
گیندبازی (انگلستان) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
جیمز اینڈرسن 7.0 0 18 1 0 2 2.57
اسٹورٹ براڈ 8.0 1 18 1 0 2 2.25
کرس جارڈن 6.2 2 13 2 0 1 2.05
روی بوپارا 8.0 1 31 2 0 1 3.87
جیمز ٹریڈویل 7.0 0 25 1 0 0 3.57
انگلستان (ہدف: 101 رنز، 25 اوورز میں) رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
ایلکس ہیلز کیچ زازئی بولڈ حسن 37 33 3 2 112.12
این بیل ناٹ آؤٹ 52 56 6 0 92.86
جیمز ٹیلر ناٹ آؤٹ 8 20 0 0 40.0
فاضل رنز ل ب 3، و 1 4
کل رنز 18.1 اوورز میں 1 وکٹ کے نقصان پر 101
گیندبازی (افغانستان) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
شاپور زدران 4.0 0 25 0 0 0 6.25
دولت زدران 3.0 0 23 0 0 0 7.66
حمید حسن 5.0 0 17 1 0 1 3.4
محمد نبی 4.1 0 14 0 0 0 3.36
سمیع اللہ شنواری 2.0 0 19 0 0 0 9.5

Facebook Comments