تھارنڈو کوشال کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض

سری لنکا تیسرے ٹیسٹ میں شکست کے ساتھ ہی 22 سال بعد اپنی سرزمین پر بھارت کے ہاتھوں سیریز ہارا ہے۔ ٹیسٹ میں شکست کی خفت کے بعد ابھی سنبھلا ہی نہیں تھا کہ ٹیم کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے۔ ابھرتے ہوئے آف اسپنر تھارنڈو کوشال کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ کولمبو میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ کے بعد امپائروں نے کوشال کے ایکشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے رپورٹ کردیا ہے۔

اب کرکٹ قوانین کے تحت نوجوان اسپنر کو 14 دن کے اندر اندر آئی سی سی کی منظور شدہ کسی بھی تنصیب میں اپنے باؤلنگ ایکشن کی جانچ کروانا ہوگی البتہ وہ اس عرصے میں بھی، اور جانچ کے نتائج آنے تک، بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے اہل ہوں گے۔ باؤلنگ ایکشن غیر قانونی ثابت ہونے پر انہیں تب تک پابندی کا سامنا کرنا ہوگا جب تک وہ ایکشن کو تبدیل کرکے اسے آئی سی سی کی قانونی حدود میں نہیں لے آتے۔

22 سالہ کوشال سری لنکا کے باؤلنگ اسکواڈ کے مستقل رکن بننے کے بہت قریب تھے۔ دسمبر 2014ء میں پہلا ٹیسٹ کھیلنے کے بعد سے اب تک وہ 6 مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں اور انہیں رنگانا ہیراتھ کے بعد سری لنکا کے اسپین اٹیک کے مرکزی کردار کی حیثیت سے تیار کیا جا رہا تھا۔ 6 ٹیسٹ میں 24 وکٹیں لینے والے کوشال کی بہترین کارکردگی جون 2015ء میں پاکستان کے خلاف رہی جب انہوں نے 42 رنز د ے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ جبکہ بھارت کے خلاف حالیہ سیریز میں انہوں نے تین میچز میں 13 وکٹیں لیں۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل بالخصوص آف اسپنرز کے خلاف سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ گزشتہ سال متعدد آف اسپنرز، خاص طور پر دوسرا پھینکنے والے ماہر گیندبازوں کو یکے بعد دیگرے مشکوک ایکشن کا حامل قرار دیا گیا اور چند پابندیوں کا نشانہ بھی بنے۔ ان میں دنیا کے بہترین اسپنرز سعید اجمل اور سنیل نرائن بھی شامل تھے جبکہ پاکستان کے محمد حفیظ بھی بعد میں اس فہرست کا حصہ بنے۔ جس طرح ان کھلاڑیوں پر پابندیاں عائد ہوئیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوشال کا بین الاقوامی کیریئر ابتداء ہی میں مرجھا جائے گا۔

Facebook Comments