سنگاکارا ایک عظیم کھلاڑی، اعدادوشمار کی نظر سے

جہاں کرکٹ میں پیسوں کی ریل پیل نے درحقیقت کھیل کو اس کی اصل روح سے دور کردیا ہے، وہاں نامور کھلاڑیوں کی پے در پے رخصتی بھی اس کھیل میں 'قدامت پسندوں' کی دلچسپی کا خاتمہ کررہی ہے۔ دنیائے کرکٹ کے لیے تازہ ترین نقصان سری لنکا کے عظیم بلے باز کمار سنگاکارا کا ہے جو بھارت کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کے ساتھ ہی کھیل سے رخصت ہوجائیں گے۔ گو کہ آخری مقابلے میں وہ کوئی یادگار کارکردگی نہیں دکھا پائے۔ پہلی اننگز میں 32 اور دوسری میں 18 رنز کی باریاں اپنے اختتام کو پہنچیں لیکن اس کے باوجود سنگاکارا کی عظمت پر کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ آخر سنگاکارا کو دورِ جدید کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں کیوں شمار کیا جاتا ہے؟ اس کے لیے ہمیں ان کے کیریئر پر نظر ڈالنا پڑے گی۔

ٹیسٹ کیرئیر

37 سالہ وکٹ کیپر بلے باز نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا 2000ء میں گال کے میدان پر جنوبی افریقہ کے خلاف کیا تھا اور 2001ء میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسی میدان پر بھارت کے خلاف بنائی تھی۔ مجموعی طور پر سنگا نے ٹیسٹ کرکٹ میں 38 سنچریاں اسکور کیں اور اس لحاظ سے وہ بھارت کے سچن تنڈولکر، جنوبی افریقہ کے ژاک کیلس اور آسٹریلیا رکی پونٹنگ کے بعد سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بلے باز ہیں۔ سچن نے 51، کیلس نے 45 اور رکی نے 41 ٹیسٹ سنچریاں بنائی تھیں۔

بڑی اننگز کھیلنا گویا سنگاکارا کی عادت تھی۔ 38 سنچریوں کے ساتھ ان کی نصف سنچریوں کی تعداد محض 52 ہے یعنی انہوں نے 90 مرتبہ پچاس کا ہندسہ عبور کیا اور 38 بار تہرے ہندسے میں جاکر دم لیا۔ یہی نہیں بلکہ ڈبل اور ٹرپل سنچریوں تک بھی جا پہنچے۔ درحقیقت سنگاکارا کے شاندار کیریئر کے حسن میں مزید اضافہ ڈبل سنچریوں کی قابل رشک تعداد کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 11 ڈبل سنچریاں بنائیں یعنی ڈان بریڈمین کے سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں۔ ڈان آج بھی 12 ڈبل سنچریوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔ سنگا ضرور اس فہرست میں سب سے اوپر ہوتے اگر وہ تین مرتبہ ڈبل سنچری کے بہت قریب پہنچ کر مکمل نہ کرپاتے۔ ایک مرتبہ تو ان کی بدقسمتی دیکھیں کہ 199 رنز پر ناٹ آؤٹ موجود تھے لیکن دوسرے اینڈ سے آخری وکٹ گرگئی اور یوں انہیں 199 رنز پر ناقابل شکست میدان سے لوٹنا پڑا۔ اس کے علاوہ وہ دو مرتبہ صرف 8 رنز کے فاصلے سے ڈبل سنچری نہ بنا سکے۔

kumar-sangakkara

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی دوڑ میں سنگاکارا پانچویں نمبر پر ہیں۔ 134 ٹیسٹ مقابلوں میں سنگا نے 57.40 کے اوسط کے ساتھ 12 ہزار 400 رنز بنائے ہیں۔ یوں وہ سچن تنڈولکر، رکی پونٹنگ، ژاک کیلس اور راہول ڈریوڈ کے بعد آتے ہیں۔

