شکست دامن سے چمٹ گئی، پاکستان 'اے' بھی ناکام

شکست پاکستان کے دامن سے اس بری طرح چمٹ گئی ہے کہ چاہے حریف بدل جائے، طرز اور نوعیت تبدیل ہوجائے، لیکن نتیجہ وہیں ڈھاک کے تین پات ہے۔ ایک جانب قومی ٹیم پر بنگال کا جادو چل چکا ہے، اور وہ ایک فتح کو ترس رہی ہے، وہیں لنکا ڈھانے کے عزم سے جانے والی 'اے' ٹیم کو سری لنکا 'اے' کے ہاتھوں پہلے ہی مقابلوں میں 8 وکٹوں کی کراری شکست ہوئی ہے۔ کپتان فواد عالم کے 58 رنز سے بننے والے صرف 203 رنز میزبان کو روکنے کے لیے کافی نہیں تھے، جس نے کوسال پیریرا کی شاندار سنچری اور کپتان آشان پریانجن کے ناقابل شکست 57 رنز کی بدولت باآسانی 33 ویں اوور میں کامیابی حاصل کی۔

بنگلہ دیش کے خلاف شکست خوردہ محدود اوورز دستے کے چند اراکین بھی سری لنکا کے اس دورے پر موجود ہیں۔ فواد عالم کپتان ہیں تو وکٹ کیپر محمد رضوان اور آل راؤنڈر سعد نسیم بھی کھیل رہے ہیں۔ پاکستان 'اے' نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ وکٹ کیپر محمد رضوان اور اسرار اللہ اننگز کے آغاز کے لیے میدان میں اترے اور ان کا دھیما آغاز ساتویں اوور میں ہی اختتام کو پہنچا، جب رضوان 19 گیندوں پر صرف 5 رنز بنانے کے بعد لاہیرو گاماگے کی پہلی وکٹ بنے۔ خرم منظور کی آمد کے بعد 12 ویں اوور تک مجموعہ تو 47 رنز تک پہنچ گیا لیکن اسرار اللہ کی مزاحمت اسی اوور میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ جنہوں نے 31 گیندوں پر 25 رنز بنائے۔ پاکستان کو تیسرا نقصان 17 ویں اوور میں اٹھانا پڑا جب خرم مونظور بھی 24 رنز تک محدود ہوگئے۔

یہاں کپتان فواد عالم نے عمر امین کے ساتھ مل کر حالات کو کچھ سنبھالا دیا۔ دونوں نے چوتھی وکٹ پر 62 رنز جوڑے اور جب مقابلے میں واپسی کی کرن نظر آنے لگی تو یکدم اندھیرا چھا گیا۔ پہلے عمر امین شیہان جے سوریا کی گیند پر انہی کو کیچ دے بیٹھے۔ انہوں نے 50 گیندوں پر 32 رنز بنائے۔ پھر نچلا مڈل آرڈر، جس سے پاکستان کو کافی امیدیں تھیں، ناکام ہوا۔ سعد نسیم محض دو رنز بنا سکے جبکہ فواد عالم 74 گیندوں پر 58 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تو اسکور بورڈ پر صرف 167 رنز موجود تھے۔ عماد وسیم کے 35 رنز نے کسی نہ کسی طرح پاکستان 'اے' کو 200 کا ہندسہ عبور کرنے کی توفیق دی۔ کچھ ہی دیر بعد انہی کی صورت میں پاکستان کا آخری کھلاڑی بھی آؤٹ ہوگیا۔ سری لنکا 'اے' کی جانب سے دشمنتھا چمیرا نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو، دو کھلاڑیوں کو لاہیرو گاماگے اور شیہان جے سوریا نے آؤٹ کیا۔

204 رنز کے معمولی ہدف کا تعاقب سری لنکا 'اے' کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، یعنی یعنی کوسال پیریرا کا۔ گو کہ پاکستان نے میر حمزہ اور ضیاء الحق کی بدولت دو وکٹیں جلد حاصل کرلیں لیکن پیریرا اور پریانجن کی 152 رنز کی شراکت داری نے مقابلے کو پاکستان 'اے' کی گرفت میں نہ آنے دیا۔ پیریرا نے صرف 88 گیندوں پر 114 بنائے اور اس وقت ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے جب سری لنکا 'اے ہدف سے محض 20 رنز کے فاصلے پر تھا۔ کپتان پریانجن 77 گیندوں پر 57 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے یہاں تک کہ 33 ویں اوور میں ہی ہدف حاصل کرلیا۔

پاکستان کے نوجوان گیندباز اپنی کارکردگی سے متاثر کرنے میں ناکام رہے۔ میر حمزہ نے 9 اوورز میں 55 رنز دیے جبکہ ضیاء الحق کو 7 اوورز میں 36 رنز پڑے۔ شاہزیب احمد کو 7.2 اوورز میں 64 رنز کی مار پڑی جبکہ بلاول بھٹی نے 5 اوورز میں 34 رنز دیے۔

تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کا دوسرا معرکہ 29 اپریل کو ہمبنٹوٹا میں ہوگا۔ جس کے بعد دو ٹیسٹ کھیلے جائیں گے۔

پاکستان کے لیے یہ دورہ اس لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ قومی کرکٹ ٹیم نے جون و جولائی کے مہینے میں سری لنکا ہی جانا ہے اور 'اے' ٹیم کے اس دورے میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کے انتخاب کو ترجیح دی جائے گی۔

Facebook Comments