محمد آصف تنقید پر خاموش نہ رہ سکے

اسپاٹ فکسنگ کے نیتجے میں 5 سال کی پابندی بھگتنے والے محمد آصف خود پر ہونے والی تنقید پر مزید خاموشی اختیار نہ کرسکے اور کہہ اُٹھے کہ جو کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت پر اعتراض کررہے ہیں یا ہمارے ساتھ کھیلنے کے خواہشمند نہیں، پہلے وہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا اُن کی ٹیم میں جگہ مستقل ہے؟ یا پھر وہ کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں موجود ہیں؟

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں آصف کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم پوری قوم کی نمائندگی کرتی ہے، یہاں کسی کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ یہاں ہر وہ کھلاڑی کھیل سکتا ہے جو اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔ جب تک آپ ٹیم کی فتح میں کردار ادا کرتے رہتے ہیں تب تک آپ ٹیم کا حصہ رہتے ہیں اور جب ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو آپ کی جگہ کسی اور کو مل جاتی ہے۔ بس اگر ہم ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا کھیلنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور سلیکشن کمیٹی کو ایسا لگتا ہے کہ ہم ٹیم کی فتح میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں تو ہمیں ضرور موقع ملے گا قطع نظر اِس کے کونسا کھلاڑی ہمارے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے اور کونسا کھلاڑی نہیں۔

آصف نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اِس بات سے قطعی طور پر کوئی پریشانی یا افسوس نہیں کہ چند کھلاڑیوں نے بورڈ کو لکھا ہے کہ وہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتے کیونکہ یہ اُن کی ذاتی رائے ہے اور ذاتی رائے کے اظہار کا حق تو سب کو ہے۔

سابق کھلاڑیوں کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنے کے مطالبے پر آصف کا کہنا تھا کہ جو لوگ ہم پر تنقید کررہے ہیں وہ سلیکٹرز نہیں ہے اور وہ یہ اُمید کرتے ہیں کہ کسی کی بھی رائے کا اثر کھلاڑیوں کی سلیکشن پر نہیں پڑے گا۔ آصف مزید کہتے ہیں جو سابق کھلاڑی ہماری ٹیم میں شمولیت کے مخالف ہیں اُس سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں سابق کھلاڑی یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ ہمیں ایک موقع ضرور ملنا چاہیے۔

آصف مزید کہتے ہیں کہ اُنہیں اِس بات سے کبھی بھی کوئی سروکار نہیں رہا کہ کون اُن پر تنقید کرتا ہے اور نہ ہی وہ تنقید سے کبھی پریشان رہے ہیں بلکہ تنقید تو اُن کے حوصلوں کو بڑھاتی ہے اور وہ تنقید کرنے والوں کو غلظ ثابت کرنے کے لیے مزید محنت کرتے ہیں۔

جب آصف سے اُن کی فٹنس کے بارے میں پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ ذہنی طور بھی اور جسمانی طور پر بھی مکمل طور پر فٹ ہیں اور ٹیم کی نمائندگی کے لیے بالکل تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم میں شمولیت کے لیے فٹنس کو مزید بہتر کرنے کے لیے اہداف دیے ہیں جن کے حصول کے لیے اُنہوں نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ کا آغاز بھی کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں چیف سلیکٹر ہارون رشید نے واضح طور پر یہ بیان دیا تھا کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے لیے فی الحال ٹیم میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہارون رشید کا کہنا تھا کہ تینوں کھلاڑیوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اُن سے کتنی بڑی غلطی ہوئی ہے جس کی سزا پوری قوم نے بھگتی ہے۔

Article Tags

Facebook Comments