سنگاکارا ڈریوڈ کے بعد غالباً واحد بلے باز ہوں گے جن کا تقریباً تمام ہی ٹیموں کے خلاف ریکارڈ بہت عمدہ ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف 95 رنز کا اوسط سب سے نمایاں ضرور ہے لیکن پاکستان کے خلاف بلے بازی ہمیشہ سنگاکارا کو پسند رہی۔ 23 مقابلوں میں تقریباً 75 کے اوسط کے ساتھ 2911 رنز اور 10 سنچریاں۔ عرصے تک پاکستان کی سری لنکا کے خلاف ناکامیوں کا سبب شاید یہی سنگاکارا ہوں گے۔ بہرحال، بھارت کے خلاف اتنا اچھا نہ ہونے کے باوجود قالب ذکر ضرور ہے۔ 16 ٹیسٹ مقابلوں میں 54 کے اوسط سے 1302 رنز انہوں نے بھارت کے خلاف بنائے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف تقریباً 48، نیوزی لینڈ کے خلاف 49، انگلستان کے خلاف 40، آسٹریلیا کے خلاف 44، ویسٹ انڈیز کے خلاف 54 اور زمبابوے کے مقابلے میں 89 کے اوسط کے ساتھ رنز بنانا ثابت کرتا ہے کہ سنگاکارا کا کوئی جواب نہیں۔

دیگر بلے بازوں کے مقابلے میں سنگاکارا کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف ’’گھر کے شیر‘‘ نہیں تھے۔ حریف کے میدان پر بھی وہ خوب دھاڑتے تھے۔ سری لنکا کے میدانوں 75 ٹیسٹ مقابلوں میں 60 کا اوسط تو عمدہ ہے ہی، لیکن حریف کے میدان پر 53 مقابلوں میں 53 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ 4888 رنز اور نیوٹرل میدانوں پر 62 رنز کے اوسط کے ساتھ بلے بازی ثابت کرتی ہے کہ میدان کوئی بھی ہو، سنگاکارا گیندبازوں کے لیے ڈراؤنا خواب تھے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں جو قابل ذکر ریکارڈز سنگاکارا کے ہاتھ میں ہیں ان میں اپنے پرانے ساتھی مہیلا جے وردھنے کے ساتھ طویل ترین شراکت داری کا ریکارڈ سب سے نمایاں ہے۔ دونوں بلے بازوں نے 2006ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف کولمبو کے مقام پر 624 رنز جوڑے تھے۔ سنگاکارا نے اس اننگز میں 287 رنز بنائے تھے جبکہ جے وردھنے کی اننگز 374 پر مکمل ہوئی تھی۔ سری لنکا شاندار کارکردگی کی بدولت ایک اننگز اور 153 رنز سے کامیاب ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی کنگز، سویا ہوا شیر جاگ گیا

رنز کے اعتبار سے سنگاکارا کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 319 رنز کی تھی جو انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف چٹاگانگ میں کھیلی۔

بطور وکٹ کیپر 48 مقابلوں میں سنگاکارا نے 144 شکار بھی کیے جبکہ مجموعی طور پر پکڑے گئے 182 میں سے 124 کیچ انہوں نے وکٹ کیپر کی حیثیت سے پکڑے۔

مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چکھے کیچز اسٹمپنگز
134 12400 319 5740 38 52 1491 51 182 20

ایک روزہ کیرئیر

سنگاکارا نے اپنے ایک روزہ کیریئر کی شروعات بھی 2000ء میں ہی کی، بلکہ گال کے میدان سے ہی کی البتہ پہلا حریف پاکستان تھا۔ ایک روزہ کرکٹ میں سنگاکارا کا سفر 15 سال جاری رہنے کے بعد عالمی کپ 2015ء کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا اور شاید اس فارمیٹ میں سنگاکارا سے زیادہ بدقسمت کھلاڑی کوئی نہیں ہوگا۔ دو عالمی کپ فائنل کھیلنے کے باوجود وہ دنیائے کرکٹ کی سب سے بڑی ٹرافی جیتنے میں ناکام رہے۔ سنگاکارا نے کس عروج پر کرکٹ کو خیرباد کہا، اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ عالمی کپ میں انہوں نے مسلسل 4 مقابلوں میں 4 سنچریاں بنائیں اور یہ کارنامہ انجام دینے والے تاریخ کے پہلے کھلاڑی بنے۔ ملبورن میں بنگلہ دیش کے ناقابل شکست 105رنز کے بعد ویلنگٹن میں انگلستان کے خلاف ناٹ آؤٹ 117، آسٹریلیا کے خلاف سڈنی میں 104 اور ہوبارٹ میں اسکاٹ لینڈ کے مقابلے میں 124 رنز نے انہیں ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں دوسرے نمبر تک پہنچایا۔ سری لنکا کی مجموعی کارکردگی مایوس کن رہی لیکن سنگاکارا نمایاں رہے اور اسی حیثیت کے ساتھ ایک روزہ کرکٹ سے رخصت ہوئے۔

مجموعی طور پر کمار سنگاکارا نے 404 ایک روزہ مقابلے کھیلے اور 41.98 کے اوسط کے ساتھ 14 ہزار 234 رنز بنائے۔ وہ سچن تنڈولکر کے بعد سب سے زیادہ ون ڈے رنز بنانے والے بلے باز ہیں جبکہ سب سے زیادہ سنچریوں میں ان کا نمبر چوتھا ہے۔ سنگا کی سنچریوں کی تعداد 25 رہی جبکہ 93 مرتبہ انہوں نے نصف سنچریاں بنائیں۔

سنگاکارا نے اپنے بیشتر ایک روزہ مقابلے وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھیلے۔ 404 میں 360 مقابلے ایسے تھے جن میں وہ وکٹوں کے پیچھے ذمہ داریاں نبھاتے دکھائی دیے۔ یہاں انہوں نے 383 کیچ اور 99 اسٹمپڈ بھی کیے۔ یوں ان کے مجموعی شکاروں کی تعداد 482 تک جا پہنچتی ہے۔ اگر بطور فیلڈر کیچز بھی شمار کریں تو سنگا کے کل کیچز کی تعداد ہی 402 تک پہنچ جاتی ہے۔

مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے کیچز اسٹمپنگز
404 14234 169 41.98 25 93 1385 88 402 99

ٹی ٹوئنٹی کیرئیر

سنگاکارا کے بارے میں یہ کہا جائے یہ ہر طرز کی کرکٹ کے لیے موزوں ترین چند کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، تو غلط نہ ہوگا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سنگاکارا کی کارکردگی کا معیار آپ نے دیکھ لیا، ایک روزہ کا جائزہ بھی لے لیا اور تقریباً یہی معاملہ مختصر ترین طرز کی کرکٹ یعنی ٹی ٹوئنٹی میں ہے، جہاں سنگاکارا بہت خوش نصیب بھی واقع ہوئے کہ اپنے کیریئر کے بالکل اختتامی لمحات میں سری لنکا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بنا۔

56 مقابلوں میں 34 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ 1382 رنز اور 119 سے بڑھا ہوا اسٹرائیک ریٹ، یہ ہے سنگا کے زبردست اعدادوشمار۔ بنگلہ دیش میں ہونے والا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء اس طرز میں ان کا آخری ٹورنامنٹ تھا، جس سے قبل ہی انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا۔ سری لنکا جو سنگا کی موجودگی میں دو مرتبہ ایک روزہ عالمی کپ کے فائنل تک پہنچا تھا، 2014ءمیں تیسری بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل تک بھی پہنچا اور بالآخر اس مرتبہ سری لنکا کو کامیابی نصیب ہوئی اور اس طرز کی کرکٹ سے سنگاکارا کو شایانِ شان انداز میں رخصت کیا گیا۔

مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے کیچز اسٹمپنگز
56 1382 78 31.40 8 139 20 25 20

اعزازات

اعزازات کے پیمانے پر سنگاکارا کو ناپا جائے تو یہ عظیم کھلاڑی کسی سے پیچھے نہیں دکھائی دیتے۔ 2011ءمیں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے سال کے بہترین ایک روزہ کھلاڑی کا اعزاز جیتا بلکہ عوام کے پسندیدہ کھلاڑی کی ٹرافی بھی انہی کے نام رہی، جو اگلے سال بھی سنگاکارا نے ہی جیتی۔ 2012ء میں کرکٹ کے معروف جریدے وزڈن نے آپ کو سال کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا اور ساتھ ہی آئی سی سی کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی اور بہترین کھلاڑی کے بڑے اعزازات بھی آپ ہی کو ملے۔ 2013ء میں سنگاکارا کو سال کے بہترین ایک روزہ کھلاڑی کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

Facebook Comments